پیلی بھیت: بھیڑ بکریاں کدھر جائیں گی؟

انڈیا
،تصویر کا کیپشنپیلی بھیت میں پسماندہ طبقات کی کافی آبادی ہے
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پیلی بھیت

وسطی اترپردیش میں نیپال کی سرحد پر واقع پیلی بھیت شہر سے اگرگزریں تو آپ کو کوئی غیر معمولی بات نظر نہیں آئے گی۔ یہاں زندگی جیسے ستر کی دہائی میں رکی ہوئی ہے۔

لیکن مقامی لوگوں سے ذرا دیر بات کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ورون گاندھی سے منسوب مسلم مخالف نفرت آمیز بیانات کا معاشرے پر کیا اثر ہوا ہے۔

پیلی بھیت سے سابق رکن اسمبلی اور بی جے پی کے لیڈر بی کے گپتا کہتے ہیں کہ: ’ہندو مسلم کا ڈویژن تو ہو ہی گیا ہے، ہندو ہندو کو ووٹ دے گا، مسلمان مسلمان کو۔۔۔لوگوں میں اس بات کا بھی ری ایکشن ہے کہ یہاں سے ریاستی اسمبلی کے چار میں سے تین ارکان مسلمان ہیں جو مسلم آبادی کے تناسب کا عکاس نہیں ہے ۔۔۔ لوگ اس سازش کو اب سمجھ رہے ہیں‘۔

مقامی مسلمانوں سے بات کریں تو تقریباً ہر شخص کی زبان پر ایک ہی بات ہے: آپس کے تعلقات پر تو کوئی خاص اثر نہیں، کشیدگی بھی زیادہ نہیں لیکن بی جے پی جو چاہتی تھی وہ مقصد اس نےحاصل کرلیا ہے۔

ڈاکٹر شامین راجہ پیلی بھیت میں پریکٹس کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جب ورن گاندھی نے یہ تقاریر کیں تو بہت خوف تھا لیکن اب حالات کچھ بہتر ہوئے ہیں لیکن ماحول تو (بی جے پی ) جیسا ہی قائم کر دیا گیا جیسا بابری مسجد کی مسماری کے وقت تھا۔ سیٹ ورن کی پہلے بھی کلیئر تھی اب اور کلیئر ہوگئی۔ان کی جیت میں کوئی شبہ ہی نہیں تھا۔ انہیں یہ سب کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی‘۔

تقریباً انہیں خیالات کی عکاسی اور بھی بہت سے مقامی مسلمان کرتے ہیں۔ ورن گاندھی نے جو کچھ کہا ’ وہ سب سیاست ہے، الیکشن کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔۔۔ یہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔ مسلمان بھی (ورون کی والدہ) منیکا گاندھی کو ووٹ دیتے تھے لیکن اب نہیں دیں گے۔' تیرہ لاکھ لوگوں کے پیلی بھیت حلقے میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ مسلم ووٹر ہیں۔ اگر الیکشن ہندو مسلم کی بنیاد پر ہوتا ہے، جیسا کہ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ ہوگا، تو ورون گاندھی کے ہارنے کا کوئی حساب نظر نہیں آتا۔ لیکن کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ہندوؤں کے پڑھے لکھے طبقے نے ورون گاندھی سے منسوب کیے جانے والے بیانات کو سخت ناپسند کیا ہے، اور وہ انہیں ووٹ نہیں دیں گے۔

افروز جیلانی تاجر بھی ہیں اور مقامی سیاستدان بھی۔ ان کا کہنا ہےکہ منیکا گاندھی نے حلقے میں کوئی کام نہیں کرایا، لوگ اس سے ناراض تھے، اسی لیے اپنی ووٹ متحد کرنے کے لیے ’یہ نیا گیم کھیلا گیا۔۔۔ لیکن (ہندوؤں میں) جو پڑھے لکھے لوگ ہیں وہ اس کے سخت خلاف ہیں‘۔

پڑھے لکھے لوگ کیا کریں گے کہنا مشکل ہے لیکن عام ہندوؤں سے اگر بات کریں تو ان کی وفاداریاں بالکل واضح ہیں۔گجرولہ گاؤں کے دھرم پال کہتے ہیں کہ ’ورون کی سو فیصد جیت ہوگی۔ تمام برادریاں ان کے ساتھ ہیں ( پیلی بھیت میں پسماندہ طبقات کی کافی آبادی ہے)۔ ہر برادری کہہ رہی ہے کہ: ’ووٹ ورون کو ہی دینا ہے۔۔۔ جنتا کا رخ بتا رہا ہے کہ لاکھوں ووٹ سے جیت ہوگی‘۔ پویتر کمار ایک وکیل ہیں۔ وہ الفاظ کی باریکیوں میں نہیں الجھتے۔ ’ہندوستان میں ہندوتوا کا راج ہے۔۔۔ ورون نے جو کہا ہے صحیح کہا ہے۔۔۔ ان پر قومی سلامتی قانون نہیں لگنا چاہیے تھا‘۔

ورن گاندھی
،تصویر کا کیپشنورن گاندھی مسلم مخالف تقریر کے بعد اب جیل میں ہیں

لیکن پیلی بھیت کی کچہری میں ہی موجود ایک اور وکیل ستیندر ترپاٹھی نے دو ہی جملوں میں پوری کہانی سمیٹ دی۔ ’۔۔۔ جو پڑھا لکھا طبقہ ہے وہ ذرا سوچ سمجھ کر ووٹ دیگا، باقی سب بھیڑ بکریوں کی طرح چلیں گے۔

بھیڑ بکریاں کس طرف جائیں گی؟ ’بھیڑ بکریاں تو آپ سمجھتے ہی ہیں کس طرف جائیں گی‘۔ ’پھر بھی بتائیں، میں اتنا سمجھدار نہیں ہوں‘۔ ’ آپ زیادہ سمجھدار ہیں۔ ہندوتوا کی لہر ہے، اس وقت وہ نمبر ایک پر ہے، سب لوگ جانتے ہیں جو پروپیگنڈا کیا گیا وہ اسی لیے کیا گیا کہ آدمی اس لہر میں بہہ جائے۔۔۔‘

لیکن ایک تاثر جگہ جگہ نظر آیا۔ ورن ان نفرتوں کے نتیجے میں الیکشن تو جیت سکتے ہیں لیکن انہوں نے اپنی شبیہ برباد کر لی ہے۔ پیلی بھیت کی خوبصورت جامع مسجد کے امام اظہار احمد برکاتی شاید مقامی مسلمانوں کی آرزوؤں کی ترجمانی کرتے ہیں: ’یہی عوام ہیں جنہوں نے انہیں (منیکا کو) یہ مقام دیا تھا، یہی عوام چاہیں گے تو انہیں نیچا بھی دکھا سکتے ہیں‘۔

عوام کا فیصلہ کیا ہے یہ سولہ مئی کو ہی معلوم ہوگا۔