بلیک فرائیڈے: نمائش کی اجازت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انیس سو ترانوے کے ممبئی بم دھماکوں پر بننے والی فلم ’بلیک فرائیڈے‘ تین برس کی قانونی لڑائی کے بعد آخر کار نو فروری کو بھارت میں نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔ سنہ دو ہزار چار میں آٹھ کروڑ روپے کی لاگت سے بننے والی اس فلم کو بھارت میں نمائش کے لیے نہیں پیش کیا جا سکا تھا کیونکہ ممبئی بم دھماکے کے ملزمان نے فلم پر پابندی کے لیے ایک لمبی قانونی لڑائی لڑی تھی۔ بم دھماکہ کیس کے ملزم مشتاق ترانی نے اس وقت ٹاڈا کورٹ میں فلم کی نمائش کے خلاف اپیل داخل کی تھی۔ان کا جواز تھا کہ عدالت کے فیصلہ سے پہلے ہی انہیں مجرم کی طرح کٹہرے میں کھڑا کیا جارہا ہے۔ اس پر عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ اگر فلم کے پوسٹر سے ’ایک سچی کہانی پر مبنی فلم‘ کا سب ٹائٹل ہٹا دیا جائے تو فلم نمائش کے لئے پیش کی جاسکتی ہے تاہم ملزم نے ہائیکورٹ میں اپیل داخل کر دی اور اس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا۔ اب جب کہ ٹاڈا عدالت نے ملزم مشتاق ترانی کو زیوری بازار میں بم نصب کرنے کا مجرم قرار دیا ہے تو سپریم کورٹ نے فلم کی نمائش کی اجازت بھی دے دی ہے۔ اس سے قبل یہ فلم لوکارنو اور کانز فلم فیسٹیول میں دکھائی جا چکی ہے۔ یہ فلم ممبئی میں انیس سو ترانوے کے سلسلہ وار بم دھماکوں پر صحافی حسین زیدی کے اس ناول پر بنائی گئی ہے جس میں دھماکوں کی سازش اور دھماکوں کے بعد پولیس اور سی بی آئی کی تفتیش، ملزمان کی گرفتاریاں اور اس وقت کے حالات کو بیان کیا گیا ہے۔
فلم میں مافیا سرغنہ داؤد ابراہیم کا کردار وجے موریہ نے ادا کیا ہے اور ڈپٹی کمشنر پولیس راکیش ماریا کا کردار کے کے مینن ادا کر رہے ہیں۔ فلم میں ٹائیگر میمن سمیت وہ دیگر بیس کردار بھی موجود ہیں جنہوں نے ممبئی کے مختلف مقامات پر بم نصب کیے تھے۔ فلم کا سکرپٹ اگرچہ ناول کی کہانی کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے لیکن اس میں کچھ تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔ ناول بلیک فرائیڈے کے مصنف حسین زیدی کے مطابق کتاب میں انہوں نے سنجے دت کے بارے میں بھی لکھا ہے لیکن فلم میں سنجے دت کا ذکر نہیں اور صرف بم دھماکوں کی سازش، ممبئی میں اسلحہ لانے اور بم دھماکے کرنے کے بعد سی بی آئی کی تفتیش کی کہانی سنائی گئی ہے۔ فلم کے ہدایت کار انوراگ کیشیپ کا کہنا ہے کہ یہ فلم ان کے لیے ایک چیلنج تھی کیونکہ ایک تو یہ موضوع بہت حساس تھا دوسرے ان کے لیے کتاب اور حقائق کے دائرے سے نکلنے کی گنجائش نہیں تھی۔ | اسی بارے میں بلیک فرائیڈے کی نمائش پر پابندی27 January, 2005 | فن فنکار فلم ’بلیک فرائیڈے‘ تنازعہ کا شکار25 January, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||