’دلیپ بولے، جانی تم تو سٹار ہو‘

بالی وڈ میں ایک دور وہ تھا جب فلموں میں کامیڈی اور کامیڈین کے کردار کی بڑي اہمیت ہوتی تھی۔ لیکن اب ان فلموں سے کامیڈين کا خانہ تقریباً خالی ہو چکا ہے۔
آج کل فلم میں ہیرو رومانس، ایکشن اور کامیڈی کے کردار کے لیے اکیلا ہی کافی ہے۔
نوے کے عشرے میں فلموں میں مزاحیہ کرداروں میں زبردست کامیابی حاصل کرنے والے اداکاروں میں جانی لیور کا نام آتا ہے۔ وہ سنجیدہ قسم کی کہانیوں کو بھی اپنے خاص مزاحیہ انداز سے رنگین بنا دیتے تھے۔
کامیڈی کا دورہ
جانی لیور کے پاس اب بہت کم فلمیں ہیں۔ اسی لیے وہ ایک بار پھر وہیں جا کھڑے ہوئے ہیں جہاں سے انھوں نے 16 برس قبل ابتدا کی تھی۔ اب وہ سٹیج پر لائیو کامیڈی شوز کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ کامیڈی کا دور نہیں بلکہ آج کل سب کو کامیڈی کا دورہ پڑ گیا ہے۔‘
تاہم جانی لیور ان حالات سے مایوس نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ چیزیں بدل جایا کرتی ہیں۔
دلیپ کمار بولے، ’جانی تم تو سٹار ہو‘
جانی لیور بتاتے ہیں کہ 80 کے عشرے میں لائیو شو کرنے کا دور تھا۔ موسیقی کے ڈائریکٹر اپنے گروپ کے ساتھ ملک بھر میں شو کیا کرتے تھے: ’ایک ایسے ہی شو میں جب مجھے ایک دم سے سٹیج پر بھیج دیا گیا، تو میرے سامنے امیتابھ بچن تھے۔ میرا کامیڈی کا وہ حصہ اتنا اچھا ہوا کہ پورے ہال میں جانی، جانی کے نعرے لگنے لگے۔ اگلے روز اخباروں میں ایک جگہ امیتابھ بچّن کی تصویر تھی تو دوسری جگہ میری۔‘

،تصویر کا ذریعہSaira Bano
جانی لیور اپنی زندگی کا سب سے خوشگوار لمحہ اسے سمجھتے ہیں جب امریکہ میں ایک شو کے بعد لوگ ان سے آٹوگراف مانگ رہے تھے۔ یہ دیکھ کر دلیپ کمار صاحب بولے: ’جانی یار تم تو سٹار بن گئے ہو، سٹار۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رول کٹ جاتا ہے
فلمی دنیا میں کامیڈی میں دلچسپی کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ پروڈیوسروں اور ہدایت کاروں کی خواہش ہوتی ہے کہ فلم میں 15 سے 20 منٹ کا اچھا کامیڈی سین ہو۔
جانی لیور کہتے ہیں کہ ہیرو کے سامنے مزاحیہ فنکاروں کو جھکنا ہی پڑتا ہے۔ جب ہیرو کو پتہ چلتا ہے کہ ایک کامیڈین کے سین نے فلم کو ایک دم سے اٹھا دیا ہے تو پھر وہ مناظر کاٹنے پڑتے ہیں۔ جانی کہتے ہیں کہ خود ان کے ساتھ ایسا ہو چکا ہے۔
جانی کا کہنا ہے کہ بھلے ہی فلموں میں کامیڈین کا کردار کٹ رہا ہو لیکن اصل زندگی میں انھیں فلم کے ہیروؤں سے کم محبت نہیں ملی۔
وہ ایک دلچسپ واقعہ بتاتے ہیں کہ ’ایک بار ایک لڑکی اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ لنچ کر رہی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی کھانا چھوڑ کر میرے پاس آئی اور مجھے گالوں پر زور سے کس کیا۔‘







