معمولی جھگڑا، تلوار سے لڑکی کا ہاتھ کاٹ دیا

،تصویر کا ذریعہSHARAD
- مصنف, سمیراتمج مشر
- عہدہ, لکھنؤ سے بی بی سی ہندی کے لیے
انڈین ریاست اتر پردیش کے لکھیم پور ضلع میں ایک شخص نے 13 سالہ لڑکی پر تلوار سے حملہ کر کے اس کے ایک ہاتھ کی ہتھیلی کاٹ دی۔ متاثرہ کے جسم پر اور بھی کئی بڑے زخم آئے ہیں۔ اس کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے اور ہسپتال میں اس کا علاج چل رہا ہے۔
لکھیم پور کے پولیس سپریٹینڈینٹ ایس چینپا نے بی بی سی کو بتایا کہ مشتبہ شخص کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے اور ہسپتال میں لڑکی کے علاج کے لیے ہر ممکن مدد کی جا رہی ہے۔
جس وقت لڑکی پر حملہ ہوا وہ اپنی نابینا والدہ کے ساتھ اپنے ماموں کے گھر جا رہی تھی۔
پولیس نے بتایا کہ ابھی تک حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق حملے کی وجہ موبائل چارجر یا سم پر جھگڑا تھا۔ اسی بحث کے بعد حملہ آور نے لڑکی پر تلوار سے حملہ کیا۔ لیکن پولیس دیگر پہلوؤں کی بھی تفتیش کر رہی ہے کیوں کہ شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑکی کو پہلے بھی پریشان کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہSharad
مخالفت پر ہوا حملہ
لکھیمپور شہر کے بابو رام سراف نگر میں رہنے والی متاثرہ جب اپنی ماں کے ساتھ گزر رہی تھی تو مشتبہ لڑکے نے اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کی۔
بتایا جا رہا ہے کہ لڑکی نے جب اس پر اعتراض کیا تو لڑکا تلوار لے کر آ گیا اور سڑک پر لڑکی کے پیچھے دوڑنے لگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی لوگوں نے بتایا کہ اسی دوران اس نے لڑکی پر تلوار سے حملہ کر دیا۔ بعد میں مقامی لوگوں نے ہی لڑکے کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔
قریب ہی رہنے والے لڑکی کے ماموں سوشیل کمار ترویدی کی شکایت پر پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔
سوشیل کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ لڑکی اپنی ماں کے ستاھ فون کی بیٹری چارج کرنے کے لیے ان کے گھر آ رہی تھی۔ جس لڑکے کو پولیس نے گرفتار کیا ہے وہ پہلے بھی کئی بار لڑکی کے ساتھ چھیڑ خانی کر چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کی حملہ آور شخص کے ساتھیوں نے پچھلے دنوں لڑکی کے بھائی کو بھی مارا پیٹا تھا۔ جس کے بعد بھائی کو دوسرے شہر بھیج دیا گیا جہاں وہ مزدوری کر رہا ہے۔
متاثرہ لڑکی کے والد کافی دنوں سے بیمار ہیں اور ان دنوں اپنے گاؤں میں رہتے ہیں۔ متاثرہ لڑکی اپنی چھوٹی بہن اور ماں کے ساتھ شہر میں رہتی ہے۔ لڑکی کا علاج لکھنؤ کے کنگ جارج میڈیکل کالیج کے ہسپتال میں کیا جا رہا ہے۔









