اردو میں ناول کے ذریعے فلسفے کی تاریخ

- مصنف, انور سِن رائے
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
انور سِن رائے
نام کتاب: سونی کی دنیا
مصنف: جوسٹین گارڈر
ترجمہ: ابوالفرح ہمایوں
صفحات: 288
قیمت: 350 روپے
ناشر: سٹی بک پوائنٹ، نوید سکوائر، اردو بازار۔ کراچی
E-mail:citybookurdubazaar@gmail.com
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’سوفیز ورلڈ‘ 1991 میں لکھا گیا۔ یہ ناول ناوروے کی رہنے والی ایک نو عمر لڑکی سوفی آموڈسین کے گرد گھومتا ہے اور اسی لیے اس کا نام سوفیز ورلڈ رکھا گیا ہے۔ اس کا دوسرا کردار البرٹو ناکس ہے جو فلسفیانہ سوچ رکھنے والا ایک ادھیڑ عمر ہے اور جو سوفی کو فلسفے کی تاریخ اور سوچ سے متعارف کراتا ہے۔ ’سوفی کی دنیا‘ سب سے پہلے نارویجن زبان میں شائع ہوا۔ اور شائع ہوتے ہیں ناورے میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب بن گیا۔ بعد میں یہ ناول 53 زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ انگریزی میں اس کا ترجمہ 1995 میں ہوا اور اب تک یہ ناول تیس ملین یعنی تین کروڑ سے زائد سے فروخت ہو چکا ہے۔
نارویجن زبان اور ناروے میں لکھے جانے والے ناولوں میں جوسٹین گارڈر کا یہ ناول ناروے سے باہر سب سے زیادہ تجارتی کامیابی حاصل کرنے والا ناول ہے۔
اب اس ناول پر فلم بھی بن چکی ہے اور ایک کمپیوٹر گیم بھی بنایا جا چکا ہے۔
ناول کی کہانی کے مطابق یہ 1990 کا زمانہ ہے۔ 14 سالہ Sophie Amundsen جس کے لیے اردو ترجمے میں زیادہ تر سوفی آموڈسین اختیار کیا گیا، اپنی والدہ، نارنجی بلی شیریکان، تین سنہری مچھلیوں، دو آسٹرین طوطوں اور ایک سبز کچھوے کے ساتھ رہتی ہے۔ اس کے والد ایک آئل ٹینکر کے کپتان ہیں اور زیادہ تر گھر سے دور ہی رہتے ہیں۔
ایک روز سوفی سکول سے لوٹتی ہے تو اُسے گھر کے لیٹر بکس سے دوسری بہت سے خطوں کے ساتھ ایک خط ملتا ہے جو اس کے نام ہے۔ لفافے پر اس نام واضح طور پر لکھا تھا اور گھر کا پتا بھی۔
خط پر چونکہ کوئی ٹکٹ نہیں تھا اس لیے وہ یہ اندازہ بھی نہیں لگا سکتی تھی کہ اُس کے نام یہ خط کہاں سے آیا ہے۔ لیکن وہ یہ ضرور جان لیتی ہے کہ خط کوئی دستی طور ہی ڈال کر گیا ہے۔
سوفی نے جب گھر کے اندر جا کر لفافہ کھولا تو اس میں ایک چٹ تھی جس پر لکھا تھا ’تم کون ہو؟‘۔ اسی طرح اُسے دو گھنٹے کے اندر ایک اور لفافہ ملا، وہ بھی دستی طریقے سے لیٹر بکس میں ڈالا گیا تھا، اس میں بھی ایک چٹ تھی اور اس پر بھی ایک سوال لکھا تھا ’یہ دنیا کب اور کیسے پیدا ہوئی؟‘

ناول ان دو پیغامات سے شروع ہوتا ہے۔ تیسرے لفافے پر اس کے نام تو تھا لیکن خط کسی اور کے لیے تھا۔ لکھا تھا ہلڈی مولر کانگ معرفت سونی آموڈسین۔ اس میں ایک قدرے تفصیلی پیغام بھی تھا۔ ’ڈیر ہلڈی! پندرھیوں سالگرہ مبارک ہو۔ مجھے یقین ہے تم میری باتوں کو سمجھ گئی ہو گی۔ میں تمھیں جو تحفہ دے رہا ہوں وہ تمھاری زندگی کو خوشگوار بنانے میں مددگار ہوگا۔ مجھے معاف کردینا کہ یہ کارڈ سوفی کی معرفت بھیج رہا ہوں۔ تمھارا پتا میرے پاس نہیں ہے، لہٰذا یہی آسان طریقے ہے۔ تمھارے ڈیڈی کی طرف سے پیار‘۔
