وہ آخری خط اور دادا صاحب کی موت

،تصویر کا ذریعہchandrashekhar
ہندوستانی سنیما کے بانی کہلائے جانے والے دھنڈی راج گووند پھالکے یعنی دادا صاحب پھالکے نے سنہ 1944 میں آخری بار فلم بنانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ انھیں فلم بنانے کی اجازت نہیں ملی اور انکار کے اس ایک خط کے بعد دادا صاحب پھالکے بھی نہیں رہے۔
دادا صاحب پھالکے کی سالگرہ کے موقعے پر بی بی سی کے لیے مدھو پال نے پھالکے کے نواسے چندر شیکھر پسالكر سے بات چیت کی۔
آج یعنی 30 اپریل کو دادا صاحب پھالکے کی 144 ویں سالگرہ ہے۔
پسالكر کہتے ہیں: ’اپنے آخری برسوں میں دادا صاحب ایلزہائمر کے مرض میں مبتلا تھے لیکن ان کے بیٹے پربھاکر نے ان سے کہا کہ چلیے نئی ٹیکنالوجی سے کوئی نئی فلم بناتے ہیں۔ اس وقت برطانوی راج تھا اور فلم سازی کے لیے لائسنس لینا پڑتا تھا۔ جنوری 1944 میں دادا صاحب نے لائسنس کے لیے خط لکھا۔ 14 فروری 1946 کو جواب آیا کہ فلم بنانے کی اجازت نہیں مل سکتی۔ اس دن انھیں ایسا صدمہ لگا کہ دو دن کے بعد ہی وہ چل بسے۔‘
چندر شیکھر کہتے ہیں کہ ’آج جس فلم انڈسٹری کی اتنی ساکھ ہے اس کے بانی کی جب موت ہوئی تو ان کے آخری سفر میں شامل ہونے کے لیے بھی چند لوگ ہی تھے اور اخبارات میں بھی ان کی موت کی خبر چند سطروں پر مبنی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہchandrashekhar
بات چیت کے دوران چندر شیکھر نے بتایا کہ ان کے اہل خانہ نے بہت کوشش کی کہ دادا صاحب کو بھارت رتن سے نوازا جائے لیکن کچھ نہ ہو سکا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ’سنہ 2000 اور 2001 کے دوران ہم نے کئی فلم تنظیموں کے ساتھ مل کر حکومت کے سامنے یہ مطالبہ رکھا تھا کہ دادا صاحب کو بھارت رتن دیا جائے۔ اس تجویز کی کاپی آج بھی میرے پاس ہے لیکن اس کا کچھ نہیں ہوا۔‘
ان کا خیال ہے کہ ’اب بھی دیر نہیں ہوئی ہے۔ اگر حکومت چاہے تو انھیں یہ اعزاز دیا جا سکتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارت رتن ہندوستان کا سب بڑا شہری اعزاز ہے، اور یہ ستیہ جیت رے، لتا منگیشکر، استاد بسم اللہ اور روی شنکر جیسے کئی فنکاروں کو مل چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہchandrashekhar
چندر شیکھر نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا: ’بھارت رتن تو اسی کے لیے ہے جس نے بھارت کے لیے کچھ کیا ہو تو پھر انھیں کیوں نہیں ملا؟ مزید کیا ثبوت چاہیے جس کی بنیاد پر انھیں یہ اعزاز دیا جائے گا؟ ہم پیسے نہیں مانگ رہے ہیں بس ان کے لیے اعزاز ہی تو چاہتے ہیں۔‘
پسالكر اس بات سے بھی افسردہ ہیں کہ پھالکے کے نام پر ایوارڈ دیا جاتا ہے لیکن ان کے خاندان والوں کو کبھی بلایا نہیں جاتا۔
واضح رہے کہ بھارت میں سینیما کا سب سے باوقار اعزاز دادا صاحب پھالکے کے نام پر ہی دیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہchandrashekhar
پھالکے خاندان کے مطابق فلمی صنعت کے رویے کی بات چھڑنے پر چندر شیکھر نے کہا: ’میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلم انڈسٹری لاپروا رہی ہے۔ سنیل دت صاحب نے ہماری کافی مدد کی۔ میری ماں جب ایلزہائمر اور کینسر سے لڑ رہی تھیں تو وہ گھر آئے تھے۔ اقتصادی مدد کی۔ ان کی وجہ سے ماں کو تین سال تک پنشن بھی ملی۔ ایسا کون کرتا ہے۔ یش چوپڑا صاحب نے مجھے اپنے دفتر بلا کر چیک دیا تھا اور کہا کہ کسی سے نہ کہنا۔‘
بھارت میں پہلی مکمل فلم ’راجہ ہریش چندر‘ دادا صاحب پھالکے نے سنہ 1913 میں پیش کی تھی۔ اس موقعے پر گذشتہ سال انڈین سینیما کا صد سالہ جشن پورے سال جاری رہا تھا۔







