نرگس اور سنیل دت کی محبت کی کہانی جو ’مدر انڈیا‘ کے سیٹ پر آگ لگنے سے شروع ہوئی

،تصویر کا ذریعہMother India Film
- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی
سنہ 1955 میں، راج کپور اور نرگس مدراس کے اے وی ایم سٹوڈیو میں فلم چوری چوری کی شوٹنگ کر رہے تھے۔
تب راج کپور نے ایک اور اداکارہ پدمنی میں دلچسپی لینا شروع کر دی تھی، جو اسی سٹوڈیو میں ایک مختلف سیٹ پر اپنی فلم کی شوٹنگ کر رہی تھیں۔ راج کپور اور نرگس کے درمیان پدمنی کو لے کر لڑائی شروع ہو گئی۔
اسی وقت نرگس نے فیصلہ کیا کہ بس بہت ہو گیا۔ انھوں نے محبوب خان کی نئی فلم مدر انڈیا میں کام کرنے کا فیصلہ کیا۔
برسوں پہلے نرگس نے اپنے کیرئیر کا آغاز محبوب کی ہی فلم سے کیا تھا اور تب تک محبوب خان ہندی فلم انڈسٹری میں کافی مشہور ہو چکے تھے۔
اس کردار کے ذریعے نرگس پوری دنیا کو دکھانا چاہتی تھیں کہ وہ راج کپور کیمپ سے نکل آئی ہیں۔
مدر انڈیا سے پہلے سنہ 1940 میں محبوب خان نے اسی موضوع پر ’عورت‘ نامی فلم بنائی تھی۔

،تصویر کا ذریعہHarper Collins
ٹی جی ایس جارج، نرگس کی سوانح عمری ’دی لائف اینڈ ٹائمز آف نرگس‘ میں لکھتے ہیں کہ محبوب خان کو 1937 کی ایم جی ایم فلم ’دی گڈ ارتھ‘ سے مدر انڈیا کا خیال آیا۔
اس فلم میں ایک چینی کسان خاندان کی تصویر کشی کرتے ہوئے ایک بے لوث ماں کے دکھوں اور مصائب کو حیرت انگیز حساسیت کے ساتھ پیش کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلم دیکھنے کے بعد محبوب خان بھی ہزاروں ناظرین کی طرح رو پڑے اور انھیں فوراً اندازہ ہو گیا کہ یہ فلم انڈیا میں بھی اتنی ہی مقبول ہو گی۔
ان کے معاون بابو بھائی مہتا کو میکسم گورکی کے ناول ’ماں‘ سے بھی تحریک ملی۔
ان کہانیوں کو گجرات میں اپنے تجربات سے ملاتے ہوئے، محبوب خان نے فلم ‘عورت‘ بنائی جس میں پہلی بار سنیما سکرین پر عورت کی ایک مستند تصویر کشی کی گئی۔

،تصویر کا ذریعہIndus books
دلیپ کمار مدر انڈیا میں بطور ہیرو کام کرنے والے تھے
نرگس نے راج کپور سے علیحدگی کے بعد پہلی فلم مدر انڈیا سائن کی تھی۔
محبوب خان نے دلیپ کمار کو ہیرو کے طور پر سائن کیا تھا لیکن راج کپور کبھی نہیں چاہتے تھے کہ نرگس دلیپ کمار کے ساتھ کوئی فلم کریں۔
اگر محبوب خان کا منصوبہ کامیاب ہوتا تو وہ سنیل دت کو سائن نہیں کرتے اور نہ ہی وہ نرگس کی زندگی میں آتے۔
یہ بھی پڑھیے
محبوب خان سے مشاورت کے بعد دلیپ کمار نے مشورہ دیا کہ فلم میں نرگس کے بیٹے کے کردار کو دوبارہ لکھا جائے اور وہ فلم میں ڈبل رول کریں، پہلے حصے میں نرگس کے شوہر اور دوسرے حصے میں ان کے بیٹے کا۔
محبوب خان نے یہ مشورہ مان لیا اور کہانی میں تبدیلیاں کرنا شروع کر دیں۔ اس کردار کے لیے درکار خصوصی وگ بنوانے کے لیے دلیپ کمار بھی لندن چلے گئے لیکن دلیپ کی غیر موجودگی میں فلم کے لکھاریوں نے اپنا ارادہ بدل لیا۔
