’منٹو کی آگ پھیلا دی، دیکھتے ہیں کتنے لوگ تپش حاصل کرتے ہیں‘

- مصنف, عدیل اکرم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
اردو کے معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی زندگی پر بنائی جانے والی پاکستانی فلم ’منٹو‘ کے ہدایتکار سرمد کھوسٹ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس فلم کے ذریعے منٹو کا پیغام پھیلانے کی کوشش کی ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ اس کا اثر کس حد تک ہوتا ہے۔
انھوں نے یہ بات اتوار کو لاہور کی الحمرا آرٹ کونسل میں منعقدہ ایک تقریب میں کہی جو فلم سے وابستہ افراد کے اعزاز میں منعقد کی گئی تھی۔
یہ فلم 11 ستمبر کو ملک بھر میں 50 سکرینوں پر نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔
فلم کا سکرپٹ شاہد ندیم نے تحریر کیا ہے جس میں منٹو کی پُر آشوب زندگی کے واقعات کے ساتھ ساتھ ان کی 13 کہانیوں سے اخذ شدہ مناظر بھی شامل کیے گئے ہیں۔
فلم میں فیصل قریشی، ہمایوں سعید، صبا قمر، نمرہ بُچہ، ثانیہ سعید، نادیہ افگن اور ماہرہ خان نے اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں جبکہ منٹو کا مرکزی کردار خود سرمد کھوسٹ نے ادا کیا ہے۔
سرمد کھوسٹ نے کہا کہ منٹو کا کردار ایک پیچیدہ شخصیت کا ہے اور ایسے پہلو دار کردار کو ادا کرنا کسی بھی آرٹسٹ کا خواب ہوتا ہے۔
انھوں نے فلم کے ایک مکالمے کا حوالہ دیا جس میں منٹو کہتا ہے کہ ’میں آگ بیچتا ہوں صفیہ آگ‘۔ سرمد کھوسٹ نے کہا ’ہم نے اِس فلم کے ذریعے منٹو صاحب کی آگ ہر طرف پھیلا دی ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ اِس سے کتنے لوگ تپش حاصل کرتے ہیں۔‘
فلم میں منٹو کی اہلیہ ’صفیہ‘ کا کردار اداکارہ ثانیہ سعید نے ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’حقیقی زندگی سے لیا ہوا کوئی کردار ادا کرنا آرٹسٹ کے لیے آسان نہیں ہوتا مگر میں نے یہ چیلنج قبول کیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلم کے سکرپٹ رائٹر شاہد ندیم نے بتایا کہ تین برس قبل منٹو کی صد سالہ تقریبات کے دوران انھیں منٹو کو پھر سے پڑھنے اور نئے زمانے کے تناظر میں سمجھنے کا موقع ملا اور انہوں نے محسوس کیا کہ ’غلیظ طوائفوں کی کہانیاں لکھنے والا یہ شخص اپنی ذاتی زندگی میں کتنا صاف سُتھرا اور کھرا آدمی تھا اور اُس کی حس مزاح اور سیاسی بصیرت کتنی تیز تھی۔‘

شاہد ندیم نے کہا کہ منٹو کی زندگی خود ایک بنی بنائی کہانی ہے جس میں انسانی کمزوریوں سے جنم لینے والا المیہ ، اقدار کا تصادم اور انسانی دلچسپی کے تمام امور شامل ہیں۔
مصنف نے بتایا کہ مرکزی کردار کے لیے ایک ایسے آرٹسٹ کی ضرورت تھی جو فن اداکاری کے ساتھ ساتھ منٹو کی ذاتی زندگی سے بھی اچھی طرح واقف ہو اور اپنے کام میں حقیقت کا رنگ بھر سکے ، چنانچہ اُنہوں نے سرمد کو خود یہ فریضہ نبھانے پر اُکسایا۔
مصنف شاہد ندیم نے اس بات پر قدرے تعجب کا اظہار کیا کہ سینسر بورڈ نے بغیر کسی اعتراض اور کاٹ چھانٹ کے فلم کو پاس کر دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’منٹو یقینا منوں مٹی تلے دبا مسکرا رہا ہو گا کہ ساری عمر سینسر بورڈ والے میرے پیچھے پڑے رہے ، میری تحریروں پر پابندی لگاتے رہے اور مجھ پر مقدمے قائم کرتے رہے۔۔۔لیکن آج سینسر کی قینچی سے آزاد ایک پاک صاف منٹو پاکستان آ رہا ہے۔‘







