’دی گالی پروجیکٹ‘: غصہ مرد پر گالی عورت کو، یہ اب بند ہونا چاہیے؟

گالی کلچر
    • مصنف, سوشیلا سنگھ
    • عہدہ, بی بی سی نامہ نگار

جب بھی کوئی بحث جھگڑے میں تبدیل ہونے لگتی ہے تو گالیوں کی بوچھاڑ بھی شروع ہو جاتی ہے۔ یہ بحث یا جھگڑا دو مردوں کے درمیان بھی ہو رہا ہو تب بھی گالیاں خواتین ہی سے منسوب ہوتی ہیں۔ عمومی طور پر گالیوں کا مرکزی خیال خواتین ہی ٹھہرتی ہیں۔

اس طرح کی گالیوں کو لوگوں کی زبان سے ہٹانے کے مقصد سے دو نوجوان خواتین نے ’دی گالی پروجیکٹ‘ شروع کیا ہے تاکہ لوگوں کو ایسی گالیوں کے ممکنہ متبادل دیے جا سکیں۔

اس پراجیکٹ سے منسلک ممبئی کی نیہا ٹھاکر کہتی ہیں کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اوور دی ٹاپ (او ٹی ٹی) پلیٹفارمز یا آن لائین پر جو سیریز آ رہی ہیں ان میں سے زیادہ تر میں زبان بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔

جب ہم نوجوانوں یا دیگر افراد سے گالی کے استعمال پر ردعمل بھی مانگتے تھے تو وہ کہتے تھے کہ اس میں حرج ہی کیا ہے، ’اِٹس فار فن!‘ یعنی یہ تو بس ہنسی مذاق کے لیے ہے۔

نیہا کے مطابق ’آج کل کے ماحول میں ویسے غصہ اور گالی دینے کی وجوہات کئی ساری ہیں، جیسے حکومت سے ناراضی، آنے جانے میں پریشانی، نوکری، رشتے۔ لوگوں میں چڑچڑاہٹ اور غصہ اتنا ہے کہ بغیر سوچے سمجھے ہی گالیاں ان کی زبان پر ناچنا کرنا شروع کر دیتی ہیں۔

تو گالی پروجیکٹ کا مقصد یہ ہے کہ غصہ نکالنے کے لیے جو گالیاں لوگ دے رہے ہیں اس میں تھوڑی آگاہی لائی جائے۔

دو مردوں کے درمیان ہونے والی لڑائی میں عورت پر گالی، ذات یا مذہب کی بنیاد پر دی جانے والی گالی کے استعمال کی جگہ ایسی گالیاں استعمال کی جائیں جس سے سامنے والے کو بھی برا نہ لگے اور آپ کا کام بھی ہو جائے۔

ہماری کوشش گالیوں کا ایسا مجموعہ تیار کرنا ہے جو عورت مخالف نہ ہو، ذات یا مذہب کے خلاف متعصب، یا تضحیک آمیز نہ ہو۔‘

یہ بھی پڑھیے

اس پروجیکٹ کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے کمیونِکیشنز کنسلٹنٹ تمنا مشرا کہتی ہیں کہ ہم لوگوں کو گالیاں دینے سے روک نہیں رہے ہیں۔ ہم انھیں ایسے الفاظ کا آپشن دے رہے ہیں جن کے ذریعے آپ اپنی بات بھی کہہ دیں اور وہ مزے دار یا مزاحیہ بھی ہوں۔

وہ کہتی ہیں ’اس پراجیکٹ کو شروع کرنے کے لیے ہم نے ایک گوگل فارم بنایا اور اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور لوگوں سے کہا کہ اس فارم میں وہ ان گالیوں کو لکھتے رہیں جو انھیں پسند ہوں لیکن یہ گالیاں خواتین، ذات اور مذہب کو نشانہ نہ بناتی ہوں۔

ہمیں تقریباً آٹھ سو الفاظ ایسے ملے جس میں چالیس فیصد ایسے تھے جو ذات یا صنف کی بنیاد پر تعصب ظاہر کرتے ہیں یعنی وہ خواتین مخالف تھے۔ لیکن تقریباً پانچ سو ایسے الفاظ یا گالیاں تھیں جنھیں صاف ستھرا یا ’کلین‘ کہا جا سکتا تھا۔‘

اس فہرست میں جمع کیے گئے الفاظ کے معنی کو سمجھنے کے لیے نیہا اور تمنا نے پہلے ان ریاستوں میں رہنے والے دوستوں اور ماہرین سے بات کی۔

الفاظ کو سمجھنے اور پرکھنے کے بعد انھوں نے ان الفاظ کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا شروع کیا۔ ان کے مطابق زیادہ تر لوگوں کا ردعمل اچھا رہا لیکن کچھ کا کہنا تھا کہ ایسی ’کلین‘ گالی دے کر انھیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ انھوں نے گالی دی ہے۔

