احتجاج کی شاعری دم توڑ چکی ہے: فراز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر احمد فراز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں احتجاج کی شاعری اور تحریکیں دم توڑ چکی ہیں۔ اس کے برعکس ہندوستان میں مضبوط جمہوری نظام ہونے کے سبب یہاں احتجاجی شاعری کے علاوہ مضبوط تحریکیں ہر دور میں جاری رہی ہیں۔ احمد فرازگزشتہ جمعہ کو دربھنگہ میں ایک عالمی مشاعرے میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ یہ مشاعرہ بھارت میں انسانی وسائل کے وزیر مملکت علی اشرف فاطمی کی کوشش کے نتیجے میں ہوا تھا۔ انہوں نے اس موقع پر کئی سوالوں کے جواب دیے: سوال: ہندوستان میں جمہوری اور پاکستان میں فوجی نظام کے حوالے سے آپ دونوں ممالک کی شاعری میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں؟ فراز: پاکستان میں احتجاج کی شاعری اور تحریکیں دم توڑ چکی ہیں۔ اس کے برعکس ہندوستان میں مضبوط جمہوری نظام ہونے کے سبب احتجاج کی شاعری کے علاوہ مضبوط تحریکیں ہر دور میں جاری رہی ہیں۔ پاکستان میں احتجاجی شاعری جنرل ایوب کے زمانے تک خوب ہوتی رہی۔ ایک لحاظ سے جنرل ضیاالحق کے دور میں بھی شاعروں کے پروٹسٹ کا جذبہ ان کی تخلیقوں میں نمایاں تھا لیکن اب یہاں کے شاعر تھک ہا ر کر بیٹھ گئے۔ کچھ تو اسی نظام میں گھل مل گئے اور جو باقی بچے وہ جیلوں میں یا تو گل سڑ گئے یا وطن بدری کے شکار ہوئے۔ پروٹسٹ کی شاعری کے لیے ہی فیض نے جیل کاٹی۔ ہمیں بھی فوجی ظلم کا شکار بنایا جاتا رہا۔ س:آپ کو نہیں لگتا کہ پاکستان میں شاعروں کا ایک بڑا طبقہ صاحب اقتدار کی واہ واہ ہی میں لگا ہے؟
ا ف: ایسی باتیں تو ہر دور میں اور ہر جگہ ہوتی رہی ہیں۔ میں ان پر کوئی الزام لگانا نہیں چاہتا۔ میں انہیں چاپلوس بھی نہیں کہتا۔ ان کےسامنے اپنی روزی روٹی کا سوال ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ ایسا نہ کرنے سے انہیں ریڈیو اور ٹی وی کے پروگرام ملنا بند ہو جائیں گے۔ س: پرویز مشرف کے دور اقتدار پر ادب اور صحافت کو نکیل ڈالنے کا الزام لگتا رہا ہے۔ اب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو ہٹائے جانے کو آپ کس نظریہ سے دیکھتے ہیں؟ ا ف: اب تک تو جمہوریت کے تینوں ستونوں پر حملے ہوتے رہے ہیں۔ جیسا کہ میں نے اس سے قبل کہا پاکستانی ادب میں احتجاج کا مادہ نہیں رہا۔ کافی حد تک صحافت کا بھی یہی حال ہے۔ اور اب تو جمہوریت کے اہم ستون عدلیہ پر وار کیا گیا ہے۔ شخصیت کے لیے اداروں کو توڑا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے اداروں کے خلاف فیصلے دیے تھے۔ میں تو انہیں سیلوٹ کرتا ہوں۔ انہوں نے تمام دھمکیوں کے باوجود استعفیٰ نہیں دیا۔ س: برصغیر کے دو اہم ممالک، ہندوستان اور نیپال میں جمہوریت ہے لیکن پاکستان میں فوجی حکومت۔ یہ حالات آپ کو کیسے لگتے ہیں؟ ا ف: ہم لوگ ہندوستانی جمہوریت کی مثال دیتے ہیں۔ ہمارے یہاں بریک آجاتا ہے۔ ہم ایک ہی وقت میں آزاد ہوئے لیکن ہم جاگرداری کو ختم نہیں کر سکے۔ ہندوستان نے سب سے پہلے جاگیردارانہ نظام کو ختم کردیا۔اس کے برخلاف ہمارے یہاں جرنیلوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اقتدار پر قابض جرنیل سے زیادہ
( وہ یہ مصرعہ سناتے ہیں): یہ رات اپنے ستاروں کو ساتھ لائے گی س: آپ نے اس بات چیت میں پرویز مشرف کا ایک بار بھی نام نہیں لیا۔ ا ف: (مسکراتے ہوئے) اس کی ضرورت ہے کیا؟ س: نئی نسل کے شاعروں کے نام آپ کا کوئی پیغام؟ ا ف: نوجوانوں مطالعہ کرو۔ دنیا کو باریکی سے سمجھو۔ ایک دور تھا کہ سماج و سیاست کے کم شعور رکھنے والے ہی شاعری کرتے تھے لیکن اب تو نئی نسل کودنیا کے حالات کے متعلق گہرائی سے جانکاری رکھنے کی ضرورت ہے لیکن مجھے دکھ ہے کہ اب ایسا کوئی سکول نہیں ہے۔ ہم پہلے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے اور سیکھتے تھے۔اب ایسا ماحول بننے ہی نہیں دیاجاتا۔ مجھے دکھ ہے ہمارے یہ بچے کہاں جائیں۔ | اسی بارے میں ’مشرف ملک توڑنے کے راستے پر‘: احمد فراز23 July, 2006 | پاکستان آچکےاب توشب و روز۔۔17 August, 2006 | ملٹی میڈیا احمد فراز: صدارتی اعزاز واپس23 July, 2006 | فن فنکار احمد فرازسرکاری عہدے سےفارغ25 June, 2005 | پاکستان احمد فراز اور دہلی کی بزم آرائیاں 30 August, 2004 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||