انھوں نے محبوب خان کو دوبارہ اصلی کہانی پر ہی کام کرنے پر راضی کر لیا۔ ادھر لندن سے واپسی کے بعد جب دلیپ کمار کو یہ سب معلوم ہوا تو انھوں نے فلم چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
نرگس کے کیرئیر کی بہترین اداکاری
اس فلم میں نرگس نے اپنی زندگی کی بہترین اداکاری کی۔ یہ فلم ایک عورت کی نوجوان بیوی سے بڑھاپے تک کے سفر کی کہانی ہے، جس میں رومانس تو ہے ہی لیکن ساتھ ساتھ عورت کی استقامت بھی بیان کی گئی ہے جس میں ایک ماں اپنے ہی بیٹے کو گولی مارنے سے گریز نہیں کرتی۔
ٹی جی ایس جارج نرگس کی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ نرگس کو اس کردار سے پورے ملک میں کافی شہرت ملی۔
جب دلیپ کمار سے پوچھا گیا کہ نرگس کی تین بہترین فلمیں کون سی ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ ‘مدر انڈیا نرگس کی بہترین فلم تھی۔ ان کی دوسری بہترین فلم بھی مدر انڈیا تھی اور ان کی تیسری بہترین فلم بھی مدر انڈیا تھی۔‘
مدر انڈیا کے بعد نرگس کے لیے ہر کردار چھوٹا ہو گیا۔ سنہ 1988 میں مدر انڈیا کی ریلیز کے 30 سال بعد، سبھاش جھا نے انڈین ایکسپریس میں لکھا کہ مدر انڈیا نرگس کے لیے مارلن برانڈو کے ’گاڈ فادر‘ اور جولی اینڈریوز کے ’دی ساؤنڈ آف میوزک‘ جیسی تھی۔ اس فلم اور فلم میں نرگس کا کردار اس قدر ایک دوسرے سے جڑا ہوا تھا کہ دونوں کو الگ کرنا تقریباً ناممکن تھا۔
نرگس نے خود اعتراف کیا کہ مدر انڈیا کرنے کے بعد ان کے لیے کوئی اور کردار کرنا ناممکن ہو گیا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ جب نرگس نے یہ کردار کیا تو ان کی عمر صرف 28 سال تھی۔ 28 سال کی عمر میں ماں کا کردار ادا کرنا واقعی ہمت کا کام تھا۔

،تصویر کا ذریعہHarper Collins
محبوب نے سنیل دت کو سائن کیا
محبوب خان کو مدر انڈیا میں دلیپ کمار کا متبادل تلاش کرنے کے لیے کافی جدوجہد کرنی پڑی۔
آخر میں، یہ کردار سنیل دت کو ملا، جو نرگس سے ایک سال چھوٹے تھے۔ سنیل دت ایک زمانے میں ریڈیو سیلون کے لیے کام کرتے تھے اور فلمی ستاروں کے انٹرویو کیا کرتے تھے۔ سنہ 1953 میں، انھوں نے فلم ’دو بیگھہ زمین‘ کے پریمیئر میں کمپیئرنگ بھی کی تھی۔
سفید سوٹ پہنے سنیل دت نے سامعین میں بیٹھے فلمی ستاروں کو سٹیج پر بلایا اور ان سے دو لفظ کہنے کی درخواست کی۔ ان ستاروں میں سے ایک نرگس تھیں جنھوں نے سفید ساڑھی پہنی ہوئی تھی۔ یہ ان کی پہلی ملاقات تھی۔
دونوں میں سے کسی نے سوچا بھی نہیں ہو گا کہ پانچ سال کے اندر وہ میاں بیوی بن جائیں گے۔ سنیل دت کو قومی پہچان اس وقت ملی تھی جب بی آر چوپڑا نے ان کو اپنی فلم ’ایک ہی راستہ‘ میں سائن کیا اور تب ہی محبوب خان نے انھیں پہلی بار دیکھا۔

،تصویر کا ذریعہHarper Collins