اس کے بعد اسے مسلسل لفافے ملتے رہتے ہیں جو اسے دنیا اور سقراط سے سارتر تک کے فلسفے کے بارے میں بتاتے ہیں۔
اردو میں اگرچہ فلسفہ پڑھنے کا شوق انتہائی کم ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ فلسفے کا شمار ان مضامین میں نہیں ہوتا جو ملازمت کی تلاش میں مددگار ہوتے ہیں اور فلسفہ پڑھنے والوں کو کم و بیش پاگل تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ ناول ہمیں یہ بتاتا ہے کہ فلسفہ ایسا مضمون ہے کہ اس سے ایک چودہ سالہ لڑکی کو بھی دلچسپی پیدا ہو سکتی ہے اور یہ لڑکی ایک یورپی ملک کی ہے۔
اس ناول کا اردو میں ترجمہ ہونا ویسا ہی اہم ہے جیسا کہ انگریزی میں ترجمہ ہونا تھا، جس کے بارے میں نیوز ویک نے لکھا تھا ’مغربی فلسفے کی ایک جامع تصویر- ایک چودہ سالہ لڑکی فلسفے کی تاریخ سے پردہ اٹھاتی ہے۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے بے حد کار آمد ہو گی جو فلسفے کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ان کے لیے بھی جو بیش تر اسباق اور معلومات فراموش کر چکے ہیں‘۔
دی واشنگٹن پوسٹ بُک ورلڈ کا کہنا تھا کہ ’اس ناول کی سب سے قابلِ تعریف بات اس کا سیدھا سادہ اندازِ بیان ہے۔ فلسفے جیسے خشک موضوع کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ہر بات آسانی سے دل میں اتر جاتی ہے۔ فلسفے کی تاریخ کے بارے میں یہ ناول فرانس میں پاگل پن کی حد تک مقبول ہوا ہے اور آج پورے یورپ کا پسندیدہ ناول ہے‘۔
نیوز ویک نیوز ڈے کا کہنا تھا: ’یہ ایک انوکھی اور نادر کتاب ہے۔ سقراط سے سارتر تک کے نظریات کا نچوڑ، ایک ایسی گولی جو شہد اور دودھ کے مرکب سے بنائی گئی ہے۔ ایک بار پڑھنا شروع کرنے کے بعد اسے آسانی سے ایک طرف ڈال دینا آپ کے بس کی بات نہیں‘۔
جوسٹن گارڈر 8 اگست 1952 کو اوسلو میں پیدا ہوے۔ انھوں نے اوسلو یونیورسٹی سے نظریات کی تاریخ، مذہب اور ادب کی تعلیم حاصل کی۔ گریجویشن کے بعد انھوں نے سیکنڈری سکول میں فلسفے اور مذہب کی تدریس شروع کی۔ اس ناول کے علاوہ بھی انھوں نے فلسفے اور مذہب پر کتابیں لکھی ہیں۔
جہاں تک اردو ترجمے کا تعلق ہے، دو ایک بار اور نظر کی جاتی تو کہیں بہتر ہو سکتا تھا، زبان مزید آسان ہو سکتی تھی۔ فلسفے کی اصطلاحات اردو کے ساتھ انگریزی میں بھی دے دی جاتیں جیسے ناموں کے ساتھ کیا گیا ہے تو پڑھنے والوں کی زیادہ مدد ہو جاتی۔
پروف ریڈنگ کی غلطیاں زیادہ نہیں ہیں لیکن جو ہیں وہ انتہائی بھیانک ہیں۔ بیک ٹائٹل پر ہی ناول کی اشاعت کا سال 1911 لکھا ہوا ہے۔ مترجم کا تعارف نہ دیا جانا بہت زیادتی ہے۔







