ضیا محی الدین سے ایک ملاقات: ’ٹی وی پر تلفظ غلط ہوتا ہے، ہم کس کس کا رونا روئیں‘

’شیکسپیئر نے رومیو جولیئٹ کی جو کہانی لکھی، اس میں جولیئٹ ایک جملہ ادا کرتی ہے جس کا مفہوم ہے کہ رومیو، تم رومیو کیوں کہلاتے ہو، مگر جنوبی ایشیا میں اگر کم پڑھے لکھے لوگوں سے بات کر تو زیادہ تر لوگ شیکسپیئر کے اس جملے کو یوں بیان کرتے ہیں کہ رومیو، رومیو تم کہاں ہو۔‘
67 سال سے تھیٹر اور فلم انڈسٹری سے منسلک ضیا محی الدین آج کل نیشنل اکادمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) میں شیکسپیئر کے ڈرامے رومیو اینڈ جولیئٹ کو اردو زبان میں پیش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ طالب علموں کو کلاسیکل تھیٹر سیکھانے کے علاوہ، ایک طرح سے اوپر بیان کیے گئے اس جملے کی تصحیح کرنا چاہتے ہیں۔
کراچی میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس میں اس کھیل کو گذشتہ چند روز سے شب آٹھ بجے پیش کیا جاتا ہے۔
دن کو جس سٹیج پر کھیل کی مشق ہوتی ہے وہاں لمحہ بہ لمحہ 91 سالہ ضیا محی الدین موجود ہوتے ہیں۔ اسی دوران انھوں نے بی بی سی کے لیے صحافی براق شبیر سے گفتگو کی۔
ضیا محی الدین ان چند پاکستانیوں میں شامل ہیں جنھوں نے پاکستان سے باہر جا کر بھی تھیٹر اور فلموں میں کام کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’پچھلے کئی برس سے ناپا میں ہم سال میں ایک بار دنیا کے عظیم ڈراموں میں سے کوئی نہ کوئی ایک پیش کرتے ہیں۔ جب ہم عظیم ڈرامہ نویسوں کا ذکر کرتے ہیں تو سب سے پہلے شیکسپیئر ہیں۔‘
’اس کا مقصد یہ ہے کہ جو فارغ ہونے والے طالب علم ہیں، ان کے لیے یہ امتحان ہے کہ کیا وہ کلاسیکی کھیل پیش کرنے کے اہل ہوئے ہیں یا نہیں۔ ان کو بھی پتا چلے کہ کلاسیکی کھیل کی نوعیت کیا ہوتی ہے۔ اس بارے میں نے یہ کھیل چنا ہے ’دا لیمنٹیبل ٹریجیڈی آف رومیو اینڈ جولیئٹ۔‘
ضیا محی الدین یہ بھی بتاتے ہیں کہ ’اس کھیل کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی شاعری ناقابل فراموش ہے۔ اس محبت کی شاعری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آج تک ایسی شاعری نہیں کی گئی۔ مگر کسی زبان کا دوسری زبان میں ترجمہ کرنا بالکل ناممکن ہے۔‘
اسی لیے ضیا محی الدین نے اپنی پیشکش میں شاعری کی جگہ نثر کا استعمال کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’خالد احمد نے اس شاعری کو ایسی نثر میں لکھا ہے جس میں کلاسیکیت ہو، شاعرانہ عنصر بھی ہو، لیکن یہ رعب جمانے والی لفاظی نہ ہو جو اردو ڈراموں میں اپنی عِلمیت جھاڑنے کے لیے لکھی جاتی تھی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’اس ترجمے میں شہریت کا بھی پاس بھی رکھا گیا ہے اور تشبیہ اور استعارے جو شاعری کی جان ہیں، ان کا بھی پاس رکھا گیا ہے۔‘
ضیا محی الدین نے سنہ 1950 میں رائل اکیڈمی آف تھیٹر اینڈ آرٹس سے وابستگی اختیار کی اور صداکاری اور اداکاری کا سلسلہ شروع کیا۔ 1956 میں وہ پاکستان واپس لوٹے لیکن جلد ہی ایک سکالر شپ پر انگلستان واپس چلے گئے جہاں انھوں نے ڈائریکشن کی تربیت حاصل کی۔
