رقص کے بدلتے رنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
رقص کی ابتداء کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اجتماعی انسانی محنت کے نتیجے میں پیدا ہوا تھا یعنی جب بہت سے انسان مِل کر ایک ساتھ کوئی مشقت کا کام کرتے تو اس عمل میں ایک ’تال‘ پیدا ہوتی اور جب محنت کشوں کے ہاتھ پاؤں اُس تال یا رِدم کو گرفت میں لے لیتے تو اُن کی اجتماعی محنت میں ایک موسیقی پیدا ہو جاتی جس کے باعث عرق ریزی کا یہ کام کسی حد تک دلچسپ بن جاتا اور وہ سُر تال کے نشے میں بہہ کر اپنی ہمت سے کہیں زیادہ کام کر جاتے۔ آج بھی اگر آپ ملاحوں کو بڑی کشتی کھیتے ہوئے دیکھیں تو آپ کو جب سماج اونچے نیچے طبقات میں بٹا اور دولت و فرصت سے مالا مال ایک بے کار طبقہ پیدا ہوگیا تو اسے اپنی فراغت کے لمحات گزارنے کے لئے ادب، آرٹ، موسیقی، مصوّری، سنگ تراشی اور رقص جیسی تفریحات کی ضرورت پڑی۔ چنانچہ اُس دور میں رقص و موسیقی اپنے مُشّقتی پس منظر سے آزاد ہو کر خود رو فنون کی صورتیں اختیار کر گئیں۔
بیسویں صدی میں آرٹ کو دربار سرکار کی سرپرستی سے نکال کر ایک بار پھر عوام کو لوٹانے کا دعویٰ کیا گیا، اور اس دعوے میں اِس حد تک سچائی ضرور ہے کہ فنکار اب محض نوازشاتِ شاہی کے بل پہ زندہ نہیں ہے بلکہ اپنے فن پارے پر ٹکٹ لگا کر خود پیسے بھی کما سکتا ہے۔ البتہ ٹکٹ خرید کر لوگ دُھرپد گائیکی سننے کےلئے نہیں آتے بلکہ چلنتر قِسم کے پاپولر گانے سننا چاہتے ہیں۔ اسی طرح عام لوگ بھارت ناٹیم یا کتھا کلی کے بھاؤ یا توڑے سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے لیکن انھیں کسی تیز طراّر فلمی گانے پر اُچھلتی کودتی اور ادائیں دکھاتی لڑکی پسند آجاتی ہے۔ دیکھا جائے تو پاکستان میں سٹیج ڈرامے کے عروج و زوال کی ساری کہانی بھی اسی ایک نکتے میں پوشیدہ ہے۔ سرحد پار بھارت کی طرف دیکھیئے تو مندروں میں ہونے والے دیوداسیوں کے رقص اُن کی ثقافت کا اٹوٹ حِصّہ تھے اور درباروں تک پہنچتے پہنچتے جسم کے پیچ و خم اور چشم و ابرو کے اشارے کنائیے کئی نئی نزاکتیں سیکھ چکے تھے۔ لیکن یہ ایسی باریکیاں تھیں جن کی داد وہ امراء اور نواب زادے ہی دے سکتے تھے جنھوں نے فراغت کی طویل گھڑیاں اپنے ذوق کی نشوونما پر صرف کی ہوتی تھیں۔ جو لوگ دو وقت کی روٹی کمانے کے لئے دِن رات کولھو میں جتے رہتے، انھیں کبھی اتنی فرصت ہی میسر نہ تھی کہ اپنے ذوق کی آبیاری کرسکیں اور حُسن کی باریکیوں سے لطف اندوز ہونے کی تربیت پا سکیں۔
چنانچہ آج اگر عوام الناس اعلیٰ ذوق سے محروم ہیں یا فن کی نزاکتوں کے قدر شناس نہیں ہیں تو سارا قصور انھیں کا نہیں ہے بلکہ وہ معاشرہ بھی جواب دہ ہے جِس نے اپنی آبادی کے ایک بڑے حصّے پر ذوقِ لطیف کے دروازے بند کیے رکھے ہیں۔ ہندوستان میں آج کل اعلیٰ و ادنٰی رقص پر جو بحث چھڑی ہوئی ہے اسے سمجھنے کےلئے تشکیلِ ذوق کا یہ پس منظر ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ خطہء پاک و ہند دنیا بھر میں رقص کی جنم بھومی سمجھا جاتا ہے۔ موہنجو دارو کے کھنڈرات سے برامد ہونے والی رقاصہ کی مورتی ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے خطّے میں پانچ ہزار سال پہلے بھی رقص کا اِدارہ موجود تھا۔ رقص کے بارے میں دنیا کی قدیم ترین کتاب ٰ نٹ شاسترٰ بھی اسی دھرتی پہ رقم ہوئی۔ میدانِ مشقت سے مندر تک اور مندر سے دربار تک پہنچنے کی داستان تو بہت طویل ہے لیکن ہم اِس پہلو پر نگاہ ضرور ڈالیں گے کہ رقص کے درباری اساتذہ کی روایت آہستہ آہستہ کِس طرح زمانہء جدید کے بِرجو مہاراج تک اور پھر سروج خان سے ہوتی ہوئی وے بھاوی مرچنٹ تک آگئی ہے اور درباری رقاصاؤں کا سلسلہ، تفریحات کے عوامی دور میں سندھیا، وجنتی مالا، سری دیوی اور مادھوری ڈکشٹ سے ہوتا ہوا ایشوریا رائے تک آن پہنچا ہے۔
