تندرست و توانا کرک ڈگلس کی موت کی خبر

موت کی خبر شائع ہوتے ہی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر رسالے پر سخت تنقید کی گئی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنموت کی خبر شائع ہوتے ہی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر رسالے پر سخت تنقید کی گئی

مشہور امریکی میگزین پیپل نے اتوار کو ہالی وڈ کے معروف اداکار کرک ڈگلس کی موت کی خبر شائع کر دی جبکہ وہ تندرست و توانا ہیں۔

پیپل میگزین کے آن لائن ایڈیشن میں سرخی دی گئی تھی ’ڈو ناٹ پبلش کرک ڈگلس انتقال کر گئے۔‘

رسالے کے آن لائن ایڈیشن نے غلطی سے ان کی مطبوعہ خبرِ مرگ شائع کر دی۔

کرک ڈگلس دسمبر میں 98 سال کے ہو جائیں گے۔

غلطی سے شائع ہونے والی خبر میں کرک ڈگلس کی چھ دہائیوں پر پھیلی ہوئی فنی زندگی پر نظر ڈالی گئی ہے، جس میں ان کی 1956 کی مشہور فلم ’لسٹ فار لائف‘ کا ذکر بھی شامل ہے۔

موت کی خبر شائع ہوتے ہی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر رسالے پر سخت تنقید کی گئی۔

موت کی خبر میں کہا گیا تھا کہ ’کرک ان مایہ ناز اداکاروں میں سے ایک تھے جنھوں نے فلمی صنعت میں اس وقت اپنا نام بنایا جب امریکہ میں ٹی وی دیکھنے والوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ان کی موت XXX کو ہوئی۔ ان کی عمر 97 برس تھی اور وہ تندرست تھے۔‘

کرک ڈگلس کو تین بار آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا تاہم وہ یہ ایوارڈ نہ جیت سکے۔ ان کو 1996 میں سٹیون سپیلبرگ نے اعزازی آسکر دیا۔

وہ ہالی وڈ کے مشہور اداکار مائیکل ڈگلس کے والد ہیں۔

یہ کوئی نئی بات نہیں کہ مشہور افراد کی مطبوعہ خبرِ مرگ پہلے ہی سے لکھ کر رکھی جائے۔

سنہ 2008 میں بلوم برگ نے غلطی سے ایپل کے شریک بانی سٹیو جابز کی موت کی خبر دی تھی۔ سٹیو جابز کا انتقال تین سال بعد 2011 میں ہوا تھا۔

پیپل رسالے نے اس غلطی پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