’اب غلطی کا متحمل نہیں ہوسکتا‘

عمران عباس کے مطابق فلم جانثار پاکستان اور بھارت دونوں سے متعلق ہے

،تصویر کا ذریعہimran abbas

،تصویر کا کیپشنعمران عباس کے مطابق فلم جانثار پاکستان اور بھارت دونوں سے متعلق ہے
    • مصنف, حسن کاظمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستانی اداکار عمران عباس نے کہا ہے کہ انھوں نے بھارت میں مزید دو فلمیں سائن کی ہیں تاہم ان کا اعلان وہ کچھ دنوں میں کریں گے۔

بھارت سے واپسی پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عمران عباس نے اپنی آنے والی فلم جانثار کے بارے میں بتایا کہ اس میں ایک مسلمان شہزادے کا کردار ادا کررہے ہیں اور فلم کی کہانی سنہ 1877 میں یعنی جنگِ آزادی کے بیس سال بعد کے پس منظر میں فلمائی گئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہانی کا مرکز وہ حالات ہیں کہ کس طرح انگریزوں نے مسلمانوں اور ہندؤوں میں اختلافات کو ہوا دی اور بالآخراس کانتیجہ ملک الگ ہونے میں نکلا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جو آزادی کے شہدا تھے وہ ہمارے بھی شہدا ہیں اور ان کے بارے میں اس فلم میں بتایاگیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ جانثار کا پاکستان میں بھی پریمئیر ہو کیونکہ یہ فلم پاکستان اور بھارت دونوں سے متعلق ہے۔

یاد رہے کہ جانثار 7 اگست کو ریلیز کی جارہی ہے۔

انھوں نے واضع کیا کہ فلم کسی ملک کے خلاف ہرگز نہیں ہے۔

ہدایت کار مظفر علی کے بارے میں ان کہنا تھا کہ وہ خود ایک فن کار ہیں اور وہ امراؤ جان ادا جیسی فلم بھی بنا چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں مظفرعلی سے بہت سیکھنے کا موقع ملا اور ان کے کام کرنا کا انداز بہت ہی مختلف ہے کیونکہ وہ رقص، موسیقی، ادب اور تاریخ کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔

 فلم جانثار میں عمران عباس ایک مسلمان شہزادے کا کردار ادا کررہے ہیں

،تصویر کا ذریعہimran abbas

،تصویر کا کیپشن فلم جانثار میں عمران عباس ایک مسلمان شہزادے کا کردار ادا کررہے ہیں

فلم کی ہیروئین پرنیا قریشی کے بارے میں انھوں نے کہا کہ وہ ایک اچھی کتھک ڈانسر ہیں اور فلم میں ان کا کردار بھی ایک طوائف کا ہے اس لیے انھوں نے اسے بہت اچھی طرح نبھایا ہے البتہ انہیں اردو بولنے میں بہت مشکل ہوتی تھی جس پر انھوں نے بہت محنت کی ہے۔

عمران عباس نے بتایا کہ انھیں کئی پاکستانی فلموں میں کام کرنے کی پیشکش ہوچکی ہے تاہم وہ دیکھ بھال کر ہی کسی فلم میں کام کریں گے چاہے وہ بھارت میں ہو یا پاکستان میں کیونکہ ان کے خیال میں وہ مزید غلطیاں کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

عمران عباس کے مطابق ان کی پہلی فلم ’کریچر‘ جو بپاشا باسو کے ساتھ ہی اس پر انھیں کئی افراد نے پوچھا کہ یہ کیا کیا تھا تاہم وہ ایک تجربہ تھا کیونکہ وہ ایک عام فلم نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کی شناخت ڈرامے سے ہی بنی ہے تاہم ان ترجیح اچھا کام ہے چاہے وہ فلم ہو ٹی وی یا ڈرامہ۔