ہندوستان کی فلم میں گانا تو روزِ اوّل سے ایک بنیادی جزو تھا لیکن رقص کو کبھی اتنی کمرشل اہمیت حاصل نہ تھی جتنی اِس وقت ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بالی وُڈ کا کوریوگرافر یا ڈانس ڈائریکٹر بھی اتنا ہی اہم ہو چکا ہے جتنا کہ میوزک ڈائریکٹر اور جس طرح پرانے وقتوں میں لوگ نوشاد یا شنکر جے کشن کے بارے میں گفتگو کیا کرتے تھے، آج کا فلم بین اُسی مہارت سے سروج خان اور وے بھاوی مرچنٹ کے فن پر بحث کرتا ہے اور جِس طرح ہمیں بیجوباورا، بسنت بہار، آن، برسات اور آوارہ کے گیت زبانی یاد ہوا کرتے تھے، نئی نسل کو مادھوری ڈکشٹ کا ڈانس نمبر ’ایک دو تین‘، سری دیوی کا ’مورنی باگاں ماں‘ ایشوریا کا نمبورا نمبورا اور کجرارے زبانی یاد ہیں۔ جدید تر نسل اس سے آگے بڑھ کر سالسا، جاز اور ہِپ ہاپ کی تال پر ناچ رہی ہے۔ مغرب سے متاثر جدید رقص کی ترویج میں ٹیلی ویژن کے مقبول پروگراموں کو بھی دخل ہے۔ٹی وی کے کئی قسط وار ہندی ڈراموں میں ڈانس ڈائریکٹر کے فرائص انجام دینے والے ہیتل پروہت کا کہنا ہے کہ آج کا ناظر بھارت ناٹیم یا کتھک سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اسے منی پوری، کوچی پوری یا اڑیسی کی سمجھ بوجھ ہے۔ نئے ناظرین کے لئے ہمیں موسیقی کے بدلتے ہوئے رجحان کے مطابق نئے انداز کی کوریوگرافی کرنی پڑتی ہے۔
یہ بات منطقی معلوم ہوتی ہے کہ اگر فلموں کی موسیقی مغرب سے متاثر ہو رہی ہے تو یقیناً رقص بھی اسی رنگ میں رنگا جائے گا لیکن جس طرح موسیقارِ اعظم نوشاد نے اپنا کلاسیکی رنگ چھوڑنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ میں ٹِین کنستر پِیٹ پِیٹ کر گلا پھاڑ کر چلّانے کو موسیقی نہیں گردانتا، اسی طرح اب سروج خان، جو کہ چالیس برس سے فلموں میں ڈانس ڈائریکٹر ہیں‘ کہتی ہیں کہ محض جسمانی اُچھل کُود کو رقص قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سروج خان کا کہنا ہے کہ رقص مشقت مانگتا ہے اور میں کسی سٹار کی فرمائش پر رقص کی حرکات و سکنات تبدیل نہیں کر سکتی۔ فلم بینوں اور بالی وُڈ کے حالات پر نگاہ رکھنے والوں کو یاد ہوگا کہ ایشوریا رائے نے کچھ عرصہ قبل اعلان کیا تھا کہ وہ سروج خان کی زیرِ ہدایت رقص نہیں کریں گی۔ ایشوریا کی تازہ فلم امراؤ جان میں کوریوگرافی کے فرائض وے بھاوی مرچنٹ نے انجام دیئے ہیں۔ فلم کے آخری اور اہم ترین رقص کی شوٹنگ کے دوران ایشوریا نے معذرت چاہی کہ وہ اِتنے بھاری کاسٹیوم میں اتنے تیز قدم نہیں اُٹھا سکتیں۔ چونکہ لباس تبدیل کرنا ممکن نہ تھا اس لئے سیٹ پر موجود ڈانس ڈائریکٹر وے بھاوی مرچنٹ نے رقص کی حرکات کو آسان کر دیا۔ اگر اُن کی جگہ سروج خان ہوتیں تو یہ اصولی موقف اختیار کرتیں کہ رقص کی حرکات تبدیل نہیں ہو سکتیں، رقاصہ کو اپنا رویّہ تبدیل کرنا ہوگا۔ اساتذہ اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہیں اور بزنس مین صرف کاروباری کامیابی میں یقین رکھتا ہے لیکن۔۔۔ تماشہ بہر حال جاری رہتا ہے۔ | اسی بارے میں دوبئی میلہ: عرب فلم سازی کا احیاء21 September, 2006 | فن فنکار راجپوت شہزادی: نیا فلمی تنازعہ13 November, 2006 | فن فنکار ہزاروں عورتیں ۔ ایک دیوانگی04 November, 2006 | فن فنکار مہنگی فلمیں: لاگت کیسے پوری ہو؟26 October, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||