سیٹ پر لگی آگ جو سنیل دت اور نرگس کی قربت کی وجہ بنی
محبوب خان اپنے اداکاروں کے درمیان دوستی کو بہت پروان چڑھایا کرتے تھے تاکہ ان کی اداکاری میں بے ساختگی برقرار رہے۔
وہ اکثر آؤٹ ڈور شوٹنگ کرتے تھے تاکہ ان کے اداکاروں کو ایک ساتھ گزارنے کے لیے کافی وقت مل سکے۔ نرگس نے بھی اپنے دو ساتھی اداکاروں سنیل دت اور راجندر کمار کے ساتھ کافی وقت گزارا۔
فلم کی زیادہ تر شوٹنگ مہاراشٹرا اور گجرات میں کی گئی۔ پھر ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے نرگس کو سنیل دت کے بہت قریب کر دیا۔
گجرات میں مدر انڈیا کے مشہور فائر سین کی شوٹنگ ہو رہی تھی۔ بھوسے کے ڈھیر کو آگ لگائی جانی تھی تاکہ اس میں چھپے سنیل دت باہر آ سکیں۔
ٹی جے ایس جارج لکھتے ہیں کہ جب نرگس جلتے ہوئے بھوسے کے ڈھیر سے گزر رہی تھیں تو اچانک ہوا نے اپنا رخ بدل لیا اور نرگس شعلوں میں پھنس گئیں۔
سنیل کو جیسے ہی اس کا اندازہ ہوا وہ شعلوں میں کود گئے اور بری طرح گھبرائی ہوئی نرگس کو بچا کر آگ سے باہر لے آئے۔
اس کوشش میں سنیل دت خود بھی جل گئے۔ سنیل دت کے اس جذبے نے نرگس کے دل میں ان کے لیے محبت پیدا کی۔ بعد ازاں نرگس نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ ‘ہسپتال میں ہمیں انجیکشن لگائے گئے، جس سے ہمارا درد کم ہوا اور ہمیں نیند آنے لگی۔‘
‘جب بھی کوئی میرے پاس آتا تو میں اس سے ایک ہی بات پوچھتی کہ سنیل کیسے ہیں؟ 2 مارچ کو میں ان سے ملنے ان کے کمرے میں گئی تو ان کا چہرہ، پیٹ اور ہاتھ سب جل چکے تھے اور وہ بہت تکلیف میں تھے۔ میں سارا دن ان کے ساتھ رہی۔ اس کے بعد میں نے ان کا ایسے خیال رکھنا شروع کر دیا جیسے وہ میرا حصہ ہوں۔ کچھ ہی دنوں میں حالات ایسے ہو گئے کہ میں ان سے ایک منٹ بھی دور نہیں رہنا چاہتی تھی۔ یہ میری زندگی کے سب سے حسین دن تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہNamrata Dutt
نرگس نے سنیل دت کی بہن رانی کا علاج کروایا
اسی دوران ایک اور واقعہ ہوا جس نے سنیل دت اور نرگس کو اور قریب کر دیا۔
ایک بار شوٹنگ کے دوران نرگس کو لگا کہ سنیل دت بہت اداس ہیں۔ جب نرگس نے اس کی وجہ پوچھی تو سنیل نے بتایا کہ ان کی بہن رانی کو ٹی بی ہے۔
نرگس خاموشی سے وہاں سے اٹھیں اور سنیل دت کے فلیٹ پر پہنچ گئیں۔ وہاں سے وہ رانی کو اپنے فیملی ڈاکٹر کے پاس لے گئیں۔ انھوں نے ان کے بچے کو بھی اس وقت تک اپنے گھر میں رکھا جب تک کہ رانی مکمل طور پر ٹھیک نہ ہو گئیں۔
نرگس کا رانی سے ملنا جلنا بڑھ گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹی جے ایس جارج لکھتے ہیں کہ ایک دن نرگس رانی کے پاس تھیں کہ رات ہو گئی تو سنیل دت نرگس کو اپنی کار میں میرین ڈرائیو والے گھر چھوڑنے گئے۔ راستے میں انھوں نے نرگس کو شادی کی پیشکش کر دی۔
