منٹو نیویارک میں

’منٹو نے وہ کردار چنے جنہیں سماج اپنے سے پرے یا باہر رکھتا تھا‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن’منٹو نے وہ کردار چنے جنہیں سماج اپنے سے پرے یا باہر رکھتا تھا‘
    • مصنف, حسن مجتبیٰ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیو یارک

نیویارک کے علاقے کونئز کے درختوں کی دو رویہ سڑکوں والے علاقے ہولیز میں ’بیت الظفر‘ نامی ایک عمارت کی سر سبز باغیچے میں امریکی پرچم کے پس منظر والے ایک بڑے سے کارڈ بورڈ پر انگریزی میں لکھا ہے ’لو فار آل ہیٹرڈ فار نن‘ (محبت سب کے لیے، نفرت کسی کے لیے بھی نہیں)۔

یہ محبت سب کیلیے اور نفرت کسی کے لیے بھی نہیں والی ’بیت الظفر‘ نام کی عمارت نیویارک میں احمدیہ جماعت کا مرکز اور مسجد ہے جسکا لائبریری ہال نیویارک میں حلقہ ارباب ذوق کے ایک گروپ کے پندرہ روزہ اجلاسوں کیلیے وقف ہوتا ہے جہاں نیویارک اور نیویارک کے آس پاس کے شعرا و ادیب و لکھاری اپنی تخلیقات پیش کرتے ہیں۔

لیکن گذشتہ اختتام ہفتہ دو دن یہ جگہ مشہور افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کے صد سالہ یوم ولادت کےحوالے سے سیمینار اور اسکی آخری رات ایک بڑے مشاعرے کی وجہ سے نیویارک سمیت شمالی امریکہ اور دنیا بھر کے ک‏ئی شعرا اور ادباء اور دانشوروں کو سننے کے لے ایک کشش ثقل کی شکل اختیار کیے رہی۔

اس تقریب میں امریکہ سے اردو ادب و شاعری کو انگریزی کے ذریعے دنیا بھر میں اور دنیا بھر کے ادب کو اردو میں منتقل اور متشکل کرنے والے عالم، ادیب ڈاکٹر محمد عمر میمن اور اسی طرح سے پاکستان سے آصف اسلم فرخی، جنہوں نے پاکستانی ادب خاص طور سندھی ادب کو اردو اور انگریزی میں ترجمہ کیا ہے اور شکاگو سے افسانہ نگار رضیہ فصیح احمد سمیت کئي خواتین اور مرد شاعر اور لکھاری شامل تھے۔

یہ اور بات ہے کہ شاید منٹو اگر آج زندہ ہوتے تو وہ اس بیت االظفر سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی کے ساتھ پاکستان میں ہونیوالے حالات پر بھی ضرور قلم اٹھاتے جن کے لیے زیادہ تر نیویارک کے پاکستانی اخبارات بھی نہیں لکھتے۔

بہرحال منٹو سیمینار کی شام منٹو پر آصف فرخی اور آجکل کئي برسوں سے امریکہ میں مقیم معروف شاعر نون میم دانش کے یادگار مقالوں سے شروع ہوئی۔

منٹو کو نہ پڑھنے کے نئے طریقے کے عنوان سے آصف اسلم فرخی نے اپنے مقالے میں آصف فرخی نے کہا: ’زمانے کی روش کے خلاف اس کی (منٹو کی) زندگی کی جدوجہد یہ نہیں تھی کہ اس کے اپنے زمانے یا بعد میں آنیوالے کا ادبی یا سماجی اشرافیہ اسے کسی نہ کسی طرح قبول کر لے، اس کے بجائے وہ انہیں زہرقند کا نشانہ بنائے گیا ۔ زندگي گذارنے کے اپنے ڈھنگ سے لیکر افسانوں کے موضوعات تک ایسے عناصر کو سینے سے لگائے رہا جو دوسروں کے لیے نا پسندیدہ بلکہ ناقابل برداشت تھے۔‘

