مارویل کی پاکستانی نژاد سپر ہیرو کی پہلی جھلک

امریکہ کی مارویل کامکس جس نے نومبر کے مہینے میں پہلی مرتبہ ایک پاکستانی نژاد مسلمان لڑکی کو ’آل نیو مارویل ناؤ‘ سیریز کا حصہ بنایا تھا۔ اب اس نے اس سپر ہیرو مسلم خاتون کی پہلی جھلک لانچ کی ہے۔
نئی مس مارویل کا کردار نیو جرسی میں رہنے والی 16 سالہ کاملہ خان کےگرد گھومتا ہے جو ایک پاکستانی نژاد تارکِ وطن خاندان سے ہیں۔
اس کامک کی پہلی جھلک معروف برطانوی میگزن وائرڈ نے پرنٹ اور ڈیجیٹل دونوں شکلوں میں جاری کی ہے۔
اس سے قبل مارویل کامکس نے اپنے نئے کردار کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا تھا کہ نئی مس مارویل مذہب اسلام سے تعلق رکھنی والی شاید پہلی سپر ہیرو ہیں۔
مارویل کامکس کے کرداروں میں اس سے پہلے کوئی اسلامی کردار نہیں تھا۔ البتہ ڈی سی کامکس نے کچھ برس پہلے ایک عرب امریکی مسلمان سائمن باز کو گرین لینٹرن کے کردار میں متعارف کروایا تھا۔
کاملہ کی پہلی جھلک میں انھیں ایک بڑے میکانکی پنجے سے لڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس میں ان کی ہیت بدلنے کی صلاحیت کو بھی پیش کیا گيا ہے جس میں وہ اپنے جسم کو چھوٹا بڑا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ پہلے وہ اپنی جانب پھینکی گئی کار سے بچنے کے لیے اپنا سائز چھوٹا کر لیتی ہیں اور پھر اس میکانکی پنجے سے لڑنے کے لیے اپنا سائز اس کے مطابق بڑا کر لیتی ہیں۔
یہ سلسلہ ان کی ماں کے فون سے منقطع ہوجاتا ہے جس میں وہ کاملہ کو ڈانٹتی ہیں کیونکہ انھیں اپنی چچازاد بہن کی مہندی کی رسم میں شرکت کے لیے تاخیر ہو رہی ہے۔
نومبر میں مارویل کے ایڈیٹر ان چیف ایکسل الونسو نے کہا تھا کہ کاملہ پیٹر پارکر سے زیادہ مختلف نہیں ہے: ’وہ ایک 16 سالہ لڑکی ہے جو اپنی شناخت ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اچانک اسے طاقت مل جاتی ہے۔ اسے اپنی طاقت کو ذمے داری کے ساتھ استعمال کرنے کا ہنر ابھی سیکھنا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کہانی کے مصنف جی ولو ولسن اور ایڈیٹر ثنا امانت کا کہنا ہے کہ جوں جوں کاملہ کو طاقت ملتی ہے اس کی کہانی آگے بڑھتی ہے۔ کاملہ کوایک ہی وقت میں عظیم طاقت، خاندان کی توقعات اور بلوغت کے مسائل سے نمٹنا ہے۔
کہانی کی مصنف جی ولو ولسن نے بوسٹن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران اسلام قبول کر لیا تھا جبکہ ایڈیٹر ثنا امانت بھی امریکی مسلمان ہیں۔
ایڈیٹر ثنا امانت کا کہنا ہے کہ وہ چاہتی ہیں ان کی مس مارویل ایک ایسا حقیقی کردار ہو جو مسلمان آبادی کی نمائندہ ہو اور لوگ اپنے آپ کو اس سے وابستہ کر سکیں۔

اچانک طاقت مل جانے پر کاملہ خان چاہتی ہے کہ وہ اپنے ہیرو کپٹن مارویل کی طرح ہو جائے۔
پہلے مس مارویل کا کردار کیرل ڈینور کے گرد گھومتا تھا۔ کیرل ڈینور میں کسی دوسری دنیا کی مخلوق کے جین مکس ہو جاتے ہیں جس سے اسے انتہائی طاقت مل جاتی ہے۔ البتہ کیپٹن مارویل کی نسبت کیرل ڈینور کا کردار اتنا مشہور نہیں ہوا۔
مصنفہ مسز ولسن کا کہنا ہے کہ مس مارویل ایک خوبصورت اور مضبوط شخصیت کی مالکہ ہیں جن کے سر پر پاکستانی ہونے اور دوسروں سے مختلف ہونے کا بوجھ نہیں ہے۔
مس مارویل کے کردار کو اپنے ذہن کے اندر چلنے والی کشمکش کے علاوہ خاندانی توقعات سے بھی نمٹنا ہے۔ کاملہ کا بھائی ایک قدامت پسندانہ خیالات کا مالک ہے۔ کاملہ کی ماں کو ہر وقت یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ ان کی بیٹی کو کوئی مرد چھوے گا تو وہ حاملہ ہو جائے گی۔
کاملہ کے والد کی خواہش ہے کہ وہ اپنی پوری توجہ تعلیم کے حصول پر دے اور ڈاکٹر بنے۔ان چیلنجوں کے مقابلے میں کاملہ کے لیے سپر ویلن سے لڑنا انتہائی آسان کام محسوس ہوتا ہے۔








