کراچی کا کدّو

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, مبشر علی زیدی
- عہدہ, صحافی، کراچی
شوہر نے کہا، ’آج میں کھانا پکاؤں؟‘ بیوی نے کہا ’کدّو۔‘
یہ لطیفہ کراچی کے لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں جہاں کدّو کا ایک مطلب ہے، خاک۔ یعنی میاں جی، آپ کیا خاک کھانا پکائیں گے۔
کراچی غالباً کدّو درآمد نہیں کرتا لیکن دوسرے خطوں کی سبزیوں اور الفاظ کی یہاں بہت کھپت ہے۔
مقامی، مہاجر، خاندانی، دوغلے، امن پسند، جنگجو ہر طرح کے الفاظ، محاورے اور لشکر یہاں پائے جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں لشکری زبان میں تبدیلیاں آتی جا رہی ہیں۔
ایک تبدیلی کے آثار چند دن پہلے ایک ٹی وی چینل پر نظر آئے، جس کی ہیڈلائن تھی، ’سورج بیک فٹ پر چلاگیا، سردی کا کم بیک۔‘
صاف پتہ چلتا ہے کہ اردو بیک فٹ پر چلی گئی ہے اور انگریزی فرنٹ فٹ پر کھیل رہی ہے۔ ممکن ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ ہو کہ حال ہی میں کرکٹ ورلڈکپ ہوا ہے تو کیا کرکٹ کی کمنٹری نے بھی زبان پر کوئی اثرات مرتب کیے ہیں؟
مرزا اقبال بیگ کرکٹ کے مصبر، صحافی اور ایک ٹی وی پروگرام کے میزبان ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آٹھ گھنٹے تک ریڈیو کان پر لگا کر کمنٹری سننے والے ضرور کمنٹیٹر کی گفتگو سے متاثر ہوتے تھے اس لیے زبان میں کرکٹ کی اصطلاحات شامل ہوگئیں۔
لیکن پہلے حسن جلیل اور ادریس صاحب جیسے کمنٹیٹر تھے جنھوں نے اپنی منفرد شناخت بنائی۔ حسن جلیل شاعرانہ انداز میں موسم کا حال بتاتے تھے۔ ادریس صاحب مزاح پیدا کرتے تھے۔ ایک بار انھوں نے کہا، ’منظور الہیٰ نے ساہیوال کی بھینسوں کا دودھ پیا ہے اس لیے اونچے چھکے لگاتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہمارے کمنٹیٹر اب سٹیڈیم نہیں جاتے، وہ ٹی وی دیکھ کر کمنٹری کرتے ہیں۔ ریڈیو کے سٹوڈیو میں یعنی محدود مقام پر محدود الفاظ میں کمنٹری کی جا رہی ہے۔ اب کوئی محاورے کی زبان نہیں بولتا، صرف سکور بتاتے ہیں۔
کھیلوں کے سینیئر صحافی سید محمد صوفی نے شعوری طور پر کچھ الفاظ کو نیا رنگ دینے کی کوشش کی تھی۔ ایک بار جاوید میانداد کو ٹیم سے نکال دیا گیا تو انھوں نے لکھا: ’میانداد کو کرکٹ سے جلاوطن کر دیا گیا۔‘ اس پر اخبار کے ایڈیٹر نے انھیں شوکاز نوٹس دے دیا۔
سید محمد صوفی کہتے ہیں کہ ’ہم جس شعبے میں کام کرتے ہیں اسے ذرائع ابلاغ کہتے ہیں۔ ابلاغ ہو جائے یعنی بات پہنچ جائے تو ہم کامیاب ہیں۔ یہ ذریعہ ادب نہیں۔ زبان کسی اخبار ریڈیو ٹی وی کی وجہ سے نہیں بنتی بگڑتی۔ آج آپ تمام چینل بند کردیں گے تو کیا زبان نہیں بدلے گی؟‘

