معروف افسانہ نگار انتظار حسین انتقال کرگئے

پاکستان کے معروف افسانہ اور ناول نگار انتظار حسین 93 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے ہیں۔

ان کا شمار موجودہ عہد میں پاکستان ہی کے نہیں بلکہ اردو فکشن، خاص طور پر افسانے یا کہانی کے اہم ترین ادیبوں میں کیا جاتا تھا۔

وہ کئی دن سے لاہور کے ایک مقامی ہسپتال میں زیرعلاج تھے۔

انتظار حسین کے بھانجے صباحت حسین نے صحافی عبدالناصر خان کو بتایا کہ انھیں چند روز قبل نمونیہ اور شدید بخار کی وجہ سے ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا جہاں وہ منگل کی دوپہر چل بسے۔

انتظار حسین سنہ 1923 میں ہندوستان کے ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے اور میرٹھ کالج سے اردو میں ایم اے کیا۔

تقسیم ہند کے وقت ہجرت کر کے پاکستان آئے اور صحافت کے شعبے سے وابستہ ہو گئے۔

ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’گلی کوچے‘ 1953 میں شائع ہوا تھا۔

انتظار حسین کے افسانوں کے آٹھ مجموعے، چار ناول، آپ بیتی کی دو جلدیں، ایک ناولٹ شائع ہوئے۔

اس کے علاوہ انھوں نے تراجم بھی کیے ہیں اور سفر نامے بھی لکھے۔

ان کے اردو کالم بھی کتابی شکل میں شائع ہو چکے ہیں اور وہ انگریزی میں بھی کالم لکھتے رہے۔

انتظار حسین کا ایک ناول اور افسانوں کے چار مجموعے بھی انگریزی زبان میں شائع ہو چکے ہیں۔

وہ پہلے پاکستانی ہیں جو سنہ 2013 میں بین الاقوامی بکر پرائز ايوارڈ کے ليے شارٹ لسٹ ہوئے۔

انتظار حسین کو ان کی گراں قدر ادبی خدمات کے اعتراف میں پاکستان، بھارت، مشرق وسطیٰ اور یورپ میں بھی کئی اعزازات سے نوازا گیا۔