وہ کہتے ہیں کہ رومیو اور جولیئٹ کو پاکستان میں پیش کرنے کی ایک اور بھی وجہ ہے۔ ’اس کو برصغیر میں پیش کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جب کسی کم پڑھے لکھے شخص سے رومیو اور جولیئٹ کا ذکر کیا جائے، تو وہ کہتے ہیں رومیو رومیو تم کہاں ہو۔۔ جبکہ شیکسپیئر نے کہا تھا کہ رومیو تم رومیو کیوں کہلاتے ہو، تو میں نے سوچا کہ ان لوگوں کی بھی غلط فہمی شاید ختم ہو جائے۔‘
’میں کہوں گا میں نے تشکیل نہیں کیا، پیش کیا ہے۔ اپنے اپنے وقت کے ڈرامہ نویسوں نے 19 ویں صدی میں کیا پھر بیسوی صدی میں صحیح عبارت کی۔‘
’یہ ماخود نہیں کیا گیا، تشکیل نہیں کیا بلکہ یہ ترجمہ ہے، یہ ضروری بات ہے کہ اس میں تھوڑی سی کاٹ چھانٹ ہو گی، اصلی کھیل کا دورانیہ تین گھنٹے 52 منٹ تھا، ہمارے لوگوں میں اتنی دیر تک کھیل دیکھنے کی سکت نہیں، اس لیے میں نے کچھ حصے نکال دیے جن کا تعلق مغربی دیومالائی چیزوں سے ہے جن کو نہ بھی ڈالیں تو فرق نہیں پڑے گا۔‘
’اداکار کو ریاضت کرنا پڑتی ہے‘
ضیا صاحب کہتے ہیں ہر لمحہ ایک ڈائریکٹر کو توجہ دینی ہوتی ہے۔ اپنے عقب میں جاری ریہرسل کرتے اداکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا 1957 میں انھوں نے کراچی میں انگریزی میں ہی یہ کھیل ڈائریکٹ کیا تھا، پھر انگلستان میں بھی موقع ملا۔
وہ کہتے ہیں کہ اب جا کر یہ کھیل پوری طرح میری سمجھ میں آیا ہے۔ ’آپ کو حیرت ہو گی کہ شیکسپیئر کی وفات کے ڈیڑھ سو سال بعد 1753 میں پہلی بار پیش کیا گیا لیکن مسخ شدہ حالت میں پھر 20 ویں صدی میں جا کر اس کو درست انداز میں پیش کیا گیا۔‘
ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ نے کافی اداکاروں کی تربیت کی، آپ کا اتنا تجربہ ہے، کیا دیکھتے ہیں حالیہ دور کے اداکاروں میں کیا تبدیلی آئی ہے؟
’پہلے زمانے میں بھرپور طریقے سے اداکاری کی جاتی تھی لیکن 21ویں صدی کے بعد ایسے نہیں کی جاتی۔ لیکن اداکار کا جو ہنر ہے وہ ہمیشہ سے وہی ہے، اسے اس کے لیے ریاضت کرنی پڑتی ہے، آواز کا پھیلاؤ، آواز کا ٹھہراؤ، جب تک آپ کو اپنی پسلیوں اور پردہ شکم کا آپس میں مطابقت پیدا کرنا نہ آتا ہو تو پھر دوسرے دن آپ کیا کریں گے، یہ مشق زبان سیکھنے کی طرح ایک دو ہفتے میں نہیں ہوتی اس کے لیے ایک دو سال لگتے ہیں، اس تکنیک اور آلات کو اپنانا پڑتا ہے۔‘
اپنی بات آگے برھاتے ہوئے سٹیج اداکاری کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’سٹیج پر مائیکرو فون نہیں ہے، اگر ہے تو وہ ڈرامہ نہیں کچھ اور ہے۔ اداکار کے پاس یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ آواز چاہے 800 لوگ ہوں ان تک پہنچا دے۔ یہ نہ لگے کہ وہ چیخ رہا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’کلاسیکی کھیل کے لیے زبان آنی چاہیے، ش اور ق درست ہوتے ہوتے وقت لگتا ہے بالکل ایسی ریاضت کرنی پڑتی ہے جیسے ایک کلاسیکی گانے والے کو برسوں لگتے ہیں۔‘
ضیا محی الدین کو ہم نے ٹی وی پر کئی پروگرامز کی میزبانی کرتے دیکھا اور کئی دہائیوں سے محرم کے دوران مرثیے سناتے سنا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہدایت کاری میں کوشش یہ ہوتی ہے کہ اداکاروں کو ایسی ترغیب دیں کہ ان کے اپنا کردار ادا کرنے میں نہ صرف سچائی بلکہ نفاست پیدا ہو۔‘