،تصویر کا ذریعہTHINKSTOCK
کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر طاہر مسعود یہ بات نہیں مانتے کہ ذرائع ابلاغ کا کام صرف خبر پہنچانا ہے۔
ان کا موقف ہے کہ عوام کو تعلیم دینا بھی میڈیا کے وظائف میں سے ایک ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ادب سے معاشرے کا رشتہ ٹوٹ جائے تو زبان بگڑنے لگتی ہے۔ اس صورت حال کو ذرائع ابلاغ بہتر بناسکتے ہیں لیکن ان کا خود ادب سے رشتہ ٹوٹ گیا ہے۔
پروفیسر طاہر مسعود اصرار کرتے ہیں کہ صحافیوں کے ساتھ میڈیا اداروں کے مالکان کی بھی تربیت ہونی چاہیے تاکہ زبان کی اصلاح ان کی ترجیحات میں اوپر آ سکے۔
سینیٹر تاج حیدر کہتے ہیں کہ الیکٹرونک میڈیا اشرافیہ کی زبان بولتا ہے جو مغربی تہذیب سے متاثر ہے اس لیے انگریزی الفاظ کا استعمال بڑھتا جارہا ہے۔
تاج حیدر اس بات سے متفق ہیں کہ عوام کا کتاب سے رشتہ ختم ہوگیا ہے۔ پہلے ہر گھر میں کتابیں ہوتی تھیں، ہر محلے میں لائبریری ہوتی تھی۔ لوگ کتابیں پڑھتے تھے تو ان کے پاس الفاظ اور خیالات کا ذخیرہ ہوتا تھا۔ کتابیں نہ پڑھنے سے الفاظ اور سوچ محدود ہوتی جا رہی ہے۔
جو حال پوری قوم کا ہے وہی سیاست دانوں کا ہے۔ وہ بھی کتابیں کم، اخبار زیادہ پڑھتے ہیں۔
تاج حیدر نے کہا کہ انھوں نے بھٹو صاحب سے اچھی انگریزی تقریر کسی کی نہیں سنی۔ انھیں بہت اچھی اردو نہیں آتی تھی لیکن وہ اردو میں خطاب کرتے ہوئے اپنا پیغام ضرور پہنچا دیتے تھے۔
آج کل کچھ لوگ سیاست دانوں کی زبان پکڑ لیتے ہیں۔ یہ کمیڈیئن یا مزاح کار ہیں جو سیاست دانوں کے تکیۂ کلام کو پکڑ کے اس کی درگت بنادیتے ہیں۔
مقبول فن کار علی میر کہتے ہیں کہ لوگوں کو ہنسانا کبھی آسان کام نہیں رہا لیکن آج کل کے حالات میں یہ خطرناک بھی ہوگیا ہے۔
ان کے مطابق عام لوگ توقع کرتے ہیں کہ ہم اپنے ہر جملے سے انھیں قہقہہ لگانے پر مجبور کر دیں گے لیکن ہمیں بہت سی حدود کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔اخلاقی اور معاشرتی اقدار کے علاوہ کچھ محترم حلقے اور زودرنج شخصیات بھی ہیں۔ ایسے میں کون فن کار زبان پر توجہ دے سکتا ہے؟
سیاست دان کہتا ہے کہ اس کا کام اردو کا فروغ نہیں، اپنا پیغام پہنچانا ہے۔ فن کار کہتا ہے کہ اس کا کام زبان کی اصلاح نہیں، عوام کو ہنسانا ہے۔ کمنٹیٹر کہتا ہے کہ اس کا کام محاورے بتانا نہیں، میچ کا اسکور بتانا ہے۔ صحافی کہتا ہے کہ اس کا کام درست تلفظ سکھانا نہیں، خبر پہنچانا ہے۔
ارے بھیا، اگر سب یوں کریں گے تو زبان کیا کدو ٹھیک ہو گی؟







