بوسہ یا جیل؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا میں ایک مجوزہ قانون کے تحت سرِعام بوس و کنار کرنے والوں کو جیل میں بند کیا جا سکتا ہے۔ انڈونیشیا کے ارکانِ پارلیمان نے عریانی مخالف قانون کا مسودہ تیار کیا ہے جس میں سرِعام لبوں پر بوسہ لینے پر پابندی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس مجوزہ قانون کے مطابق سرِعام بوس و کنار کرنے والوں کو پانچ سال قید یا انتیس ہزار ڈالر کا جرمانہ کیا جا سکے گا۔ اس قانون کا مسودہ تیار کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کی سربراہ عائشہ حامد بیدلوی نے کہا ہے کہ ’میرے خیال میں ایسی حرکات پر کچھ پابندی ہونی چاہئے کیونکہ یہ ہماری تہذیبی روایات کے خلاف ہیں‘۔ البتہ حکومت کی جانب سے اس بِل کی منظوری ابھی باقی ہے جس کے تحت عریانی، سرِعام نازیبا حرکات، شہوت انگیز رقص اور جنسی طور پر ہیجان خیز پارٹیاں منعقد کرنے پر ممانعت ہو گی۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو تین سے دس برس تک قید کی سزا سنائی جا سکے گی۔ انڈونیشا میں آباد مسلمانوں کی تعداد دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہے البتہ انڈونیشیائی مسلمان مذہب میں میانہ روی کے قائل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||