تصویری خاکوں کے ذریعے تربیت

اسلام آباد کے نواح میں قائم ایک غیرسرکاری سکول ’سایہ‘ میں تقریبا پانچ سو بچے زیر تعلیم ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس سکول میں پڑھنے والے اکثر بچے آس پاس قائم کچی بستیوں یا جھونپڑیوں میں رہتے ہیں۔

اگر یہ بچے صبح کے اوقات میں سکول آتے ہیں تو شام کو کام کرتے ہیں اور اگر شام کو پڑھتے ہیں تو دن کو کام کرتے ہیں۔ انھی بچوں میں ایک نوحہ مریم بھی ہیں۔ چوتھی جماعت میں زیر تعلیم گیارہ سالہ نوحہ مریم گھروں میں کام بھی کرتی ہیں۔

سایہ سکول میں جب نوحہ مریم سے ملاقات ہوئی تو وہ ایک رنگ برنگی کامک بُک (تصویری خاکوں کی کتاب) ہاتھ میں لیے بیٹھی تھیں۔ عنوان تھا، ’کوڑے کا جن۔‘

جب ان سے پوچھا اس کتاب میں کیا لکھا ہے تو اُنہوں نے فر فر پوری کہانی بتا ڈالی اور صاف لگ رہا تھا کہ اُنہیں یہ کہانی ازبر یاد ہے۔ میں نے پوچھا کیا سیکھا اس کہانی سے تو کہنے لگی کہ کوڑا کرکٹ پھیلانا بہت غلط بات ہے۔

سکول کی پرنسپل شہلا طاہرہ نے بتایا کہ اس سکول میں زیر تعلیم کئی بچے مزدوری بھی کرتے ہیں۔ ان کی محنت اور لگن کے ساتھ ساتھ جب انھوں نے دیکھا کہ بچے اپنی کہانیاں بھی لکھتے ہیں تب انھوں نے پاکستان کی مشہور کارٹونسٹ نگار نذر سے رابطہ کیا اور اُن سے بچوں کے لیے بنائی گئیں ان کی مشہور تصویری خاکوں کی کتابیں مانگیں۔

نگار نذر کا شمار پاکستان کی اُن چند خواتین میں ہوتا ہے جنھوں نے دُنیا میں پاکستان کے ’سافٹ امیج‘ کو ابھارنے اور اس کی تشکیل میں بھر پور کردار ادا کیا ہے۔

انھوں نے اپنے کارٹون کردار ’گوگی‘ کے ذریعے پاکستانی معاشرے کے چھوٹی چھوٹی بُرائیوں کی نشاندہی کی اور ساتھ ہی اُس کے حل بھی تجویز کیے ہیں۔

کامکس کو تین زبانوں انگریزی، اردو اور پشتو میں شائع گیا ہے
،تصویر کا کیپشنکامکس کو تین زبانوں انگریزی، اردو اور پشتو میں شائع گیا ہے

وہ اب اپنے منصوبے ’ایجوکیشن تھرو کامکس‘ یا کامکس کے ذریعے تعلیم کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے میں مصروف ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا آغاز انھوں نے چند برسوں پہلے ایک امدادی ادارے کی مدد سے کیا تھا لیکن اس کی مدت ختم ہوتے ہی سکولوں میں کامکس بُکس تقسیم کیے جانے کا سلسلہ بند ہوگیا۔ تاہم انھوں نے اسے جاری رکھنے کے لیے نئی راہیں تلاش کرنا شروع کردیں ۔

اس منصوبے میں مختلف پیغامات پر مشتمل کامکس بُکس لکھی گئی ہیں اور انھیں تین مختلف زبانوں یعنی انگریزی، اردو اور پشتو میں شائع گیا ہے۔

ان کتابوں کے موضوعات میں ’عقیدہ اپنا اپنا،‘ ’مگر ہم وطن ہم جان،‘ ’کوڑے کا جن،‘ ’مہربان اجنبی سے ہوشیار،‘ ’علم کی دولت،‘ ’حقوق نسواں،‘ ’حرام کی کمائی،‘ ’رسوائی ہی رسوائی‘ وغیرہ شامل ہیں۔ ان موضوعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ نگار معاشرے میں تعلیم کے ساتھ ساتھ معاشرتی تربیت بھی عام کرنا چاہتی ہیں۔

اس سلسلے میں بچوں کو ایک بستہ دیا جاتا ہے جس میں کامکس بُکس رنگ برنگی پنسلیں تربیتی چارٹس اور کہانیاں لکھنے کے لیے دی جانے والی کاپیاں وغیرہ موجود ہوتی ہیں۔

نگار نے اس بسستے کے اخراجات کے لیے کچھ راستے تلاش کیے اور اس سلسلے کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے مشہور کردار گوگی کے کچھ گریٹنگ کارڈز بھی تیار کیے ہیں اور اس طرح وہ فنڈز اکٹھا کرکے مختلف سکولوں میں یہ کامکس بُکس تقسیم کرتی رہتی ہیں۔ انھی سکولوں میں سایہ سکول بھی شامل ہے۔

نگار کے اس کام کو آگے بڑھانے میں مختلف بڑے سکولوں میں زیر تعلیم بچے اور خود اساتذہ بھی رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہیں۔