’انڈسٹری میں ٹیلنٹ کے ساتھ قسمت کا ہونا ضروری‘

پائل

،تصویر کا ذریعہPayal Ghosh

،تصویر کا کیپشن’انڈسٹری میں ٹیلنٹ کے ساتھ قسمت کا ہونا ضروری ہے‘

ودیا بالن نے حال ہی میں کہا تھا، ’آپ کی سکیورٹی آپ کے ہاتھ میں ہے۔ کاسٹنگ کاؤچ کے معاملے میں یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ صورتحال سے کیسے نمٹتے ہو۔‘

بالی وڈ میں جہاں مرد فنکاروں کو رول حاصل کرنے کے لیے پسینہ بہانا پڑتا ہے وہیں خواتین فنکاروں کے لیے بھی یہ راہ آسان نہیں۔ بالی وڈ میں کئی بار کاسٹنگ کاؤچ کے معاملے سامنے آ چکے ہیں۔

دہلی کی رہنے والی ترپتی شرما پانچ سال پہلے دلی سے ممبئی آئیں۔ ان کے دل میں بالی وڈ میں ایک مقام حاصل کرنے کی خواہش تھی۔

لیکن کچھ اشتہارات اور یش راج بینر کی ’شُدھ دیسی رومانس‘ میں ایک چھوٹے سے رول کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا۔

ترپتی کے مطابق: ’انڈسٹری میں کئی کوآرڈینیٹر ہوتے ہیں، جن کے پاس تمام ماڈلز اور اداکاراؤں کا ڈیٹا ہوتا ہے اور اچھے رولز کے لیے ان ہی سے رابطہ کیا جاتا ہے اور پھر یہ ہمیں رول دینے کے عوض ہم سے اچھی خاصی رقم لیتے ہیں۔‘

ترپتی

،تصویر کا ذریعہTripti Sharma

،تصویر کا کیپشن’نئے فنکاروں کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے‘

ترپتی، انڈسٹری کے کاسٹنگ ڈائریکٹرز پرسوال اٹھاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’انہیں معلوم ہوتا ہے ہم سٹرگلِنگ فنکاروں کی مجبوری ہے اسی لیے یہ ہمیں انگلیوں پر نچاتے ہیں اور ساتھ گھومنے پھرنے کے لیے کہتے ہیں‘۔

اندور کی پریمي شریواستو چار سال پہلے ممبئی آئی تھیں ۔ وہ ’ پریچے‘ ، ’ساودھان انڈیا‘ اور ’یہ عاشقی‘ جیسے ٹی وی پروگراموں میں کام کر چکی ہیں۔

لیکن گلیمر انڈسٹری کے طور طریقوں اور لوگوں سے’پریشان‘ ہو کر اب انہوں نے اداکاری چھوڑ کر اینکر بننے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

پریمی

،تصویر کا ذریعہPrimi Srivastava

،تصویر کا کیپشن’فلم اور ٹی وی کی دنیا کی تمام پارٹیاں مصنوعی ہوتی ہیں‘

پریمي کے مطابق فلم اور ٹی وی کی دنیا میں جتنی پارٹیاں ہوتی ہیں، تمام مصنوعی ہوتی ہیں۔ ’لوگ جھوٹے وعدے کرتے ہیں، اپنے ساتھ پارٹی میں لے جاتے ہیں، بناوٹی مسكراہٹ کے ساتھ لوگوں سے مِلنا پڑتا ہے۔ کوئی بھی بڑا پروڈیوسر یا فائنینسر صرف اس لیے آپ کو فلم نہیں دیتا کہ آپ اس کے ساتھ پارٹی میں آئی ہیں۔‘

پائل گھوش کچھ ٹی وی پروگراموں اور فلموں میں کام کر چکی ہیں۔ ان کا تجربہ اتنا برا نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کام حاصل کرنے کے لیے انہیں نہ تو ڈھیر سارے آڈیشنز دینے پڑے نہ ہی سٹوڈیوز کے چکر لگانے پڑے۔

پائل کہتی ہیں، ’میں 16 سال کی عمر میں جب چھٹیاں منانے ممبئی آئی تو ایک ڈائریکٹر نے مجھے دیکھا اور اپنی ایک ٹیلی فلم میں کام دے دیا۔ پھر میں نے ایک تیلگو فلم کی۔ میرے کئی دوست ہیں جو بہت سالوں سے جدوجہد کر رہے ہیں لیکن انڈسٹری میں ٹیلنٹ کے ساتھ قسمت کا ہونا بہت ضروری ہے۔‘