معرف شاعر نون میم دانش کا مقالہ منٹو کے لازوال شاہکار افسانے ٹوبہ سنگھ اور شناخت کے بحران پر تھا جس میں انہوں نے کہا کہ سعادت حسن منٹو مشہور محبوب افسانہ نگار تھا جنہوں نے منٹو کو نہں پڑھا ہے وہ بھی اس بات کی ’صداقت‘ پر ’ایمان‘ رکھتے ہیں کہ وہ اخلاق باختہ افسانہ نگار تھا اور جنہوں نے پڑھا اور غلط سمجھا ان کیلیے وہ فحش نگار تھے یا وہ اسے پاکستانی یا ہندوستانی بنانے کے پھیر میں لگ گئے۔‘

نون میم دانش نے اپنے مقالے میں کہا کہ منٹو نے وہ کردار چنے جنہیں سماج اپنے سے پرے یا باہر رکھتا تھا چاہے وہ طوائف تھی یا پاگل۔ اسی طرح پاگل خانہ وہاں نہیں جہاں ٹوبہ ٹیک سنگھ کے پاگل تھے بلکہ پاگل خانہ پاگل خانے سے باہر تھا۔

ڈاکٹر محمد عمر میمن کا کہنا تھا کہ اگر ٹوبہ ٹیک سنگھ افسانے میں تقسیم کا موضوع نکال بھی دیا جائے تب بھی منٹو کا ٹوبہ ٹیک سنگھ بڑا افسانہ ہوتا۔

سیمینار کے دوسرے دن منٹو کی یاد میں افسانہ نگاوں نے افسانے پڑھے جن میں نیویارک کے افسانہ نگار و فلم ساز مصور ممتاز حسین نے اپنا افسانہ ’خدا کی دلہن‘ کے نام سے پڑھا۔

ایک افسانہ نگار برطانیہ سے آئي ہوئي حمیدہ معین رضوی تھیں جنہوں نے شدت پسندی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کے پس منظر میں افسانہ پڑھا جس میں انہوں نے شدت پسند القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن اور نو مسلم برطانوی نژاد صحافی خاتون ایوان رڈلی کا ذکر مثبت کرداروں کے طور پر کیا۔ جس پر انکے نقادوں کا کہنا تھا کہ حمیدہ معین رضوی کے افسانے کو سنکر یا پڑہ کر کہا جا سکتا ہے کہ اردو ادب میں اب جہادی افسانوی ادب تخلیق ہونے لگا ہے۔

سیمینار کی اختتامی شام پر حمیدہ معین رضوی نے اپنی نظم پاکستان میں قید سزا یافتہ خاتون سائنسدان عافیہ صدیقی کے بارے میں پڑھی۔

مشاعرے میں علی نقوی، کامران ندیم، احمد مبارک، نون میم دانش، نوید افضال، رضیہ فصیح احمد، شہلا نقوی رفیع الدین راز، ریاض لطیف، سعید نقوی، شوکت فہمی، الطاف ترمذی، نون میم دانش، حمیرا رحمان، ارشد اللہ خان، وکیل انصاری، یوسف خان، رئیس وارثی، نسیم سید، منیزہ شاہ اور شہلا نقوی نے اپنی شاعری پیش کی۔

سیمینار میں انگریزی کی معروف پاکستانی نژاد لکھارن منیزہ نقوی، اور عاقلہ اسما‏عیل اور شاہد احمد دہلوی کے بیٹے محمود احمد دہلوی نے بھی شرکت کی۔

جبکہ سیمینار کے دوسرے روز آصف فرخی نے شاہد احمد دہلوی کا سعادت حسین منٹو کی شخصیت پر لکھا ہوا نایاب پروفائل پڑھا۔

اس موقع پر نیویارک سے شائع ہونیوالے ایک اردو اخبار نے منٹو پر ضمیمہ بھی شائع کیا جس میں منٹو کے ’کالی شلوار‘ سمیت شاہکار افسانے بھی شامل تھے۔