’انڈین سماج گورے رنگ کے پیچھے پاگل ہے‘

،تصویر کا ذریعہ1H PR
آسٹریلیا اور انڈیا کی مشترکہ فلم ’ان انڈین‘ میں مرکزی کردار ادار کرنے والے کرکٹر بریٹ لی کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا میں نسلی امتیازات نہیں ہیں جبکہ اس فلم کی ہندوستانی اداکارہ تنشٹھا کا کہنا ہے کہ ہندوستانی سماج گورے رنگ کا دیوانہ ہے۔
بی بی سی سے خصوصی گفتگو میں سابق کرکٹر بریٹ لی نے کہا تھا: ’آسٹریلیا میں نسلی امتیازات نہیں ہیں، یہاں تمام ثقافت اور رنگ کے لوگوں کا استقبال ہے۔‘
٭<link type="page"><caption> ’سب نے کہا، کالی ہے فلموں میں نہیں چلے گی‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/entertainment/2015/12/151230_priyanka_dark_skin_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
جبکہ اسی فلم میں ان کے ساتھ کام کرنے والی بھارتی اداکارہ تنشٹھا کا کہنا ہے: ’ہندوستانی سماج گورے رنگ کے پیچھے پاگل ہے اور کمرشل سنیما اس احساس کو مزید ہوا دے رہا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہ1h pr
وہ کہتی ہیں: ’ہمارے یہاں کاجول، رانی مکھرجی، بپاشا باسو، سمیتا پاٹل جیسی کئی بڑی سٹارز ہیں جو گوری نہیں تھیں لیکن پھر بھی ہم (سانولے) لوگوں کو الگ طرح کی لڑائیاں لڑنی پڑتی ہیں صرف یہاں نہیں بلکہ پوری دنیا میں۔‘
تنشٹھا ’ان انڈين‘ نام کی انڈو-آسٹریلین فلم میں میرا نام کی لڑکی کا کردار ادا کر رہی ہیں جو جدید نظریے کی حامل آزاد خاتون ہیں اور ہر معاملے میں خواتین کے حقوق کی بات کرتی ہیں۔‘
تنشٹھا کہتی ہیں: ’حال ہی میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ہالی وڈ میل ڈامنیٹیڈ انڈسٹری ہے۔ ٹھیک اسی طرح بالی ووڈ بھی زیادہ تر میل ڈامنیٹیڈ ہے لیکن رفتہ رفتہ اب ہمارے ملک اور دنیا میں خواتین کی آزادی اور مردوں کے ساتھ مساوات کے تعلق سے خوش آئند تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ اگرچہ اب بھی یہ راستہ کافی طویل ہے لیکن ہم آگے بڑھ رہیں ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تنشٹھا کا خیال ہے کہ آگے بڑھنے کے لیے ہر عورت کو اپنے حصے کی لڑائی لڑنی پڑتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بریٹ لی کے ساتھ فلم میں مباشرت کے مناظر پر انڈین سینسر بورڈ کے اعتراض پر ہنستے ہوئے وہ کہتی ہیں: ’دنیا بھر میں سینسر شپ کی تاریخ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ جتنا کسی آرٹسٹ، فلم ساز کو کنٹرول یا سینسر کیا جائے گا اتنا ہی ہم اس کا دفاع کریں گے۔ سینسر یا حکومت جو کنٹرول کرنا چاہتی ہے اس کا نتیجہ کبھی برامد نہیں ہوتا۔ آپ زیادہ سے زیادہ سینسر کریں گے تو ہم دوسرا راستہ اختیار کریں گے لیکن اپنی بات ضرور کہیں گے۔‘







