سونم کپور: بے بی شاور تو سنا تھا اب یہ بے بی مون کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہSONAM KAPOOR
- مصنف, مرزا اے بی بیگ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
انڈیا کی معروف اداکارہ سونم کپور کی امید سے ہونے کی خبر رواں سال کے اوائل میں سامنے آئی تھی اور گذشتہ ہفتے ان کے حوالے سے بی بی شاور کی باتیں بھی سامنے آئیں۔
انھوں نے خود ہی لندن میں منعقدہ بے بی شاور کی تقریب کی تصاویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اپ لوڈ کیں۔
اس تقریب کے بعد اب وہ اٹلی میں بے بی مون کے لیے روانہ ہو گئی ہیں۔ ایسے میں ہم سے بہت سوں کو یہ تجسس ہوگا کہ آخر یہ بے بی مون کیا ہوتا ہے۔
بالی ووڈ اداکار انیل کپور کی بیٹی اور ویر دی ویڈنگ کی اداکارہ سونم کپور نے مارچ 2018 میں بزنس مین آنند آہوجا سے شادی کی تھی۔ ان کے ہاں آنے والے مہینوں میں بچے کی ولادت متوقع ہے۔
آپ نے اس سے قبل برائڈل شاور کا ذکر سنا ہوگا جو کہ برصغیر انڈیا پاکستان میں مختلف ناموں سے مشہور ہے۔ جن میں سب سے زیادہ مشہور مہندی اور ہلدی کی تقریب جیسے نام ہیں۔
بے بی شاور کیا ہے؟
اسی طرح بے بی شاور ہے جسے انڈیا پاکستان میں 'گود بھرائی' کی رسم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بنگال میں اسے 'شاد' کے نام سے، کیرالہ میں 'سیمنتھام' اور تمل ناڈو میں 'ولکپو' کے نام سے جانا جاتا ہے۔
یہ رسم عموماً شادی شدہ خاتون کے پہلی بار حاملہ ہونے پر منائی جاتی ہے۔ کہیں یہ رسم خبر کے ساتھ ہی منائی جاتی ہے تو کہیں یہ ساتویں مہینے میں منائی جاتی ہے تو کہیں آٹھویں مہینے کے اختتام پر۔ کہیں کہیں یہ بچے کی پیدائش کے بعد چھٹے دن منائی جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہSONAM KAPOOR
اس موقعے پر میکے اور سسرال والے جمع ہوتے ہیں نومولود بچے کی ماں کو ڈھیر ساری دعائیں دی جاتیں جن میں بچے کی خوش بختی کی دعا بھی شامل ہوتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس موقعے پر تحفے تحائف بھی دیے جاتے ہیں جن میں زیادہ تر بچے کے ملبوسات، کھلونے، گہوراے وغیرہ کے ساتھ نومولود بچے کی والدہ کے لیے جوڑے بھی ہوتے ہیں۔ ایسے مواقعے پر بہت سارے لذیذ کھانوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ حاملہ خاتون اسے شوق سے کھائے۔
گود بھرائی کے دوران عام طور پر ناچ گانا اور چھیڑ چھاڑ، ہنسی مذاق وغیرہ بھی ہوتا ہے۔ ماں کی ہیئت دیکھ کر بچے کی جنس کا بھی اندازہ لگایا جاتا ہے کہ لڑکا ہوگا یا لڑکی۔
یہ بھی پڑھیے
گذشتہ سال پاکستانی شوبز کی مشہور جوڑی اقرا عزیز اور یاسر حسین کے ہاں پہلے بچے کی ولادت پر اقرا کو 100 پیغامات سے مزین ڈیزائنر فہد حیسن کا تیار کردہ دوپٹہ پیش کیا گیا تھا جس پر خوبصورت پھولدار کام تھے اور اور اردو رسم خط میں سو دعائیں تحریر تھیں۔
سونم کپور نے اپنے بے بی شاور کی جو تصاویر انسٹا گرام پر پیش کی ہیں ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کتنی خوش ہیں۔ اس تقریب کی وائرل ویڈیو میں ان کی فلم 'دلی 6' کے گیت پر ان کے دوستوں کو رقص کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
Instagram پوسٹ کا اختتام
انھوں نے تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ 'اب یہ سب اصلی لگنے لگا ہے۔ یہ بچہ دنیا میں آنے کے راستے پر ہے اور ہم ایشا بھارتی پشریچا کی شکرگزار ہیں جنھوں نے اس بہترین تقریب کا اہتمام کیا جس میں میرے اتنے سارے پسندیدہ لوگ یکجا ہوئے اور مجھے انتہائی فراخدلی کے ساتھ اور خوبصورت انداز میں اپنی نیک خواہشات سے نوازا۔'
بے بی مون کیا ہے؟
اس تقریب کے بعد اب وہ اٹلی میں بے بی مون پر ہیں۔ ہنی مون تو آپ سب جانتے ہی ہوں گے کہ شادی کے بعد شادی شدہ جوڑے ایک دوسرے کے ساتھ خوبصورت مقامات پر فرصت کے اوقات گزارتے ہیں اور اس کے لیے وہ بہت ساری تیاریاں کرتے ہیں۔
ایسے میں ہم نے جاننے کی کوشش کی ہے کہ بے بی مون کیا ہے۔
یہ ہنی مون کی ہی طرح بچے کی پیدائش سے قبل جوڑے کے تنہائی اور فرصت کے اوقات ہوتے ہیں جس میں وہ آنے والے بچے کے بارے میں باتیں کرتے ہیں اور منصوبے بناتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس میں لوگ اپنے بچے کی ولادت سے قبل اچھا وقت خوش و خرم انداز میں گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہیلتھ لائن کے مطابق بچے کی ولادت کے بعد اس طرح کے ساتھ گزارے جانے والے اوقات کمیاب نہیں بلکہ نایاب ہو جاتے ہیں کیونکہ بچے کی ولادت کے بعد کا زمانہ بہت ہلچل کا زمانہ ہوتا ہے جس میں ساری توجہ نومولود کی جانب ہوتی ہے۔
بہت سے لوگ پہلے بچے کی ولادت سے قبل اس کا اہتمام کرتے ہیں اور آخری بار صرف ایک جوڑے کے طور پر کہیں ساتھ جاتے ہیں اور فرصت کے ایام گزارتے ہیں۔
عام طور پر اس قسم کا سفر نو ماہ کے آخری تین مہینوں میں کیا جاتا ہے اور اس میں انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کیا جاتا ہے تاکہ زچہ بچہ کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔












