پہلی کامکس مسلمان سپر ہیرو

نئی مس مارویل کا اسلامی عقیدے سے تعلق ہے
،تصویر کا کیپشننئی مس مارویل کا اسلامی عقیدے سے تعلق ہے

مارویل کامکس نے پہلی مرتبہ ایک پاکستانی نژاد مسلمان لڑکی کو نئی مس مارویل کے کردار میں متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے۔

نئی مس مارویل کا کردار نیو جرسی میں رہنے والی سولہ سالہ کاملہ خان کےگرد گھومتا ہے۔کاملہ خان کا تعلق ایک پاکستانی نژاد تارکِ وطن خاندان سے ہے جو نیو جرسی کے مضافات میں رہائشں پذیر ہے۔

مارویل کامکس نے اپنے نئے کردار کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ نئی مس مارویل مذہب اسلام سے تعلق رکھنی والی شاید پہلی سپر ہیرو ہیں۔

مارویل کامکس کے کرداروں میں اس سے پہلے کوئی اسلامی کردار نہیں تھا۔البتہ ڈی سی کامکس نے کچھ برس پہلے ایک عرب امریکی مسلمان سائمن باز کو گرین لینٹرن کے کردار میں متعارف کروایا تھا۔

مس مارویل کے نئے کردار میں پھیلنے، سکڑنے اور اپنے جسم اور جوڑوں کو تبدیل کرنے کی صلاحیت ہوگی۔

مارویل کے ایڈیٹر ان چیف ایکسل الونسو کا کہنا ہے کہ کاملہ پیٹر پارکر سے زیادہ مختلف نہیں ہے: ’وہ سولہ سالہ لڑکی ہے جو اپنی شناخت ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اچانک اسے طاقت مل جاتی ہے۔ اسے اپنی طاقت کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے بھی سیکھنا ہے۔‘

کہانی کے مصنف جی ولو ولسن اور ایڈیٹر ثنا امانت کا کہنا ہے کہ جوں جوں کاملہ کو طاقت ملتی ہے اس کی کہانی آگے بڑھتی ہے۔ کاملہ کوایک ہی وقت میں عظیم طاقت، خاندان کی توقعات اور بلوغت کے مسائل سے نمٹنا ہے۔

کہانی کی مصنف جی ولو ولسن نے بوسٹن یونیورسٹی میں پڑھائی کے دوران اسلام قبول کر لیا تھا جبکہ ایڈیٹر ثنا امانت بھی امریکی مسلمان ہیں۔

ایڈیٹر ثنا امانت کا کہنا ہے کہ وہ چاہتی ہیں ان کی مس مارویل ایک ایسا حقیقی کردار ہو جو مسلمان آبادی کی نمائندہ ہو اور لوگ اپنے آپ کو اس سے وابستہ کر سکیں۔

کاملہ خان کا پاکستان نژاد خاندان نیو جرسی کے مضافات میں رہائشں پذیر ہے
،تصویر کا کیپشنکاملہ خان کا پاکستان نژاد خاندان نیو جرسی کے مضافات میں رہائشں پذیر ہے

اچانک طاقت مل جانے پر کاملہ خان چاہتی ہے کہ وہ اپنے ہیرو کپٹن مارویل کی طرح ہو جائے۔

پہلے مس مارویل کا کردار کیرل ڈینور کے گرد گھومتا تھا۔ کیرل ڈینور میں کسی دوسری دنیا کی مخلوق کے جین مکس ہو جاتا ہے جس سے اسے انتہائی طاقت مل جاتی ہے۔ البتہ کیپٹن مارویل کی نسبت کیرل ڈینور کا کردار اتنا مشہور نہیں ہوا۔

مصنف مسز ولسن کا کہنا ہے کہ مس مارویل ایک خوبصورت اور مضبوط شخصیت کی مالک ہے جس کے سر پر پاکستانی ہونے اور دوسروں سے مختلف ہونے کا بوجھ نہیں ہے۔

مس مارویل کے کردار کو اپنے ذہن کے اندر چلنے والی کشمکش کے علاوہ خاندانی توقعات سے بھی نمٹنا ہے۔ کاملہ کا بھائی ایک قدامت پسندانہ خیالات کا مالک ہے۔ کاملہ کی ماں کو ہر وقت یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ ان کی بیٹی کو کوئی مرد چھوے گا اور وہ حاملہ ہو جائے گا۔ کاملہ کے والد کی خواہش ہے کہ وہ اپنی پوری توجہ تعلیم کے حصول پر دے اور ڈاکٹر بنے۔ان چیلنجوں کے مقابلے میں کاملہ کے لیے سپر ویلن سے لڑنا انتہائی آسان کام محسوس ہوتا ہے۔

کامکس مارویل کے لوگوں کو بخوبی اندازہ ہے کہ نئی مس مارویل کے کردار پر کس قسم کے ردعمل آ سکتا ہے۔ ایڈیٹر ثنا امانت کا کہنا ہے ’ہمیں منفی ردعمل کو توقع ہے۔ نہ صرف ایسے لوگوں سے جو مسلمانوں کے مخالف ہیں بلکہ مسلمانوں سے بھی ۔ کچھ مسلمان شاید چاہیں گے کہ مس مارویل کے کردار کو ایسا نہیں بلکہ ایسا ہونا چاہیے۔‘

مصنف مس ولسن کہتی ہیں: میر ے لیے یہ بہت اہم تھا کہ میں کاملہ کو ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کروں جو اپنے عقیدے سے نبرد آزما ہے۔

مصنف کا کہنا ہے کہ اس سیریزمیں آپ دیکھیں گے کہ خاندانی اور مذہی فتوے کس طرح جرتمندانہ فیصلوں کا تقاضا کرتے ہیں اور ضابطوں کو توڑنا کیوں ضروری ہو جاتا ہے۔

نئی مس مارویل جنوری میں مارویل کے خصوصی شمارے میں پہلی بار منظر عام پر آئے گی جس کے بعد فروری میں نئی کامکس سیریز کا آغاز ہو گا۔