’اُڑتا پنجاب‘ پر سینسر بورڈ کا اعتراض غلط :عدالت

بامبے ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ متنازع فلم اُڑتا پنجاب کو صرف ایک کٹ یعنی ایک سین کو سینسر کر کے اور تین وضاحتوں شامل کر کے ریلیز کر دیا جائے۔ فلم اس جمعہ کو نمائش کے لیے جاری ہوگی۔
فلمساز انوراگ کشیپ کا کہنا تھا کہ سینسر بورڈ نے فلم میں 89 کٹس یعنی 89 سین سینسر کرنے کی تجویز دی تھی جس کے بعد انھوں نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔
عدالت کے اس فیصلے سے پہلے سینسر بورڈ کے سربراہ پہلاج نہلانی نے کہا تھا کہ فلم تیرہ کٹس کے بعد ریلیز کی جا سکتی ہے۔
یہ فلم ملک کی ریاست پنجاب میں منشیات کے مسائل پر مبنی ہے۔
عدالت نے سینسر بورڈ کو حکم دیا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں میں فلم کو سرٹفیکیٹ جاری کر دیا جائے۔

سینسر بورڈ نے فلم میں 89 کٹس کا دفاع کیا تھا جس میں فلم میں ہر جگہ سے پنجاب کے علاوہ ، کچھ گالیاں، پارلیمان، اور الیکشن جیسے لفظ نکالنا شامل تھا۔
عدالت نے سینسر بورڈ کی اس دلیل کو بھی رد کر دیا کہ فلم میں ملک کی خود مختاری پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔
جج کا کہنا تھا کہ انھوں نے سارا سکرپٹ پڑھا ہے اور اس میں کہیں بھی ملک کی خود مختاری پر سوال اٹھتے دکھائی نہیں دے رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گزشتہ ہفتے عدالت نے وکیلِ دفاع سے کہا تھا کہ فلم انڈسٹری ’شیشے سے نہیں بنی‘ اور ضرورت سے زیادہ سینسر شپ نہیں ہونی چاہئے عوام کی ہی طے کرتی ہے کہ کیا چیز سینسر ہونی چاہیے۔
جج نے کہا کہ فن آرٹ اور فنکاروں کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بورڈ کو اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کا حق ہے۔
فلم کے ڈائریکٹر ابھشیک چوبے نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک کٹ کا عدالت کا فیصلہ منظور ہے جس میں فلم کا اہم کردار نشے میں دھت ہجوم پر پیشاب کرتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ فلم میں یہ تحریری وضاحت بھی دیں گے کہ یہ فلم کسی مخصوص ریاست کے خلاف نہیں ہے اور نہ ہی منشیات یا گالم گلوچ کی حمایت کرتی ہے۔
فلم سینسر بورڈ کے کئی فیصلے حالیہ دنوں میں کئی فلموں میں سینسر کے حوالے سے تنازعوں کا شکار ہوئے ہیں۔ جن میں کئی فلمیں شامل ہیں۔







