امن کا نوبیل انعام تیونس کی تنظیم کو مل گیا

کہا جا رہا ہے کہ پوپ فرانسس جوہری ہتھیاروں کے مخالف رہے ہیں اور انہوں نے امریکہ اور کیوبا کے درمیان رشتے بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اس لیے ان کے امکانات زیادہ ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنکہا جا رہا ہے کہ پوپ فرانسس جوہری ہتھیاروں کے مخالف رہے ہیں اور انہوں نے امریکہ اور کیوبا کے درمیان رشتے بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اس لیے ان کے امکانات زیادہ ہیں

2015 کا امن کا نوبیل انعام ملک میں جمہوریت کی جانب منتقلی میں خدمات کے صلے میں تیونس کی ایک تنظیم ’تیونیشن ڈائیلاگ کوارٹٹ‘ کو دیا گیا ہے۔

انعام کا اعلان کرتے ہوئے نوبیل کمیٹی کی سربراہ کیسی کلمین نے کہا کہ اس تنظیم نے 2011 کے انقلاب کے بعد ’ملک میں کثیرجہتی جمہوریت کی تعمیر کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔‘

اس برس امن کے نوبیل انعام کے لیے 273 امیدواروں کے نام زیرِ غور تھے جن میں پوپ فرانسس اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل شامل تھے۔

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، تیونیشن کوارٹٹ چار تنظیموں پر مشتمل ہے: تیونیشن جنرل لیبر یونین، تیونیشن کنفیڈریشن آف انڈسٹری ٹریڈ اینڈ ہینڈی کرافٹس، تیونیشن ہیومن رائٹس لیگ اور تیونیشن آرڈر آف لائرز۔

نوبیل کمیٹی کی سربراہ نے کہا کہ تیونیس میں ’2013 میں جمہوریت کا عمل سیاسی قتل و غارت اور بڑے پیمانے پر پھیلے سماجی انتشار کی وجہ سے خطرے میں تھا۔ لیکن کوارٹٹ نے ملک کو خانہ جنگی کے دہانے سے نکال کر پرامن سیاسی عمل کی جانب گامزن کر دیا۔‘

گذشتہ برس یہ انعام تعلیم کے لیے مہم چلانے والی پاکستان کی ملالہ یوسف زئی اور بھارت میں بچوں کے فلاح کے لیے کام کرنے والے کیلاش ستیارتھ کو مشترکہ طور پر دیا گیا تھا۔