BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 September, 2007, 11:28 GMT 16:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حسین کو ایوارڈ دینے پر پابندی

ایم ایف حسین
 مقبول فدا حسین نے بعض ہندو دیویوں کی عریاں تصویریں بنائی تھیں جس کے خلاف ان پر درجنوں مقدمات ہیں۔ حال ہی میں مہاراشٹر کی ایک عدالت ان کے غیر ضمانتی وارنٹ جاری کر چکی ہے

جنوبی ریاست کیرالا کی ہائی کورٹ نے مشہور مصور مقبول فدا حسین کو ایک ریاستی ایوارڈ دینے پر پابندی لگا دی ہے۔ کیرالا حکومت اس سال مصوری کا معروف ’راجہ روی ورما ایوارڈ‘ ایم ایف حسین کو دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

عدالت نے یہ فیصلہ مفاد عامہ کے تحت داخل کی گئی ایک درخواست پر گزشتہ بدھ کو دیا تھا۔

حکومت نے حسین کو ان کی یوم پیدائش سترہ ستمبر کو اس اعزاز سے نوازنے کا اعلان کیا تھا۔ معروف فنکار بانوے برس کے ہونے والے ہیں۔

’راجہ روی ورما ایوارڈ‘ کیرالا کے ایک مشہور مصور کے نام پر سات برس قبل شروع کیا گيا تھا۔ انہیں کے خاندان کے ایک شخص روی ورما نے عدالت سے پابندی کی درخواست کی تھی۔

انہوں نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایم حسین جیسے مصور کو یہ ایورڈ دیا جانا راجہ روی ورما کی توہین ہے۔ ’ایم حسین نے ہندو دیویوں کی عریاں تصویریں بنا کر ان کی توہین کی ہے جب کہ راجہ ورما نے ایک مصور کی حیثیت سے ان دیویوں کو عزت احترام دیا‘۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے یہ سب ایک خاص برادری کو خوش کرنے کے لیے کیا ہے۔ ’پہلی بات تو یہ کہ یہ ایوارڈ کیرالا کے مصوروں کے لیے مخصوص ہے اور حسین کا اس ریاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ اس قدم سے فرقہ وارانہ منافرت پھیلنے کا اندیشہ ہے اس لیے ہم نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ انہیں یہ ایوارڈ نہ دیا جائے‘۔

روی ورما خود ایک مصور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایم ایف حسین کی تصویروں سے ہندوؤں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ ’انہوں نے اس کے لیے کبھی معافی بھی نہیں مانگی اور میں انہیں کوئی بڑا مصور نہیں مانتا کیونکہ شہرت کسی کے فن کا پیمانہ نہیں ہے، اگر انہیں یہ ایوارڈ دیا گیا تو ہندوؤں کو اس سے خوشی نہیں ہوگي‘۔

خاص برادری کو خوش کرنے کے لیے
 حکومت نے یہ سب ایک خاص برادری کو خوش کرنے کے لیے کیا ہے۔ ’پہلی بات تو یہ کہ یہ ایورڈ کیرالا کے مصوروں کے لیے مخصوص ہے اور حسین کا اس ریاست سے کوئی تعلق نہیں ہے دوسرے یہ کہ اس قدم سے فرقہ وارانہ منافرت پھیلنے کا اندیشہ ہے
روی ورما

مسٹر ورما کی وکیل ارچنا نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت نے عارضی طور پر یہ ایوارڈ انہیں دینے پر پابندی لگا دی ہے اور حکومت سے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ اس نے حسین کو کس بنیاد پر ایوارڈ کے لیے منتخب کیا۔ ’ایم ایف حسین نے دیوی دیوتاؤں کی عریاں تصویریں بناکر ایک فرقے کے جذبات مجروح کیے ہیں تو ایسے شخص کو اتنے باوقار اعزاز سے کیسے نوازا جاسکتا ہے‘۔

ریاستی حکومت کے اس فیصلے پر کہ اس برس کا راجہ روی ورما ایوارڈ حسین کو دیا جائےگا کئی ہندو نظریاتی تنظیموں نے کڑی نکتہ چینی کی تھی اور اس کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا اعلان تھا۔

مقبول فدا حسین نے بعض ہندو دیویوں کی عریاں تصویریں بنائی تھیں جس کے خلاف ان پر درجنوں مقدمات ہیں۔ حال ہی میں مہاراشٹر کی ایک عدالت ان کے غیر ضمانتی وارنٹ جاری کر چکی ہے۔ ان عدالتی کارروائیوں سے پریشان ہوکر وہ اب لندن میں مقیم ہیں۔ اس اعزاز کے لیے وہ کیرالا آنے والے تھے۔

گذشتہ ہفتے لندن میں کرکٹ کھلاڑی سچن تندولکر نے مسٹر حسین کے گھر جاکر ان سے ملاقات کی تھی۔ حسین گھوڑے کی تصویر بنانے کے ماہر ہیں اور انہوں نے سچن کو ایک گھوڑے کی تصویر پیش کی تھی۔ بعض ہندو نظریاتی تنطیموں نے اس بات کے لیے سچن تندولکر پر بھی نکتہ چینی کی ہے۔

مصور ایم ایف حسینجرم: دیوی کی برہنگی
سزا: حسین کی جائیداد ضبط کرنے کے نوٹس
ایم ایف حسین’مینا کشی‘
حسین کی نئی فلم، پچاس سالہ تجربہ کا نچوڑ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد