فلم پر یہودی برہم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس میں تین یہودی بھائیوں نے امریکی اداکار میل گبسن کی فلم ’پیشن آف کراسٹ‘ کی نمائش پر پابندی عائد کروانے کے لیے ایک مقامی عدالت سے رجوع کیا ہے۔ ان تین بھائیوں نے فلم پر پابندی عائد کرنے کی درخواست میں کہا ہے کہ اس فلم کی نمائش سے یہودیوں کے خلاف جذبات بھڑکیں گے اور ان کے خلاف تشدد کے واقعات بھی رونما ہوسکتے ہیں۔ میل گبسن کی اس فلم میں جس میں وہ ایک ہدایت کار کے طور پر سامنے آئے ہیں حضرت عیسی کے مصلوب کئے جانے کے مناظر فلمائے گئے ہیں۔ یہودیوں کی طرف سے اس فلم پر شدید تنقید کی جارہی ہے کیونکہ اس فلم میں انہیں حضرت عیسی کے مصلوب کئے جانے کا ذمہ دار ٹھرایا گیا ہے۔ اس فلم کی نمائش کرنے والی فرانسیسی کمپنی نے ان یہوی بھائیوں کے اعتراضات کو رد کر دیا ہے۔ اس کمپنی نے کہا ہے کہ یہودی بھائیوں کے اس اعتراض کو رد کر دیا جانا چاہیے اور مذہبی بنیادوں پر اس فلم پر پابندی عائد نہیں کی جانی چاہیے۔ گو کہ یہ فلم کو قدیم آرمینی اور لاطینی زبان میں ہے اور اس میں لیکن پھر بھی نے بہت اچھا کاروبار کیا ہے۔ برطانیہ میں کینٹ کے علاقے میں ایک چرچ نے اس فلم کے کئی ہزار ٹکٹ خرید کر تقسیم کئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||