یہ بھی پڑھیے
ہم نے ان سے پوچھا کہ چھوٹی سکرین کے بارے میں کیا کہیں گے، تو ضیا محی الدین نے کہا کہ میں ٹی وی دیکھتا ہی نہیں ہوں۔
انھوں نے اپنی ایک طالبہ کا ذکر کیا جو تھیٹر کے بعد کام کرنے ٹی وی پر گئیں تو ایک روز ان کے پاس آ کر رونے لگیں کہ میں نے مسئلہ لفظ ادا کیا لیکن ڈائریکٹر نے کہا کہ مسئلہ کیا، مسلہ بولیں۔
ضیا محی الدین کہتے ہیں کہ اداکاروں کو کرافٹ کا پتا ہوتا ہے اور ریہرسل کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اداکار کوئی ایسا کام تو نہیں کر رہے جو ان کے رول کے اسلوب کے مطابق نہ ہو۔
تاہم وہ کہتے ہیں ’آگے بڑھنے کے لیے سیکھنے کے ساتھ تجربہ ضروری ہوتا ہے لیکن بے شمار اداکاروں کو کام نہیں ملتا لیکن اس فن کا کمال یہ ہے کہ بھوکے رہ لیں گے لیکن کوئی اور کام نہیں کرتے اور عروج پر بہت کم لوگ پہنچتے ہیں۔‘ وہ کہتے ہیں کہ میں نے دنیا گھومی ہے لیکن انگریز سے بہتر تھیٹر کا اداکار نہیں دیکھا۔
’اپنے کام سے بہت کم مطمئن ہوا‘

ہم نے ان سے سوال کیا کہ آپ کا اس کام کے ساتھ طویل عشق رہا ہے، اگر آپ پلٹ کر دیکھیں تو دل کے قریب کیا رہا؟
’بہت کم موقع ملا کہ اپنے کسی کام سے مطمئن ہوا ہوں۔ ہاں، ایسی ہیں دو چار جن پر مجھے ناز بھی ہے لیکن بات یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ پیمانے بدلتے رہتے ہیں، اپنی ہی نظروں میں اس پیمانے پر نہیں پہنچا جو میری توقع تھی۔ ارادہ کچھ بھی ہو لیکن عمل نہ ہو سکے تو اکثر ان دونوں چیزوں کا ملاپ نہیں ہوتا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ پروفیشنلزم میرے نزدیک ایمان کی مانند ہے۔ ’میرا نہیں خیال کچھ بدلاؤ آیا ہے۔ سٹیج ایکٹنگ پروفیشنل ہے۔ پچھلے 30-40 سال میں فلم ہمارے ہاں ایک ملغوبہ ہوتا ہے، ہیروئن اور ولن ہوں گے، ناچ گانا ہوگا، ایک سائیڈ ہیرو ہوگا اور سائیڈ ہیروئین۔ ایک ناچ ایسا ہو ضرور جس میں لڑکی کی ساڑھی گیلی ہو جائے۔ لیکن اب میں نے دیکھا ہے 15 سالوں میں کچھ نوجوانوں نے سینما میں دوسرے موضوعات پر بھی فلم بنانا شروع کی ہے۔‘
پاکستانی ٹی وی ڈراموں کے بارے میں ضیا محی الدین کہتے ہیں کہ ’ڈرامے قطعی نہیں دیکھتا، مجھے کوئی کمی نہیں محسوس ہوتی، سنا ہے مگر بڑے اچھے ہوتے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ آخری بار انھوں نے سنہ 1981 میں پاکستانی ڈرامہ دیکھا تھا۔
’میں کبھی کبھی خبریں دیکھتا ہوں ورنہ ٹی وی دیکھنا بہت کم ہوتا ہے۔ کبھی خبریں الجزیرہ پر دیکھتا ہوں، کبھی بی بی سی بھی دیکھ لیتا ہوں۔ مطالعہ کرتا ہوں دو بجے تک نیند آ جائے تو ٹھیک ہے، نہ آئے تو نہیں۔‘
تاہم وہ شکوہ کرتے ہیں کہ پاکستانی ٹی وی پر غلط تلفظ بولا جاتا ہے۔ انھوں نے ملک، مِلک اور مُلک کا حوالہ دیا اور کہا زبر زیر اور پیش سے لفظ اور مطلب بدل جاتا ہے۔ ’مختلف الفاظ جنھیں ہم عام طور پر اور ٹی وی ڈراموں میں غلط ادا کرتے ہیں، جیسے قبر، فکر، صبر وغیرہ، ہم کس کس کا رونا روئیں۔‘