تمنا مشرا کا کہنا ہے کہ ہم انسٹاگرام اور فیس بک جیسے سوشل پلیٹ فارم پر ایسے الفاظ کی میمز ڈالتے ہیں تاکہ لوگ انھیں دیکھیں۔

’ہم گالی کے لفظ کو بدل کر لوگوں کی سوچ بدلنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ اس میں بہت وقت لگے گا لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ تبدیلی ہمیشہ سختی سے ہی نہیں آتی۔ کچھ تبدیلیاں مزے میں بھی ہو سکتی ہیں اور یہی ہماری کوشش ہے۔ جیسے کچھ الفاظ ہمیں دلچسپ یا مزاحیہ لگے تو ہم نے سوشل میڈیا پر ڈال دیے تاکہ لوگوں کی عادت مزے لیتے لیتے بدل جائے۔

انڈیا

،تصویر کا ذریعہNEHA THAKUR

،تصویر کا کیپشننہیا ٹھاکر

تمنا اور نیہا اپنے طریقے سے لوگوں کی گالی دینے کی ذہنیت میں تبدیلیلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

وہ مستقبل میں ایک کتاب کی شکل میں اس گالیوں کا ایک مجموعہ بنانا چاہتی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ گالیاں دینے کی شروعات اور اس میں خواتین کو نیچا دکھانے کے رجحان کا آغاز کہاں سے ہوا ہو گا؟

ماہرین کا خیال ہے کہ گالیاں دینے کا رجحان زبان بننے کے بعد ہی شروع ہوا ہو گا۔

ہندی اور میتھلی ادب کی پدم شری انعام یافتہ مصنفہ اوشا کرن خان کہتی ہیں کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ گالیوں کا آغاز کب سے ہوا ہوگا لیکن ان کے خیال میں معاشرتی ارتقا کے ساتھ ہی اچھے اور بُرے کی سمجھ پیدا ہوئی ہوگی اور گالیوں کی شروعات بھی، کیونکہ ایک طرح سے غصہ ظاہر کرنے کا طریقہ ہیں۔

لوک گیتوں میں گالیاں

لوک گیتوں میں گالیوں کا استعنال ہوتا ہے۔ رشتہ داروں، دولہے کی پوپھو کو ہنسی مذاق میں گالیاں دی جاتی ہیں لیکن وہاں مقصد کسی کو نیچا دکھانا نہیں ہوتا بلکہ ایک طرح سے معاشرتی اور خاندانی ہم آہنگی کو بڑھانے کے لیے گالیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

پدمشری ڈاکٹر شانتی جین سنسکرت کی پروفیسر رہ چکی ہیں۔

ڈاکٹر جین مصنفہ اوشا کرن کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتی ہیں کہ شادی کے بعد جیونار گایا جاتا ہے جس میں گالیاں دینے کی روایت رہی ہے۔

وہ کہتی ہیں، ’اس کی مثال تلسی کی راماین مین بھی ملتی ہے۔

جب رام کی شادی ہوتی ہے تو سیتا کی بھابی بہت پیار سے ان سے مذاق کرتی ہیں اور گالیاں بھی دیتی ہیں۔ یہ میں پڑھ چکی ہون حالانکہ یہ آپ کو پرنٹ میں نہیں ملے گا۔ وہیں لوک ادب بھی کافی قدیم ہے۔

انڈیا
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر شانتی جین

لوگ جھگڑا کرتے تھے تو گالیاں بھی دیتے تھے۔ لیکن جب غصے میں گالیاں دی جاتی تھیں تو اس کا الگ ہی اثر ہوتا ہے۔‘

گالیوں کے استعمال پر اوشا کرن خان کہتی ہیں کہ پہلے ادب میں گالیاں نہیں تھیں۔ یہ زبانیں کافی نفیس ہوا کرتی تھیں، جیسے سنسکرت، پالی، پراکرت اور جنوبی انڈیا کی دیگر زبانیں، وہ عام زندگی کی زبانیں تھیں۔

ان میں تحریر میں گالیاں نظر نہیں ملتیں۔ سنسکرت میں گالیاں نہیں بس ’دشٹ` یعنی شیطان، اور ’کرپن` یعنی کنجوس جیسے الفاظ نظر آتے ہیں جو اس وقت کے لیے بہت بڑی گالیاں تصور کی جاتی تھیں۔ لیکن ایک ہزار سال بعد جب باہر سے لوگ آنے لگے اور آنا جانا بڑھنے لگا تو گالیوں میں بھی پیش رفت ہونے لگی ہوگی۔