نرگس نے اس وقت کوئی جواب نہیں دیا۔ اگلے دن شام کو سنیل دت کو اپنی بہن رانی کے ذریعے نرگس کا جواب ملا۔
کئی سال بعد، سنیل نے اپنے ایک صحافی دوست پی کے رابندر ناتھ کو بتایا کہ اگر ان کی والدہ ایک مسلمان بہو کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتیں تو شاید وہ نرگس سے شادی نہ کرتے۔
انھیں محسوس ہوا کہ ان کا بیٹا نرگس کے ساتھ خوش رہے گا لہذا انھوں نے اس شادی کے لیے رضامندی ظاہر کر دی۔

،تصویر کا ذریعہMother India Film Poster
مدر انڈیا کا پریمیئر لبرٹی سنیما میں ہوا
مدر انڈیا کا پریمیئر 25 اکتوبر 1957 کو بمبئی کے لبرٹی سنیما میں ہوا۔ سنیل دت اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔
اس دن نرگس نے اپنی ڈائری میں لکھا ‘سب سے پہلے میرے خاندان کے کچھ لوگ بچوں کے ساتھ مدر انڈیا کو دیکھنے گئے۔ میں سانسیں روکے ان کی واپسی کا انتظار کرنے لگی۔ جب وہ واپس آئے تو میں نے دیکھا کہ وہ سب بہت رو کر واپس آئے تھے۔‘
‘آئی ایس جوہر ہانپتے ہوئے میرے پاس آئے۔ وہ شو دیکھ کر سیدھا آ رہے تھے۔ وہ اتنے پرجوش تھے کہ ان کے منہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اب مجھے فلموں میں کام کرنا چھوڑ دینا چاہیے۔ محبوب خان نے مجھے اپنے گھر بلایا۔ میں وہاں پہنچی تو جوہر، نیمانی اور دھیرو بھائی وہاں پہلے سے موجود تھے۔‘
اس کے بعد نرگس فلم کا پریمیئر دیکھنے گئیں۔ ان کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے تھے اور وہ محسوس کر سکتی تھیں کہ وہ کانپ رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہHarper collins
حاضرین نے کھڑے ہو کر تالیاں بجا کر نرگس کو داد دی
نرگس نے سنیل دت کی طرف بھیجے گئے خط میں لکھا کہ ’سب آپ کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ کاش میں انھیں بتا سکتی کہ آپ میرے دل، آنکھوں اور سانسوں میں بیٹھے ہیں۔ جیسے ہی ایک بوڑھی خاتون کے طور پر میرا پہلا سین سکرین پر آیا لوگوں نے تالیاں بجانا شروع کر دیں۔ میں نے آپ کی گھڑی اپنے دل کے قریب رکھی۔ لوگ فلم کو پسند کر رہے تھے۔ ‘
‘آپ فلم میں بہت خوبصورت لگ رہے تھے۔ آپ فلم میں اپنے کردار سے زیادہ خوش نہیں تھے لیکن لوگوں نے آپ کو برجو کے طور پر بہت پسند کیا۔ میں صرف اسی کے لیے دعا کر رہی تھی۔‘
تب تک نرگس نے گوشت اور انڈے کھانا چھوڑ دیا تھا۔ انھوں نے عہد کیا تھا کہ جب تک وہ سنیل دت سے شادی نہیں کر لیتیں تب تک وہ سبزی خور رہیں گی۔ چنانچہ جب مدر انڈیا کے پریمیئر میں محبوب خان نے ضیافت کی تو نرگس نے روٹی کے ساتھ صرف اچار کھایا۔

،تصویر کا ذریعہIndus Books
سنیل دت اور نرگس کی شادی اور ٹریفک جام
نرگس اور سنیل دت کی شادی 11 مارچ 1958 کو ہوئی۔ دونوں کی شادی سانتا کروز کے آریہ سماج ہال میں ہوئی۔ اس دن بھی ایک عجیب واقعہ ہوا۔
نرگس شادی کے مقام تک نہیں پہنچ سکیں کیونکہ پوپ کے ممبئی کے دورے کی وجہ سے وہ ایک بڑے ٹریفک جام میں پھنس گئی تھیں۔
