انڈیا: کھانا دیر سے ملنے پر بیوی کا قتل

انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں گھریلو معملات پر تششد کے واقعات کے خلاف مظاہرہ

انڈیا میں پولیس کے مطابق ایک ساٹھ برس کے شخص کو کھانا دیر سے ملنے پر اپنی بیوی کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔۔

دارالحکومت دلی کے قریب واقع شہر غازی آباد کے ایک اعلیٰ پولیس اہلکار روپیش سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ اشوک کمار سنیچر کی رات نشے میں دھت گھر واپس لوٹے اور اپنی بیوی کے ساتھ لڑ پڑے۔ 55 برس کی سنینہ کو سر میں گولی لگنے پر ہسپتال لے جایا گیا مگر اطلاعات کے مطابق انہوں نے پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیا۔

پولیس افسر روپیش سنگھ نے کہا کہ اشوک کمار نے اپنے جرم کا اقرار کیا ہے اور اُنہیں اپنے کیے پر پچھتاوا ہے۔

انہوں نے اس واقعے کے بارے میں بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ 'یہ شخص روزانہ شراب نوشی کرتا تھا۔ سنیچر کو وہ گھر واپس لوٹا تو نشے میں دھت تھا اور اپنی بیوی سے لڑنے لگا۔ اس شخص کی بیوی اس کی شراب نوشی کی عادت سے پریشان تھی اور اس بارے میں بات کرنا چاہتی تھی مگر اُسے فوراً کھانا چاہیے تھا۔'

انڈیا میں عورتوں کے ساتھ گھریلو معاملات پر تشدد کے واقعات کی شکایات پرتشدد جرائم میں سرفہرست ہیں اور پچھلی ایک دہائی میں ہر سال ایسے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سنہ 2015 میں ہر چار منٹ بعد عورتوں کے ساتھ گھریلو معاملات پر تشدد کے کسی واقعے کی شکایت درج کی گئی جن میں جہیز کی وجہ سے موت، جہیز کے حوالے سے مختلف جرائم، شوہر یا سسرالی رشتہ داروں کی جانب سے ظلم اور تشدد کے واقعات شامل ہیں۔

دلی میں بی بی سی کی گیتا پانڈے کے مطابق اس نوعیت کا تشدد صرف انڈیا تک محدود نہیں بلکہ یہ دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی ہوتا ہے۔ مگر باقی دنیا کی نسبت انڈیا میں اس پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے اور اسے رواج کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

حکومت کی جانب سے رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق 54 فیصد مرد اور 51 فیصد عورتوں کے مطابق شوہر کا اپنی بیوی پر ہاتھ اُٹھانا جائز ہے۔ عورت اپنے سسرال کی بے ادبی کرے، اپنے بچوں کو نظر انداز کرے یہاں تک کے کھانے میں نمک کم یا زیادہ ہونے پر بھی مار پیٹ کو غلط نہیں سمجھا جاتا۔