BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 January, 2008, 11:27 GMT 16:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایلوس پریسلے کی یاد میں سالانہ میلہ

ایلوس پریسلے
راک اینڈ رول کے شہنشاہ کی یاد میں یہ میلہ پندرہ سال سے منایا جا رہا ہے
مشہور عالم راک سٹار ایلوس پریسلے کی یاد میں ایک میلے کی غرض سے سفید لباس زیب تن کیے لمبے بالوں والے شائقین کی ایک فوج آسٹریلیا کے ایک قصبے میں پہنچ چکی ہے۔

راک اینڈ رول کے شہنشاہ کی یاد میں آسٹریلوی صوبے نیو ساؤتھ ویلز کا قصبے پارکس میں یہ سالانہ میلہ انیس سو ترانوے سے منایا جا رہا ہے۔

شائقین کی اتنی بڑی تعداد کے پارکس پہنچنے سے اس آخرِ ہفتہ میں قصبے کی آبادی تقریباً دو گنا ہو گئی ہے۔

اس برس کے میلے میں شائقین کے درمیان کئی مقابلے ہوں گے جن میں ایلوس پریسلے کا بہترین روپ دھارنے والے اور ان کی آواز کی بہترین نقل پیش کرنے والوں کو انعامات دیے جائیں گے۔ ان کے علاوہ مقامی گرجے میں ایلوس کی یاد میں خصوصی دعائیہ تقریب بھی ہو گی۔ اس برس کے میلے کا مرکزی خیال ایلوس پریسلے کی انیس سو اکسٹھ کی مشہور فلم ’بلُو ہوائی‘ اور اور انیس سو چھپن کے مشہور گانے ’بلو سوئیڈ شوز‘ سے متاثر ہے۔

قصبے میں جوش و خروش
اگر ان کا جوانی میں انتقال نہ ہو گیا ہوتا تو ایلوس پریسلے اس ہفتے تہتّر برس کے ہو جاتے۔ ’پارکس ایلوس فیسٹیول‘ نامی اس میلے کی ابتدا پندرہ سال قبل قصبے کے ایک چھوٹے سے ریستوران میں ان کی بعد از مرگ سالگرہ کی تقریب سے ہوئی تھی۔ گزشتہ برس اس میلے میں ایلوس کے سات ہزار سے زائد چاہنے والوں نے شرکت کی تھی اور اس میں درجنوں مختلف مقابلوں اور تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا۔

گزشتہ برسوں کے دوران یہ میلہ اتنا مقبول ہوگیا ہے کہ اب اس کا انعقاد ایک سُپر مارکیٹ کی وسیع و عریض پارکنگ میں کیا جاتا ہے۔

میلے کی وجہ سے تین دنوں کے لیے قصبے کی آبادی دوگنا ہو گئی

میلے کے ایک منتظم پادری جون رُہلے کا کہنا تھا کہ یہ میلہ کئی لوگوں کے لیے ایک روحانی تجربہ ثابت ہوتا ہے۔ ’خواتین آپ کو بتاتی ہیں کہ ان کے شوہروں نے تیس پینتیس برس تک گِرجے کا رخ نہیں کیا تھا لیکن وہ میلے کے دوران ہونے والی دعائیہ تقریب کے لیے مقامی گرجے میں خوشی خوشی آ گئے۔‘

’مجھے نہیں معلوم کہ ایسا کیوں ہوتا ہے، لیکن یہ سچ ہے کہ بہت سے شائقین کے لیے یہ میلہ روحانیت کا پیغام لاتا ہے اور ان پر اس کے اچھے اثرات پڑتے ہیں۔‘

گزشتہ برس کے میلے میں ایک نیا ریکارڈ بھی قائم ہوا تھا جب کسی ایک مقام پر ایلوس پریسلے کا رُوپ دھارے شائقین کی سب سے بڑی تعداد پارکس میں موجود تھی۔ انیس سو ستتر میں بیالیس برس کی عمر میں انتقال کر جانے والے راک اینڈ رول کے شہنشاہ کا روپ دھارنے کے لیے ضروری ہے کہ آپکی زلفیں دراز ہوں اور آپ کی سفید ’بیل باٹم‘ پتلون کے پائنچے بھی خوب کھُلے ہوں۔

پارکس پہنچنے والے شائقین میں سے سینکڑوں ’ایلوس ایکسپریس‘ نامی خصوصی ریل گاڑی کے ذریعے یہاں پہنچے ہیں۔

میلے کے تماشائیوں کی توجہ کا خاص مرکز قصبے کی مرکزی سڑک پر ایلوس پریسلے کے بہروپیوں کی وہ پریڈ ہوتی ہے جس کے نکلتے ہی آسٹریلیا کے اس دور دراز قصبے کی کچی سڑک چمک اٹھتی ہے۔

اسی بارے میں
شوقیہ فلموں کا میلہ
09 September, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد