عدنان سمیع کی شہریت کا معاملہ ٹوئٹر پر گرم

عدنان سمیع گذشتہ 15 برسوں سے بھارت میں ہیں اور موسیقی کی دنیا کی معروف شخصیتوں میں شمار کیے جاتے ہیں

،تصویر کا ذریعہManish Shukla

،تصویر کا کیپشنعدنان سمیع گذشتہ 15 برسوں سے بھارت میں ہیں اور موسیقی کی دنیا کی معروف شخصیتوں میں شمار کیے جاتے ہیں

بھارتی شہر ممبئی میں جہاں علاقائی جماعت شیوسینا کی جانب سے پاکستانی فنکاروں کی زور شور سے مخالفت کی جا رہی ہے وہیں پاکستانی گلوکار عدنان سمیع کو ہندوستانی شہریت ملنے کے امکان پر سوشل میڈیا میں بحث جاری ہے۔

گذشتہ 15 برسوں سے بھارت میں رہنے والے عدنان سمیع نے دو بار بھارتی شہریت کے لیے حکومت کے سامنے درخواست دی تھی۔

پہلی عرضی خارج ہونے کے بعد مارچ سنہ 2015 میں عدنان نے دوبارہ بھارتی شہریت کے لیے اپیل کی تھی جس پر غور کرتے ہوئے اگست 2015 میں ان کے ورک ویزا کے ختم ہونے کے بعد بھی انھیں غیر معینہ مدت تک بھارت میں رہنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

بی بی سی کے سوشانت موہن سے بات کرتے ہوئے عدنان نے کہا: ’دیکھیے ابھی تو ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے اور کوئی خبر ہو گی تو میں آپ کو ضرور بتاؤں گا۔‘

اس سے قبل بھی کسی تنازع سے بچتے ہوئے عدنان نے شہریت کے معاملے پر بی بی سی سے کہا تھا: ’میں امید کر رہا ہوں کہ حکومت میری اپیل پر جلد ہی سماعت کرے گی اور میں پرامید ہوں۔‘

عدنان نے مزید کہا: ’میں یہاں خوش ہوں اور پیار و محبت سے رہ رہا ہوں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہندوستان میں مجھے کبھی کوئی دقت نہیں ہوئی۔‘

بھارتی شہریت کے قانون کے تحت کسی غیر ملکی کو سائنس، فلسفہ، آرٹ، ادب، عالمی امن اور انسانی ترقی کے شعبوں میں غیر معمولی خدمات دینے پر شہریت دی جا سکتی ہے اور عدنان موسیقی کے میدان میں ایک عرصے سے ہندوستان میں رہ کر کام کر رہے ہیں۔

عدنان سمیع نے اپنے وزن میں زبردست کمی کی ہے اور اس کے لیے بھی وہ خبروں میں رہتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعدنان سمیع نے اپنے وزن میں زبردست کمی کی ہے اور اس کے لیے بھی وہ خبروں میں رہتے ہیں

ان کا آخری گانا ’بھر دو جھولی‘ فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ میں تھا اور کافی مقبول بھی ہوا تھا۔

وہیں پاکستانی فنکاروں کی مخالفت کرنے والی ہندو جماعت شیوسینا کے ترجمان منیشا كايندے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’یہ مسئلہ آج ہی سامنے آیا ہے اور ہمارے تمام رہنما اور ادھو جی (پارٹی چیف) اس معاملے پر اس وقت میٹنگ کر رہے ہیں۔‘

وہ مزید کہتے ہیں ’ہم شروع سے اس بات کی مخالفت کرتے آ رہے ہیں اور آگے بھی ہم اس پر قائم رہیں گے لیکن پارٹی کیا قدم اٹھائے گی یہ اگلے حکم کے بعد ہی طے ہوگا۔‘

سوشل میڈیا ٹوئٹر پر عدنان سمیع ٹرینڈ کر رہے ہیں اور لوگوں کا ملا جلا رد عمل سامنے آ رہا ہے۔ اگر بعض لوگوں کے لیے یہ عدنان کی گھر واپسی ہے تو وہیں ایک بڑا طبقہ اسے منافقت سے تعبیر کر رہا ہے کہ ایک طرف ایک پاکستانی آرٹسٹ کو پرفارم نہیں کرنے دیا گیا اور دوسرے کو شہری بنایا جا رہا ہے۔

ایک شخص نے لکھا: ’بھارتی شہریت مل جانے کے بعد عدنان سمیع عدنان سوامی ہو جائیں گے۔‘

عدنان سمیع اس بات پر اپنی رائے کے لیے دستیاب نہیں تھے۔