| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
نو کِس اِن ماسکو
ایک روسی اخبار کے مطابق اگر ماسکو کی شہری انتظامیہ نیا قانون پاس کر دیتی ہے تو ماسکو کے باسیوں کو پبلک مقامات پر بوس و کنار مہنگا پڑ سکتا ہے۔ مجوزہ قانون کے مطابق اگر کوئی کھلے عام بوس و کنار کرتا پکڑا جائے تو اسے جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اخبار سٹولیچنایا ویچرنیایا گیزیٹا کے مطابق یہ پابندی شادی شدہ مرد و عورت پر بھی لاگو ہو سکتی ہے۔ نامعلوم ذرائع کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ماسکو میں اخلاقی اقدار کو بہتر کرنا ہے۔ اخبار کے مطابق مجوزہ قانون کو نئے سال کے آغاز میں لاگو کیا جا سکتا ہے۔ اخبار نے شہر کی ایک سرکاری اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو کی ٹیوب ٹرین میں بیٹھنے والے زیادہ تر افراد محبت کا ’کھلا‘ اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے بچے اپنے ارد گرد کے ماحول سے ہی روزانہ ’پیار کا سبق‘ حاصل کر لیتے ہیں۔‘ تاہم حقوقِ انسانی کی تنظیم اور روس کی ڈیموکریٹک یونین پارٹی کی اہلکار ویلیریا نوودوروسکایا نے کہا ہے کہ اگر یہ بل پیش کیا گیا تو وہ اس کی خلاف ورزی کریں گی۔ ’اگر یہ کوئی مذاق نہیں ہے اور میئر کا دفتر واقعی اس طرح کا قانون بنانے کا سوچ رہا ہے تو پھر میں اپنے شب و روز پبلک مقامات پر بوس و کنار کرتے ہوئے گزاروں گی۔ صرف اصولوں کی خاطر۔‘ انہوں نے کہا کہ ’جب بھی میں کوئی اچھا آدمی دیکھوں گی تو میں اسے بوسہ دوں گی چاہے میرا دل نہ بھی چاہتا ہو۔ میں ماسکو کے سب باسیوں کو دعوت دیتی ہوں کہ وہ ایسا کریں۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||