آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
متحدہ عرب امارات میں ڈزنی کی نئی فلم ’لائٹ ایئر‘ پر پابندی عائد کر دی گئی
متحدہ عرب امارات کے سنیما گھروں میں ڈزنی اور پکسر کی نئی اینیمیٹڈ فلم ’لائٹ ایئر‘ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اسی طرح کی اطلاعات سعودی عرب سے بھی آ رہی ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے میڈیا ریگولیٹری دفتر نے اپنے فیصلے کی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی لیکن اس فلم میں ہم جنسوں کے درمیان بوسے کا ایک منظر شامل ہے۔
محکمے نے صرف اتنا کہا ہے کہ فلم کا مواد ملک میں میڈیا کے معیار کی خلاف ورزی کرتا ہے اس لیے اس پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
فلم کا مرکزی کردار ’ٹوائے سٹوری‘ فرنچائز کا کردار ’بز لائٹ ایئر‘ ہے۔
متحدہ عرب امارات کے میڈیا ریگولیٹری دفتر نے ایک ٹویٹ کی، جس میں بز کی ایک تصویر پر لال رنگ کا کراس لگایا گیا۔
بی بی سی نے تبصرے کے لیے متحدہ عرب امارات کی حکومت اور ڈزنی دونوں سے رابطہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لائٹ ایئر پر پابندی سے صرف چھ ماہ پہلے ہی متحدہ عرب امارات نے کہا تھا کہ وہ سنیما کی ریلیز کو سنسر کرنا بند کر دے گا اور ان فلموں کے لیے 21 سے زیادہ عمر کی درجہ بندی کا اعلان کیا تھا۔
پچھلے سال پکسر کی فلم ’آنورڈ‘ میں ہم جنس پرست والدین کے حوالے کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک کی جانب سے اس پر پابندی عائد کرنے کی اطلاع ملی تھی۔
اپریل میں سعودی عرب نے ڈزنی کے ’ڈاکٹر سٹرینج ان دی ملٹیورس آف میڈنیس‘ میں ایل جی بی ٹی مناظر کو سینسر کرنے کی درخواست کی تھی، جسے بالآخر ملک میں نہیں دکھایا گیا۔
دوسری فلمیں جن میں ہم جنس پرستوں کی کہانیوں کو پیش کیا گیا اور جو مختلف ممالک میں سینسرشپ کا شکار ہوئی ہیں ان میں ایلٹن جان کی ’راکٹ مین‘ بھی شامل ہے۔