جولیا رابرٹس اور مندر تنازعہ

جولیا رابرٹس
،تصویر کا کیپشنمندر میں جولیا رابرٹس کی تصویر

ہالی وُڈ اداکارہ جولیا رابرٹس سے دلی کے قریب ایک مندر کے یاتری خاصے ناراض ہیں۔

جولیا رابرٹس دلی کے قریب شہر پٹوڈی میں اپنی نئی فلم کی شوٹنگ کر رہی ہیں لیکن وہاں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ فلم سیٹ اور سکیورٹی کی وجہ سے وہ ہندو تہوار نواتری مناسب طریقے سے نہیں منا پا رہے۔

معروف فلم’پریٹی وومن‘ کی سٹار جولیا رابرٹس اپنی نئی فلم ’اِیٹ، پرے، لوو‘ کی کچھ شوٹنگ پٹوڈی کے ہری مندر میں کر رہی ہیں لیکن کئی مقامی ہندو اس بات سے خوش نہیں ہیں کیونکہ وہ نواتری کے دوران مندر میں نہیں جاسکے ہیں۔ نواتری میں ہندو دیوی درگا کی نو روز پوجا کی جاتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کو سکیورٹی کی وجہ سے سخت احکامات ملے ہیں کہ وہ شوٹنگ کے دوران کسی کو مندر میں داخل نہ ہونے دیں۔ علاقے کے ہندو اس پابندی سے بالکل خوش نہیں ہیں۔ ایک یاتری کا کہنا تھا ’یہ ہمارے لیے سال کا سب سے مقدس وقت ہوتا ہے اور ہمیں اپنے مندر میں جانے سے روکا جا رہا ہے۔ یہ تو غضب ہے۔‘

فلم کی پروڈکشن کمپنی’سونی پِکچرز‘ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ اس معاملے اور ان الزامات کے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے۔

جولیا رابرٹس اور ان کی فلم ٹیم کی سکیورٹی کے متعلق بھی میڈیا میں خاصا تبصرہ کیا گیا ہے اور کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سطح کی سکیورٹی تو صدور یا سربراہوں کو ملا کرتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق جولیا رابرٹس ہیلی کاپٹر اور بلٹ پروف گاڑی بھی استعمال کر رہی ہیں۔

نئی فلم ’اِیٹ، پرے، لوو‘ میں جولیا رابرٹس نے ایک ایسی خاتون کا کردار ادا کیا ہے جو طلاق کی بدمزگی کے بعد روحانی سکون کی تلاس میں ہندوستان آتی ہیں۔

یہ فلم الیزابیتھ گِلبرٹ کی کتاب پر مبنی ہے۔