جنون کےگھوم تا نانانا کی رسمِ اجراء | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اب جبکہ پاک بھارت جشن آزادی کی آمد آمد ہے اور دونوں میں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر خاصی خوش آئند پیش رفت جاری ہے سات اگست کی شام کراچی میں جنون گروپ نے بھارتی گلوکاروں اور فلمی اداکاروں کے اشتراک سے بنائے گئے گانے گھوم تانانا کی اجرائی تقریب یعنی لانچ ہوئی۔ پاکستانی میوزک بینڈ جنون کے سات اگست کو لانچ ہونے والے گانے گھوم تانانا کی ابتدا بھارتی فلمی اداکار نصیر الدین شاہ کی آواز میں پڑھے گئے ایک خط سے ہوتی ہے۔ یہ گانا جنون گروپ کے سلمان احمد نے بھارتی کلاسیکل گلوکارہ شوبھا مڈگل کے ساتھ مل کر گایا ہے۔ جبکہ اس گانے کی ویڈیو کے پس منظر میں مردانہ آواز نصیرالدین شاہ کی اور نسوانی آواز مشہور اداکارہ نندتا داس کی ہے۔ گانے کی ویڈیو لاہور اور پٹیالہ میں فلمائی گئی ہے اور اس کا تناضر اور مقصد پاک بھارت تعلقات کو مزیدخوشگواری ہے۔ گانے کے اس ویڈیو کی کہانی سلمان کے خاندان کی انیس سو سینتالیس میں پٹیالہ سے پاکستان منتقلی کے دوران کی بیتی بیان کی جاتی ہے۔ لانچ پر موجود سابق وفاقی وزیر اطلاعات جاوید جبار نے گانے کے کانسیپٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہ ’اس ویڈیو میں اعتماد کو بنیاد بنایا گیا ہے جو آج دونوں ممالک کے درمیان وقت کی ضرورت ہے۔‘ گھوم تانانا کی ویڈیو میں جنون کے علی عظمت کی آواز کیوں نہیں سنائی دی اس کے جواب میں گانے کی لانچ پر موجود علی عظمت کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں آج کل اپنے ایک البم میں مصروف ہیں اور پھر شوبھا مڈگل کے ساتھ اس گانے میں جس طرح کی مردانہ آواز کی ضرورت تھی وہ اس کے لیے فٹ نہیں بیٹھتے۔ اس دوران چونکہ بھارتی اداکار ویزہ نہ ملنے کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکے تھے اس لیے اس تشنگی کو پورا کرنے کے لیے ان کے ویڈیو کلپس دکھائی گئیں جس میں نصیر الدین شاہ، شوبھا مڈگل ، نندتا داس نے پاک بھارت کے اس موسیقی بھرے تجرتبے کو سراہا بلکہ سرحدوں کی تقسیم کو فن و جنون کے درمیان ایک گرا دی جانے والی دیوار قرار دیا۔ اس گانے اور ویڈیو کی تفصیل پر سلمان احمد نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ ان کے لیے بھارتی ویزہ آفس جانے سے لے کر گانے کی شوٹنگ تک تمام تجربات ایسے ہی تھے جیسے وہ اپنے بزرگوں کے ساتھ سن سینتالیس کی کہانی کو دہرارہے ہوں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||