لیکن گالیوں میں خواتین کا نام کیوں جوڑا جانے لگا؟

اس کے جواب میں وہ کہتی ہیں ’قدیم دور میں عورت اور مرد برابر تھے۔ لیکن پھر خواتین کی اہمیت کم ہونے لگی اور مردوں کی حکمرانی بڑھنے لگی، اور خواتین کی حفاظت کی ذمہ داری مردوں پر آنے لگی۔ آہستہ آہستہ خواتین ایسے دائرے میں محدود ہو گئیں، جہاں مردوں کے لیے عزت کا عنوان بن گئیں۔

یہ بھی دیکھا جانے لگا کہ راجہ بیٹیوں کو تاق پر رکھ دیتے تھے تاکہ وہ گر کر مر جائیں۔ نہ رہے گی بیٹی نہ کسی اور کے آگے ہاتھ پھیلانے پڑیں گے اور نہ انھیں کوئی بیٹی کی گالی دے گا۔ وہیں یہ بھی دیکھا گیا کہ جنگ میں کوئی ہار جاتا تھا تو وہ اپنی بیٹیوں کو دے دیتا تھا اور یہ گالیوں کی بنیاد بن گئی۔`

ان کے مطابق عورتوں کی حفاظت ایک بڑی بات بن گئی اور خواتین مردوں کی ملکیت بنتی چلی گئیں اور اس ملکیت کو گالی دی جانے لگی۔ یہ گالی دے کر مرد اپنی انا کو مطمئن کرتے ہیں اور دوسرے کو نیچا دکھاتے ہیں۔ اسی طرح یہ رجحان پیدا ہوا جو جدید دور تک آن پہنچا ہے۔

ماہر معاشیات اور پروفیسر بدری ناراین بھی کہتے ہیں کہ پہلے کے معاشرے میں یا قدیم قبائیلوں میں خواتین کا مقام کافی اونچا تھا لیکن پھر عورتوں کو عزت کی علامت کے طور پر دیکھا جانے لگا۔

عزت کو بچانا ہے تو اسے اندر رکھیے۔ خواتین معاشرے میں کمزور تصور کی جانے لگیں۔ آپ کسی کو نیچا دکھانا چاہتے ہیں، تنگ کرنا چاہتے ہیں تو ان کے گھر کی خواتین، ماں، بہن یا بیٹی کو گالیاں دینا شروع کر دیجیے اور وہ گالیوں کا نشانہ بننے لگیں۔

دی گالی پروجیکٹ

،تصویر کا ذریعہThe Gaali project-Instagram page

خواتین دوسرے درجے پر

اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈاکٹر شانتی جین کہتی ہیں کہ خواتین کی طاقت کی بات تو ہوتی ہے لیکن اب بھی خواتین دوئم درجے پر ہیں۔

پڑھی لکھی خواتین کا بھی استحصال ہو رہا ہے۔ اگر آپ کسی کی بے عزتی کرنا چاہیں تو آپ اس کے گھر کی خواتین کو گالی دے دیتے ہیں۔ یہ سب سے بڑی بےعزتی ہوتی ہے۔ اور وہ اس سے مردوں کی انا بھی مطمئن ہو جاتی ہے۔

کسی مرد سے بدلا لینا ہوگا تو کہیں گے کہ عورت کو اٹھا لیں گے۔ ایک عورت بےعزت کروانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

دلی یونیورسٹی میں ہندی ادب کی اسسٹنٹ پروفیسر نیرا کہتی ہیں کہ اگر غور سے دیکھا جائے تو گالیوں کو جس طرح خواتین سے منسوب کیا جاتا ہے اس طرح مردوں کے لیے کوئی گالی نہیں ملتی۔ اور یہ اب کی بہت نہیں تاریخ میں بھی ایسا ذکر نہیں ملتا۔

لوک ادب میں ایسے کئی محاورے ہیں جہاں خواتین، کسی ایک ذات یا رنگ کی بنا پر منفی تبصرے کیے جاتے رہے ہیں۔ وہیں خواتین کے لیے ویشیا، طوائف، ستی جیسے الفاظ کا استعمال ہوتا ہے لیکن ایسے لفظ مردوں کے لیے نہیں ملتے۔

سماج میں تحریروں کے ذریعے خواتین کا ایک عکس بنا دیا گیا ہے۔

پروفیسر بدری ناراین کی مطابق ہمارے معاشرے میں اقدار اور انسانیت کمزور ہوئی ہے حالانکہ خواتین کے حقوق کے لیے تحریکیں بھی چل رہی ہیں، آگاہی بھی بڑھ رہی ہے لیکن یہ گفتگو سماج کے ضمیر کو تبدیل نہیں کر پا رہی۔