بروس لی کی وراثت اور زندگی پر مبنی نمائش

- مصنف, جولیئن لیو
- عہدہ, بی بی سی نیوز، ہانگ کانگ
ہانگ کانگ میں بروس لی کی 40 ویں برسی پر ایک نمائش سنیچر سے شروع ہو رہی ہے جو پانچ برس تک جاری رہے گی۔ یہ نمائش ہیریٹیج میوزیم میں منعقد کی جا رہی ہے جہاں اس شہر کے سب سے بڑے سٹار کے کارناموں کا جشن منایا جائے گا۔
سنجیدہ اور پراعتماد چینی امریکی مارشل آرٹسٹ بروس لی نے 70 کی دہائی میں عالمی سینما پر تہلکہ مچا دیا تھا۔
انھوں نے ہانگ کانگ میں 32 سال کی عمر میں موت سے قبل صرف پانچ فلموں میں کام کیا تھا جن میں سے صرف تین فلمیں ہی ان کی زندگی میں ریلیز ہو سکی تھیں۔ اس کے باوجود زندگی کے بارے میں ان کے رویے، فلسفے اور ان کی ورثہ زمان و مکان کی قید سے آزاد رہا۔
لی کی اکلوتی بیٹی شینن لی نے کہا: ’ہم آج بھی بروس لی کے بارے میں ماضی پرستی کے احساس سے مغلوب ہوئے بغیر شاید اس لیے بات کرتے ہیں کہ ان کی زندگی کے تجربے اور فلسفے اور حقیقت میں گہرائی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر ان کی شہرت میں صرف ان کی چند فلموں کی اچھی کارکردگي ہوتی تو شاید وہ آج اس قدر حسبِ حال اور حوصلہ افزا نہیں ہوتے۔‘
شینن لی امریکی میں قائم بروس لی فاؤنڈیشن کی سربراہ ہیں جہاں سے اس نمائش کے لیے سینکڑوں چیزیں بھیجی گئی ہیں۔
ان کے 600 اشیا میں ان کا مشہور پیلا ٹریک سوٹ ہے جو انہوں نے فلم گیم آف ڈیتھ میں پہنا تھا۔ ان میں ان کی انگریزی زبان کی شاعری، خاندان کے لوگوں کی تصاویر اور کاپیاں شامل ہیں۔
شینن لی اپنے والد کی موت کے وقت صرف چار سال کی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنے والد کے بارے میں ان کی یادیں بہت دھندلی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا ’میری یادداشت جھلکیوں جیسی ہیں مجھے ان کا ہونا یاد ہے۔ مجھے ان کا انتہائی محفوظ، مضبوط اور خوش مزاج محبت سے پر قوت یاد آتی ہے۔ میں اسے آج بھی محسوس کرتی ہوں۔‘
ان کے والد سین فرانسسکو میں 1940 میں ہانگ کانگ سے ہجرت کرکے آنے والے ایک گھر میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ سال ڈریگن کا سال تھا۔ اس کے بعد ان کا خاندان پھر برطانوی نوآبادیات میں واپس ہوگیا جب بروس لی صرف چند ماہ کے تھے۔

چونکہ تعلیمی لحاظ سے انہیں بہت ذہین نہیں سمجھا جا رہا تھا اس لیے جب وہ 18 سال کے ہوئے تو انھیں امریکہ بھیج دیا گیا۔
یونیورسٹی میں تعلیم کے زمانے میں لی چینی مارشل آرٹ سکھایا کرتے تھے۔ انھوں نے اپنی ایک شاگرد لنڈا سے شادی کی۔
اس کے بعد یہ نوجوان جوڑا کیلی فورنیا منتقل ہو گیا جہاں انھیں پہلا ٹی وی سیريل ’دا گرین ہارنٹ‘ ملا۔
ہالی وڈ میں کردار حاصل کرنے کی کوشش میں مایوسی کے بعد انھوں نے ہانگ کانگ واپسی کا فیصلہ کر لیا۔
ان کی پہلی فلم بگ باس ایشیائی ممالک میں حیرت انگیز طور پر کافی ہٹ ثابت ہوئی اور پھر بروس لی کا طلسم پیدا ہوا۔
چینی امریکی مصنف جیف یانگ ہانگ کانگ کے سینما کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ’لی بطور خاص چینی اور ایشیائی ممالک کے انسانوں کے لیے تبدیلی کا اشاریہ ثابت ہوا۔‘
انھوں نے غیر ایشیائی لوگوں پر یہ ثابت کیا کہ ایشیائی مرد مضبوط، کرشماتی اور سیکسی ہو سکتے ہیں۔