نمرتا اور پریا دت اپنی کتاب ’مسٹر اینڈ مسز دت میموریز آف آور پیرنٹس‘ میں لکھتی ہیں کہ ’سنیل دت نے تین گھنٹے تک ان کا انتظار کیا۔ کار میں بیٹھی نرگس سوچتی رہی کہ سنیل کیا سوچ رہا ہوگا کہ میں نے اسے آخری وقت میں دھوکہ دیا۔ وہ دور موبائل فون کا نہیں تھا۔ دوسری طرف سنیل دت یہ سوچ کر اپنی جگہ سے نہیں ہلے کہ اگر وہ فون کرنے گئے اور اسی دوران نرگس وہاں پہنچ گئیں تو وہ سمجھیں گی کہ وہ اسے چھوڑ کر جا چکے ہیں۔‘
’لیکن ان دونوں کے صبر کا اچھا صلہ ملا جب نرگس اور سنیل دت نے آدھی رات کے قریب شادی کر لی۔‘
یہ خفیہ شادی تھی۔ مدر انڈیا چند ماہ قبل ہی ریلیز ہوئی تھی اور ان دونوں کی ماں بیٹے کی تصویر عوام کے درمیان تھی۔ اس وقت نرگس انڈین سنیما کی ’فرسٹ لیڈی‘ بن چکی تھیں جبکہ سنیل دت ابھی تک ان کے ساتھ تھے۔‘
بمبئی میں تو کئی جگہوں پر لوگ یہ کہتے پائے گئے کہ سنیل نے اس سے پیسے اور شہرت کی وجہ سے شادی کی لیکن نرگس پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ نرگس نے مسلمان ہونے کے باوجود اپنے شوہر کے لیے کروا چوتھ کا برت رکھنا شروع کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہHarper Collins
یہ بھی پڑھیے
مدر انڈیا آسکر کے لیے نامزد
’فلم انڈیا‘ میگزین نے مدر انڈیا کو اس وقت تک کی بہترین فلم قرار دیا۔ فلم میں ایک اچھی کہانی، عمدہ مکالمے، اچھی موسیقی اور جذبات کی بھرمار جیسی تمام خوبیاں تھیں۔
جس طرح کی تنقیدی تعریف اس فلم کو ملی، اس وقت تک کسی فلم کو نہیں ملی تھی۔ کہانی کے مصنف جاوید اختر نے ایک دلچسپ تبصرہ کیا کہ ’تمام ہندی فلمیں مدر انڈیا سے پیدا ہوتی ہیں۔‘
کشور دیسائی نے اپنی کتاب ’ڈارلنگ جی دی ٹرو لو سٹوری آف نرگس اینڈ سنیل دت‘ میں لکھا کہ ’مدر انڈیا کی ریلیز نرگس پر ایک طرح کا بوجھ بن گئی۔ ان کے انٹرویوز اور آٹو گراف لیے جانے لگے۔ نرگس کو ہر وقت مبارکباد کی فون کالز آنے لگیں۔

،تصویر کا ذریعہHarper Collins
معروف اداکارہ نادرہ ان کے گھر آئیں اور بوسہ لے کر مبارکباد دی۔ نرگس کو اس سے پہلے اپنے کسی کردار کے لیے اتنی پذیرائی نہیں ملی تھی۔
نادرہ نے ان سے کہا کہ انھیں سنیل کے کردار سے زیادہ سنیل کی شکل پسند ہے لیکن نرگس اپنی پہلے کی سوچ پر قائم رہیں کہ سنیل کی اداکاری سب کو پسند ہے۔
وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے دہلی میں مدر انڈیا کے پریمیئر میں شرکت کی۔ اسی سال نرگس کو فلموں میں ان کی شراکت کے لیے پدم شری سے نوازا گیا۔
1957 میں، مدر انڈیا کو غیر ملکی زبان کے زمرے میں آسکر کے لیے نامزد کیا گیا۔ مدر انڈیا میں ان کی اداکاری پر انھیں اسی سال فلم فیئر کی طرف سے بہترین اداکارہ کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔












