سلمان خان خبروں میں رہنے کا ہنر جانتے ہیں
- مصنف, نصرت جہاں
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
سلمان خان ہر وقت خبروں میں رہنے کا ہنر جانتے ہیں اب چاہے ان کی فلمیں ہوں، جھگڑے ہوں، مبینہ افیئرز یا پھر ان کی باتیں۔
سلو بھائی آج کل اپنی فلم ’پریم رتن دھن پایو‘ کے لیے فلم کی ہیروئن سونم کپور کے ساتھ پروموشن میں مصروف ہیں۔
سلمان فلم کی تعریف کرتے ہوئے اسے اپنی اب تک کی سب سے خوبصورت فلم بتا رہے ہیں۔
خیر فلم کی تعریف تک تو بات ٹھیک تھی لیکن سونم کپور کو مادھوری اور ایشوریہ سے زیادہ ٹیلنٹڈ اور خوبصورت کہنے کی کیا ضرورت تھی؟
اب مادھوری کو تو شاید فرق نہ پڑے لیکن سابق مس ورلڈ اسے آسانی سے نہیں بھلا پائیں گی کیونکہ سونم انھیں پہلے ہی آنٹی کہہ کر ناراض کر چکی ہیں۔
فلم ’پریم رتن دھن پایو ‘ پاکستان میں بھی رلیز ہوگی

،تصویر کا ذریعہ
بھارت میں پاکستانی کرکٹرز اور بالی ووڈ میں پاکستانی فنکاروں کا ہونا بھارتی شدت پسندگروپوں کے لیے ہمیشہ ہی دلچسپی کا موضوع رہا ہے۔
حالانکہ خود بالی ووڈ نے اس طرح کی مخالفت کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستانی فنکاروں کو بھارت میں ہمیشہ ہی خوش آمدید کہا ہے۔ جس کی ایک تازہ مثال کرن جوہر کی فلم ’اے دل ہے مشکل‘ میں فواد خان اور شاہ رخ کے ساتھ فلم ’رییس‘ میں مائرہ خان کا ہونا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کی سیاست فن اور ثقافت کو سرحدوں کے اندر روک پائے گی۔ شاید نہیں! کیونکہ یہ ایک ایسا دریا ہے جس پر بندھ نہیں بنایا جا سکتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی ٹی وی ڈرامے بھارت میں اور بھارتی فلمیں پاکستان میں ہمیشہ ہی لوگوں کی تفریح فراہم کرتی رہیں گی۔ فلموں سے یاد آیا کہ بالی ووڈ کے ’بجرنگی بھائی جان‘ اب فلم ’پریم رتن دھن پایو‘ میں ’پریم‘ بن کر سرحد پار کریں گے یعنی ان کی فلم ’پریم رتن دھن پایو‘ پاکستان میں بھی رلیز ہوگی۔
ایوارڈ واپسی کی مہم کے خلاف ہیں
کہا جاتا ہے کہ جب کسی بھی معاشرے یا ملک میں سیاسی یا سماجی اتھل پتھل ہوتی ہے تو وہاں کا فن اور فنکار بھی اس سے اچھوتے نہیں رہتے۔ ایسا ہی کچھ اس وقت بھارت کے فنی اور ثقافتی حلقوں میں بھی ہو رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہcolors
ملک میں ’موجود عدم رواداری‘ پر احتجاج اور بحث اس حد تک آگے بڑھی کہ بڑے بڑے ادیبوں، سائنسدانوں اور فنکاروں نے حکومت سے ملنے والے اعزاز اور ایوارڈز واپس کرنے شروع کر دیے اور بالی ووڈ بھی اس احتجاج میں ادیبوں اور شاعروں کے شانہ بشانہ کھڑا نظر آنے لگی۔
جہاں بالی ووڈ کے 24 سے زائد فلمسازوں، رائٹرز، اور شاعروں نے اپنے ایوارڈز واپس کیے وہیں بالی ووڈ کی کچھ ہستیاں جن میں ہیما مالنی، مدھر بھنڈارکر اور انوپم کھیر شامل ہیں ایوارڈ واپسی کی مہم کے خلاف ہیں۔
اب پتہ نہیں انوپم جی واقعی ایوارڈ واپسی کو غلط سمجھتے ہیں یا پھر بھارتیہ جنتا پارٹی سے ایم پی بننے والی اپنی اہلیہ کرن کھیر اور بی جے پی کو خوش کرنے کے لیے اس دنگل میں کود پڑے ہیں۔
ویسے دنگل سے یاد آیا کہ عامر خان تو اپنی فلم ’دنگل‘ کی شوٹنگ میں مصروف ہیں اور ان کی بیگم کرن راؤ سے جب ایوارڈز واپسی کے بارے میں سوال کیا گیا تو کرن جی کیا کرتیں اب ان کے میاں تو ایوارڈز لیتے نہیں واپس کیا کریں گے بیچاری کہہ بیٹھیں کہ عامر کو ایوارڈز نہیں بلکہ اپنی فلموں پر عام لوگوں کے ردِ عمل میں دلچسپی ہوتی ہے۔
سمجھدار لوگوں کے ذہن ہی نہیں دل بھی بڑے ہوتے ہیں

،تصویر کا ذریعہbbc
اداکار رنویر سنگھ کا کہنا ہے کہ ان کی آنے والی فلم ’باجی راؤ مستانی‘ میں کام کرنے سے ان کی پروفیشنل اور ذاتی زندگی پر بہت اثر پڑا ہے۔
چند روز پہلے اس فلم کے پوسٹر کی رلیز کے موقع پر رنویر سنگھ نے کہا کہ اس فلم نے مجھے زیادہ مضبوط اور سمجھدار بنایا ہے۔
ویسے آپ کی باتوں سے ایسا لگتا تو نہیں ورنہ دیپیکا پاڈوکون اور ان کے سابق بوائے فرینڈ رنبیر کپور کی آن سکرین جوڑی کا موازنہ شاہ رخ اور کاجول کے ساتھ کیے جانے پر آپ بِلبلا کر یہ نہ کہتے کہ دپیکا، رنبیر نہیں میرے ساتھ زیادہ اچھی لگتی ہیں۔
اب سنگھ صاحب کو کون سمجھائے کہ سمجھدار لوگوں کے ذہن ہی نہیں دل بھی بڑے ہوتے ہیں۔







