چین میں مائیكرو فلموں کی دھوم

چین میں مائکرو فلموں کی مقبولیت نے روایتی فلموں کا متبادل فراہم کیا ہے
،تصویر کا کیپشنچین میں مائکرو فلموں کی مقبولیت نے روایتی فلموں کا متبادل فراہم کیا ہے

چین میں بڑے پردے کی فلموں پر کئی طرح کی پابندیوں اور فلمی تقریبات کے آزادانہ انعقاد پر پابندی کی وجہ سے فلم کے شائقین کے درمیان چھوٹی فلمیں خاصی مقبول ہو رہی ہیں۔ ان فلموں کو ’مائكرو فلم‘ یعنی مختصر فلموں کا نام دیا گیا ہے۔

خواجہ سراؤں سے متعلق انتہائی حساس موضوع پر بنی فلم ’مائی وے‘ یعنی میری راہ کو جب مین سٹریم کی فلموں میں جگہ نہیں ملی تو اسے چین کے یو ٹیوب کے ورژن ’ياوكو‘ پر دکھایا گیا۔

اور کافی تیزی کے ساتھ 40 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے اس کو دیکھ ڈالا اورفلم کے متعلق کمنٹ سیکشن میں زوردار بحث بھی ہورہی ہے۔

’مائی وے‘ فلم کے ہدایتکار ان ہوئی بتاتے ہیں: ’اگر یہ فلم مین سٹریم میں دکھائی جاتی تو مجھے اس کے لیے پیسے جمع کرنے میں دقت ہوتی۔ اب نہ تو باکس آفس کی فکر ہے اور نہ ہی کاروبار کی۔ میں موضوع کے ساتھ اب انصاف کر سکتا ہوں۔‘

چین میں باکس آفس کی آمدنی تقریبا 17 لاکھ 90 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور اس کے ساتھ آن لائن انقلاب کے قدموں کی آہٹ بھی سنائی دے رہی ہے۔

مائکرو فلموں کے لیے لوگ کمپیوٹر، سمارٹ فون اور ٹیبلیٹ کا استعمال کرتے ہیں
،تصویر کا کیپشنمائکرو فلموں کے لیے لوگ کمپیوٹر، سمارٹ فون اور ٹیبلیٹ کا استعمال کرتے ہیں

چینی زبان میں ڈب کی ہوئی مختصر فلمیں یعنی ’مائیکرو فلمیں‘ گھر میں لگے کمپیوٹر، سمارٹ فون اور ٹیبلٹس پر دیکھی جا رہی ہیں۔

حکومت کی سخت سنسر شپ، سٹوڈیو کے تسلط اور کاروباری مجبوریوں کی وجہ سے آن لائن فلمیں بنائی اور دکھائی جا رہی ہیں۔ ان مختصر فلموں سے ہدایتکاروں کے لیے امکانات کے نئے دروازے کھل رہے ہیں۔

آن لائن کی آزادی نے متنازعہ، فنکارانہ اور بولڈ موضوعات پر بنی فلموں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کردیا ہے۔

لوگوں کا خیال ہے کہ چین کا سرکاری میڈیا تفریح کے نام پر اکثر بے مزہ اور بورنگ چیزیں پیش کرتا ہے۔ آن لائن سہولت نے ناظرین کو ان مختصر فلموں کے ذریعے بورنگ چیزوں سے راحت فراہم کی ہے۔

چین کے بڑے شہروں میں زبردست ٹریفک جام میں لاکھوں لوگ گھنٹوں پھنسے رہتے ہیں جس کے دوران وہ دل بہلانے کے لیے سمارٹ فون پر چپکے رہتے ہیں۔

بیجنگ کے مقامی ڈائریکٹر انا شی کہتے ہیں: ’یہاں زندگی بہت مصروف ہے۔ ٹریفک کا حال برا ہے۔ ہر جگہ لائن لگانی پڑتی ہے۔ ایسے میں ان مختصر فلموں سے لوگوں کو چند گھڑی کی راحت مل جاتی ہے۔

لوگوں کے درمیان مختصر فلموں کی مقبولیت ایسی ہے کہ 2011 میں مین سٹریم کی 500 فیچر فلموں کے مقابلے میں مختصر فلمیں دو ہزار سے زیادہ بنیں۔‘

چین کے نیٹ ورک انفارمیشن سینٹر (چینی حکومت کی یونٹ) کے مطابق 2012 میں انٹرنیٹ پر آنے والے لوگوں کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے 20 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ پورٹیبل ڈیوائیسز پر ویب تک پہنچنے والے افراد کی تعداد 59.1 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔

چینی انٹرنیٹ مارکیٹنگ کمپنی ’آئی سرچ‘ کے مطابق جنوری 2013 میں 45.2 کروڑ لوگوں نے آن لائن ویڈیو دیکھے۔

یہ مختصر فلمیں اس لیے بھی مقبول ہو رہی ہیں کہ انہیں بڑی آسانی سے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے۔ ’مائی وے‘ کو بھی اسی وجہ سے کروڑوں ہٹس ملیں۔

’مائی وے‘ کی ہی طرح ’اولڈ بوائز‘ کو بھی کروڑوں لوگوں نے نیٹ پر دیکھا۔ یہ 2010 کے آخری مہینوں میں بنی 43 منٹ کی مائیکرو فلم ہے۔ ’اولڈ بوائز‘ نوجوان طبقے کی امیدوں، توقعات، ناکامیوں اور ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کہانی ہے۔

مائیکرو فلموں کی ہی طرح مائیکرو ویب سیریل بھی کامیاب ہو رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنمائیکرو فلموں کی ہی طرح مائیکرو ویب سیریل بھی کامیاب ہو رہے ہیں

نوجوان نسل کو اپنی جانب کھینچنے والے موضوعات جیسے محبت، رشتے، تعلیم اور ملازمت پر مختصر فلمیں مزید بن رہی ہیں۔

مائیکرو فلموں کی ہی طرح مائیکرو ویب سیریل بھی کامیاب ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ’ہپ ہاپ آفس كوارٹر‘۔ یہ ایک دفتر میں کام کرنے والے چار دوستوں کی کہانی ہے۔

اس مائکرو ویب سیریل کو ’ياؤكو‘ پر 20 کروڑ لوگوں نے دیکھا۔ اسے اتنا پسند کیا گیا کہ اب اس کا پانچواں سیزن لانے کی تیاری چل رہی ہے۔

ياوكو کے نمائندے جین شاؤ نے بتایا: ’یہ سیریل نوجوانوں کی زندگی اور ان کی زبان کے قریب ہے۔ یہ سی سی ٹی وی (سرکاری ٹی وی) پر دکھائے جانے والے سیریل سے بالکل مختلف ہے۔‘

مائکرو فلمز نوجوان ہدایتکاروں کے لئے بھی نئے امکانات روشن کر رہی ہیں۔ کیا آپ فلم بنانا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں، تواس کے لیے آپ کو صرف ایک ویڈیو کیمرے کی ضرورت ہے۔

اب فلم بنائیے اور اسے انٹرنیٹ پر ڈال دیجئے۔ ردعمل فوری طور پر آنے لگیں گے۔