فرانس: متنازع اداکار کے شو پر پابندی ختم

فرانس میں ایک عدالت نے متنازع مزاحیہ اداکار جیودنی مبالا مبالا کے شو پر عائد پابندی کو ختم کر دیا ہے۔
پابندی ختم ہونے کے بعد توقع ہے کہ جیودنی جمعرات کو فرانس کے شہر نانتیز میں اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔
ان پر یہودیوں کے خلاف نفرت پر مبنی بیانات کے سات الزام ہیں اور حال ہی میں ایک یہودی صحافی کے خلاف نفرت آمیز بیانات ریکارڈ کرائے تھے۔
فرانس کے وزیر داخلہ مینوئل ویلس کا کہنا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کے خلاف ملک کی اعلیٰ انتظامی عدالت کونسل آف سٹیٹ سے اپیل کریں گے۔انھوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں’قانونی راستے ختم نہیں ہوئے ہیں‘۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عدالت کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ یہ نہیں دیکھتی کہ جیودنی کا شو ’دی وال‘ کا مرکزی مقصد انسانیت پر حملہ ہے۔
جیودنی اپنی خراب شہرت کے باوجود بہت مقبول ہیں اور نانتیز میں ان کے شو کی پانچ ہزار ٹکٹیں فروخت ہو چکی ہیں۔
پیرس میں بی بی سی کے نامہ نگار ہگ شوفیلڈ کے مطابق جمعرات کو عدالت کا فیصلہ جیودنی کی فتح ہے۔
انھوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنے صفحے پر لکھا ہے کہ’ ہم جیت گئے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جیودنی اس سے پہلے وہ پیرس کے ’ڈی اؤر‘ تھیٹر میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تھے۔
ان کے شو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں یہودی کے بارے توہین آمیز حوالے موجود ہیں۔
فرانسیسی حکومت نے جیودنی کے ایک یہودی صحافی پیٹرک کوہن کے بارے میں بیانات کے بعد کوشش کی تھی کہ جیودنی کا دورہ روک دیا جائے۔
اس کے علاوہ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے ہولو کاسٹ میں بچ جانے والوں اور اس کے متاثرین کی تضحیک کی ہے۔
جیودنی کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کے شو پر پابندی آزادی رائے کے اصولوں کی واضح خلاف ورزی ہے اور حکومت کے دعوے کے برعکس ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں جن سے معلوم ہو کہ ان کے شو کی وجہ سے نقص امن کو کوئی خطرہ ہے۔
فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے اس سے پہلے فرانسیسی حکام پر زور دیا تھا کہ وہ شو پر پابندی عائد کرنے کے اقدامات کریں۔
اس سے پہلے پیر کو فرانسیسی وزیر داخلہ نے شہروں کے میئروں کو ہدایت کی تھی کہ اگر انھیں جیودنی کے شو کی وجہ سے نقص امن کا تھوڑا بھی شک ہو تو وہ اس پر پابندی لگا دیں۔
فرانس کے شہر مارسے اور بورڈو نے جیودنی کے شو منسوخ کر دیے تھے لیکن پھر بھی مختلف شہروں میں جون تک ان کے شو کی بکنگ ہو چکی ہیں۔
وہ اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ ان کا شناختی نازی سلیوٹ سے مماثلت رکھتا ہے اور ان کے بقول یہ اسٹیبلشمنٹ مخالف علامت ہے۔







