پیرس: پکاسو کے فن پاروں کی چوری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پکا سو کے دو فن پارے جن کی مجموعی مالیت پچاس ملین یورو بنتی ہے پیرس میں واقع ان کی نواسی کے گھرسے چوری ہوگئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک پینٹنگ ہسپانوی مصورکی بیٹی مایا کا اپنی گڑ یا کے ساتھ پورٹریٹ اور دوسری ان کی بیوی جیکولین راک کی ہے۔ ان فن پاروں کو پیر کی شب چوری کیا گیا ہے تاہم پیرس کے فیشن ایبل علاقے میں رہنے والی ڈیانا ود مائر پکاسو کے گھر سے چوری کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ منظم جرائم کے انسداد کے لیے مخصوص پیرس پولیس کا سکواڈ واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ ماریا پکاسو پیبلو پکاسو کی دوسری بیٹی تھی جو ان کی ایک محبوبہ کے بطن سے انیس سو پینتیس میں پیدا ہوئی تھیں۔ پکاسو نے مایا کی یہ پورٹریٹ انیس سو اڑتیس میں مکمل کی تھی۔ پکاسو کی پینٹنگ کا شمار دنیا کے نہایت قیمتی فن پاروں میں ہوتا ہے جن پر اکثر اوقات چوروں کی نظریں گڑی ہوتی ہیں۔ سپیشلٹ انشورنس کمپنی ہسکوکس کے ایک ماہر فن چارلس ڈپلن کا کہنا ہے کہ یہ چوروں کی دیدہ دلیری کا ایک اور ثبوت ہے لیکن ان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ ان فن پاروں کو بازار میں کھلم کھلا فروخت کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی قریب میں بعض یورپی ممالک میں بھی اس طرح کی چوریوں کے شواہد ملے ہیں اور یہ ان واقعات کی ایک کڑی ہو سکتی ہے۔ اس سے قبل 1989 میں بھی چوروں نے پکاسو کی ایک اور نواسی مرینہ پکاسو کے گھر ڈاکہ ڈالا تھا اور انھوں نے17 ملین پاونڈ کے 12 فن پارے چرائے تھے جنہیں بعد میں برآمد کر لیا گیا تھا۔ پکاسو کے فن پاروں کی سب سے بڑ ی چوری جنوبی فرانس کے شہر ایونیوں کے میوزیم سے1976 میں ہوئی تھی جس میں چوروں نے 18 پینٹنگز چوری کی تھیں۔ ان کا سب سے قیمتی شہ پارہ پائپ کے ساتھ ایک لڑکے کی تصویر ہے جسے2004 میں تقریبا 104 ملین ڈالر میں فروخت کیا گیاتھا۔ پکاسو 1973 میں 91 سال کی عمر میں فرانس میں انتقال کر گئے تھے۔ | اسی بارے میں بنگالی فن پاروں کی پاکستان میں نمائش30 April, 2004 | فن فنکار ستر ملین ڈالر کی ریکارڈ توڑ نیلامی06 May, 2004 | فن فنکار پکاسو کے سکیچز کی نیلامی28 June, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||