مدھوبالا کو بمل رائے کی فلم میں کام نہ کرنے کا افسوس

،تصویر کا ذریعہMadhur Bhushan
اپنے زمانے کی معروف ترین اداکارہ مدھوبالا معروف ہدایتکار بمل رائے کی فلم ’براج بہو‘ میں کام کرنا چاہتی تھیں۔ انھوں نے بمل رائے کے دفتر کے کئی چکر بھی لگائے لیکن بمل رائے انھیں کاسٹ نہیں کر پائے۔
مدھوبالا کو آخری وقت تک اس بات کا افسوس تھا۔ بی بی سی کے ویبھو دیوان نے جولائی کو بمل رائے کی 105 ویں سالگرہ کے موقعے سے ان کی بیٹی رنکی بھٹاچاریہ سے گفتگو کی جنھوں نے اسی قسم کی کئی دلچسپ باتیں بتائيں جسے ہم اپنے قارئین کےساتھ شیئر کر رہے ہیں۔
بمل رائے نے اپنے زمانے کی کئی یاد گار فلمیں دیں جو ہندوستانی سنیما میں میل کا پتھر ثابت ہوئیں۔
ان کی فلموں میں ’دو بیگھہ زمین‘، ’بندني‘، ’مدھومتي‘، ’دیوداس‘ جیسی فلمیں شامل ہیں۔
بمل رائے کے بارے میں معروف بنگالی اداکارہ کانن دیوی نے ایک بار کہا تھا: ’ارے بمل دا آپ کے ہاتھوں میں تو جادو ہے۔ آپ نے تو مجھے اپسرا بنا دیا۔
بمل رائے، فلم ہدایت کار سے پہلے ایک فوٹو گرافر تھے۔ ان میں تصاویر کو پرکھنے کی بلا کی صلاحیت تھی۔

رنکی نے بتایا: ’کلکتہ میں ان کے سٹوڈیو کے باہر لمبی لائن لگی ہوتی تھی۔ ہیرو، ہیروئن تو چھوڑیئے بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی بھی ان کی تصاویر کی پرستار تھیں۔ سب چاہتے تھے کہ وہ بمل دا سے تصاویر كھنچوائیں۔‘
کیمرے کی اسی محبت نے انہیں فلم ساز اور ہدایت کار بنا دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رنکی کہتی ہیں: ’بابو جی کی سوچ وقت سے آگے کی تھی۔ مدھومتي سے متاثر آج تک فلمیں بن رہی ہیں۔ رشی کپور کے قرض اور فرح خان کی اوم شانتی اوم اسی سے متاثر ہیں۔‘
واضح رہے کہ ’مدھومتی‘ میں دلیپ کمار اور ویجنتی مالا ہیں اور یہ آج تک کی بہترین فلموں میں شمار ہوتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہRinki Bhattacharya
رنکی نے فلم ’دیوداس‘ کے تعلق سے دلچسپ باتیں بتائيں: والد صاحب نے دلیپ کمار کو لے کر دیوداس بنائی۔
انھوں نے کہا: ’سنجے لیلا بھنسالي نے بھی دیوداس بنائی، لیکن وہ دیوداس کی ٹریجڈی (المیہ) نہیں سمجھ پائے۔ شاہ رخ خان تو اس کردار کے درد کو ہی نہیں سمجھ سکے۔‘
رنکی کہتی ہیں: ’بمل رائے زيادہ بولتے نہیں تھے۔ فلم ہٹ ہونے پر بھی کوئی پارٹی وغیرہ منعقد نہیں کرتے تھے۔ وہ خود فلم ساز تھے لیکن اپنے بچوں کو فلم سے دور رکھتے تھے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ رنکی ایک صحافی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہRinki Bhattacharya
’وہ بہت سگریٹ پیتے تھے اور اسی وجہ سے صرف 56 سال کی عمر میں کینسر سے ان کی موت ہو گئی۔سگریٹ نے ایک عظیم فلم کو ہم سے ہمیشہ کے لئے چھین لیا‘
بی بی سی سے بات چیت میں رنکی نے بتایا: ’اپنے آخری دنوں میں بابوجی ایک فلم پر کام کر رہے تھے۔ جو کمبھ میلے پر مبنی تھی۔ فلم کی شوٹنگ بھی ہوئی۔ گلزار اس کا حصہ تھے۔ اگر یہ فلم بنتی، تو بھارت کا پہلا آسکر بھی بمل رائے ہی لاتے۔
’کبھی بھارتی حکومت نے بابو جی کی عزت افزائی نہیں کی انھیں کوئی اعزاز نہیں ملا۔ انھیں کو جو محبت اور عزت ملی وہ عوام سے ہی ملی۔‘







