گاؤ رکھشا کے نام پر انتہا پسندوں نے تین افراد کو مار مار کر ہلاک کردیا

،تصویر کا ذریعہReuters
مقامی پولیس کے مطابق انڈیا کی مشرق ریاست بہار کے ضلع ساران میں ایک ہجوم نے تین افراد کو گائیں چرانے کے الزام میں پکڑ کر مار مار کر ہلاک کردیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جمعہ کی صبح ہلاک ہونے والوں کو چور کہہ کر ایک گاؤں کے مقامی لوگوں نے پکڑ لیا تھا جب وہ بھینسوں اور ایک بچھڑے کو ایک ٹرک میں لاد رہے تھے۔
’گاؤ رکھشا‘ کے نام پر اقلیتوں اور دیگر پسماندہ طبقوں پر ہونے والے ہجوم کے حملوں کی کڑی کے سلسلے کا یہ تازہ ترین واقعہ ہے جس کے وجہ سے انڈیا کی اقلیتیں بہت پریشان ہیں۔
انڈیا کے اخْبار ’دی ہندو‘ کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت بدیس نات، راجو نات اور نوشاد قریشی کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کی رپورٹ کے مطابق، دو افراد تو ہجوم کے تشدد سے موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے جبکہ ایک نے ہسپتال پہنچ کر دم توڑا تھا۔
ہلاک ہونے والوں کا تعلق بھی مقامی علاقے سے تھا۔
یہ بھی پڑھیے:
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا میں ہندوؤں کا ایک بڑا طبقہ گائے کو ایک مقدس جانور قرار دیتا ہے اور اس کو ہلاک کرنا اپنے مذہبی عقائد کے خلاف سمجھتا ہے۔
ان تین افراد کی ہلاکت کے سلسلے میں پولیس نے تین مقامی لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ناقدین انتہا پسند ہندو جماعت بی جے پی کی حکومت پر انڈیا میں بڑھتے ہوئے تشدد کو نہ روکنے کی ذمہ داری عائد کرتے ہیں۔
سنہ 2014 سے لے کر اب تک انتہا پسند ہندوؤں کے حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ بی جے پی کی حکومت سنہ 2014 میں اقتدار میں آئی تھی۔ اب تک ان حملوں کے واقعات میں بہت ہی کم افراد کو سزائیں دی گئی ہیں۔
انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی پر اس حوالے سے تنقید بھی ہوئی ہے کہ وہ اس طرح کے حملوں کی موثر اور تیزی سے مذمت کرنے میں سست رہے ہیں۔









