انڈیا: جنسی ویڈیو پر بلیک میل کرنے کے الزام میں صحافی گرفتار

انڈیا کی مشرقی ریاست چھتیس گڑھ کی پولیس نے سینیئر صحافی ونود ورما کو مبینہ بلیک میل کے ایک کیس میں دلی کے قریب ان کے گھر سے جمعہ کی صبح گرفتار کیا ہے۔
ونود ورما لمبے عرصے تک بی بی سی کی ہندی سروس سے وابستہ تھے۔ ان پر چھتیس گڑھ کے ایک وزیر کی سیکس سی ڈی حاصل کرنے اور اس کی کاپیاں بنوانے کا الزام ہے۔ پولیس کا دعوی ہے کے ان کے گھر سے پانچ سو سی ڈی برآمد کی گئی ہیں۔
صحافیوں سے متعلق انڈیا سے مزید خبریں

ونود ورما ایڈیٹرز گلڈ کے رکن ہیں اور ہندی کے بڑے اخبار امر اجالا کے ڈیجیٹل ایڈیٹر بھی رہ چکے ہیں۔ گرفتار کیے جانے کے بعد انھوں نے کہا کہ ان کے پاس صرف ایک پین ڈرائیو ہے، سی ڈی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور انہیں اس کیس میں پھنسایا جا رہا ہے۔ مسٹر ورما نے یہ بھی کہا کہ مذکورہ سی ڈی پہلے ہی لوگوں کے پاس موجود ہے۔
چھتیس گڑھ میں بی جے پی کی حکومت ہے اور وہ انڈیا کی ان ریاستوں میں شامل ہے جہاں نکسلی باغی زیادہ سرگرم ہیں۔ ونود ورما کا بنیادی طور پر تعلق اسی ریاست سے ہی ہے اور وہ سماجی اور سیاسی امور پر کافی لکھتے رہے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل وہ ایڈیٹرز گلڈ کے ایک وفد کے ساتھ چھتس گڑھ گئے تھے جس نے ریاست میں صحافیوں کو درپیش مسائل پر ایک رپورٹ تیار کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گرفتاری کے بعد ونود ورما نے کہا کہ ’چھتیس گڑھ کی حکومت مجھ سے ناراض ہے۔‘
بتایا جاتا ہے کہ ونود چھتیس گڑھ میں کانگریس پارٹی کے سینیئر لیڈر بھوپن باگھیل کے رشہ دار ہیں۔ مسٹر باگھیل نے کہا کہ انہیں بھی ایک ریاستی وزیر کی سیکس سی ڈی حاصل ہوئی تھی اور جس انداز میں پولیس نے کارروائی کی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سی ڈی اصلی ہے۔
مسٹر باگھیل کے مطابق ’چھتیس گڑھ کی حکومت ونود ورما کی رپورٹنگ سے ناراض تھی اور یہ کارروائی صحافیوں کی آواز دبانے کے لیے کی گئی ہے۔‘
ادھر رائے پور میں متعلقہ وزیر نے کہا ہے کہ جس سی ڈی کا ذکر ہو رہا ہے وہ انھوں نے دیکھی ہے اور وہ پوری طرح فرضی ہے۔
ریاستی وزیر راجیس منڑ نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی بھی ادارے سے انکوائری کے لیے تیار ہیں۔
یہ خبر انڈیا میں ٹی وی چینلوں پر چھائی ہوئی ہے اور شہری حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے اسے پریس کی آزادی پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔ چھتیس گڑھ میں پیپلز یونین فار سول لبرٹیز نے کہا ہے کہ یہ پریس کی آزادی پر حملہ ہے اور اسے برادشت نہیں کیا جائے گا۔
دلی کی ایک عدالت سے ٹرانزٹ ریمانڈ مل جانے کے بعد مسٹر ورما کو اب چھتیس گڑھ کی راجدھانی رائے پور لے جایا جائے گا۔
ان کے خلاف مقدمہ بی جے پی سے وابستہ پرکاش بجاج نے کل ہی قائم کرایا تھا۔ رائے پور سے مقامی صحافی الوک پوٹل کے مطابق پرکاش بجاج کی ایف آئی آر میں ونود ورما کے نام کا ذکر نہیں تھا۔ انہوں نے پولیس کو اس دکان کا پتہ بتایا تھا جہاں مبینہ طور پر سی ڈی کی کاپیاں بنائی جارہی تھیں۔ پولیس کے مطابق اس دکان سے انہیں ونود ورما کا نمبر ملا تھا۔
مسٹر ورما کی گرفتاری کے بعد ریاست میں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور بی جے پی کا الزام ہے کہ اس کے خلاف یہ سازش کانگریس نے تیار کی ہے۔









