سپائیڈر مین: چین نے فلم سپائیڈر مین پر پابندی کیوں لگائی؟

گذشتہ سال دسمبر میں ریلیز ہونے والی فلم ’سپائیڈر مین، نو وے ہوم‘ کو سینما شائقین میں زبردست پذیرائی ملی۔ اس فلم نے باکس آفس پر جھنڈے گاڑے اور تقریباً ایک کھرب 55 ارب روپے کا بزنس کیا۔ اس فلم کو دیکھنے کے لیے ناظرین کا سینما گھروں کے باہر ہجوم تھا اور کورونا کی وبا سے متاثرہ فلم انڈسٹری کے لیے یہ فلم ایک نئی امید ثابت ہوئی۔

لیکن چین کے ناظرین اس فلم کو نہیں دیکھ سکے کیونکہ وہاں اس فلم کی نمائش پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ چین ایک طویل عرصے سے کسی بھی ایسے مواد پر پابندی لگا رہا ہے جو، چین کے مطابق اس کی خودمختاری کو چیلنج کرتا ہو۔

مگر ’سپائیڈرمین‘ کی اس فلم میں ایسا کچھ نہیں تھا جس سے چینی اقدار کو ٹھیس پہنچتی۔ اس فلم میں چین کا کوئی ایک حوالہ بھی نہیں تھا اور نہ ہی اس میں چین کو دکھایا گیا۔ اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ چینی حکومت اور ہالی وڈ کے درمیان آخر کیا چل رہا ہے؟

چین نے سپائیڈر مین پر پابندی کیوں لگائی؟ بی بی سی نے اس سوال کا جواب جاننے کے حوالے سے چند فلمی صنعت کے ماہرین سے بات کی ہے۔

چین اور ہالی وڈ

سنہ 1949 سے پہلے چین کی فلم انڈسٹری بہت محدود تھی۔ اس کا دائرہ کار چند ہالی وڈ فلموں کے علاوہ چین میں بننے والی فلموں تک محدود تھا۔ لیکن چین کے رہنما ماؤزے تنگ کے عروج اور عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے ساتھ ہی سب کچھ بدل گیا۔

سال 1951 سے ہالی وڈ اور ہانگ کانگ میں بننے والی فلموں کی چین میں نمائش پر پابندی لگا دی گئی۔ چین میں تب سینما دکھانے والی گاڑیاں پورے ملک میں گھومتی تھیں۔ جن کے ذریعے کسانوں اور مزدوروں کی کہانیاں دکھائی جاتی تھیں جن میں وہ کمیونسٹ پارٹی کے لیے اپنی وفاداری اور وابستگی کے متعلق بات کرتے تھے۔

اسی طرح کی فلموں کا تین دہائیوں تک چین پر غلبہ رہا۔

’چائناز انکاؤنٹر ود گلوبل ہالی وڈ‘ نامی کتاب کی مصنفہ وینڈی سو کا کہنا ہے کہ ’ان 30 برسوں میں چین میں صرف ایک امریکی فلم دکھائی گئی۔ شاید ہی کسی نے اس فلم کے بارے میں سنا ہو۔ یہ فلم ’سالٹ آف دی ارتھ‘ ہے۔‘

’سالٹ آف دی ارتھ‘ کی کہانی نیو میکسیکو میں کانکنوں کی زندگی پر مبنی ہے۔

ہالی وڈ نے فلم بنانے والوں کو کمیونسٹ پارٹی سے مبینہ تعلق کے الزام میں بلیک لسٹ کر دیا تھا۔ یہ اس فلم کا چین کے ناظرین تک پہنچنے کی ایک اہم وجہ تھی۔

سنہ 1976 میں چینی رہنما ماؤ کی موت کے بعد چینی فلم انڈسٹری میں وہ موڑ آیا جس کے باعث حالات تبدیل ہو گئے۔ فلم انڈسٹری جو کئی دہائیوں تک حکومت کی پراپیگنڈہ مشین بنی ہوئی تھی، اب اسے مزید آزادی مل گئی تھی۔ لیکن حکومت کی طرف سے مالی امداد بند ہونے کی وجہ سے ان کی حالت ابتر تھی۔

وینڈی سو بتاتی ہیں ’چین کی فلم انڈسٹری سخت مشکلات کا شکار تھی۔ بہت سے فلم سٹوڈیوز دیوالیہ ہو چکے تھے۔ تھیٹر جانے والوں کی تعداد کم ہو گئی تھی۔‘

چینی فلمسازوں کے پاس فلم بنانے کے لیے پیسے نہیں تھے اور پھر حکام ایک نئی تجویز لے کر سامنے آئے۔

وینڈی سو بتاتی ہیں کہ ’انھوں نے حکومت کے فلم بیورو کو مشورہ دیا کہ ہمیں ہالی وڈ کی وہ فلمیں خریدنی چاہییں جو ہٹ ہو چکی ہیں۔ چین میں بھی لوگ ان فلموں کو پسند کریں گے۔ اگر وہ تھیٹر میں جائیں گی تو ہم پیسہ کما سکیں گے۔ اور اس پیسے سے ہم چین میں فلمیں بنانے میں مدد دے سکیں گے۔ یہیں سے ہالی وڈ فلمیں چین میں لانے کا خیال شروع ہوا۔‘

سنہ 1994 میں چین میں ہالی وڈ کی بلاک بسٹر فلم ’دی فیوجیٹو‘ ریلیز ہوئی۔ یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس پر اپنی بیوی کے قتل کا الزام ہے اور وہ اس الزام کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس فلم میں مرکزی کردار ہیریسن فورڈ اور ٹومی لی جانز نے ادا کیے تھے۔ انھوں نے چینی ناظرین پر ایک شاندار تاثر چھوڑا۔

وینڈی سُو کہتی ہیں کہ ’چین میں فلم بینوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ہالی وڈ کی بلاک بسٹر فلم اتنی دلچسپ ہو سکتی ہے۔ ایک تیز رفتار ایکشن سے بھرپور فلم۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ یہ ان کے لیے سنسنی خیز اور حیرت کی بات تھی۔ کیونکہ تیس برس سے زائد عرصے سے ان کا بین الاقوامی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔‘

یہ ایک نئے دور کا آغاز تھا۔ نہ صرف چین کے فلم بینوں کے لیے بلکہ ملک کی پوری فلمی صنعت کے لیے لیکن چین نے فیصلہ کیا تھا کہ ہر سال صرف 10 ہالی وڈ فلمیں دکھائی جائیں گی۔ ہالی وڈ کو ان میں سے ہر ایک فلم سے باکس آفس کی کل کمائی کا دسواں حصہ ملتا تھا لیکن یہ فلمیں چین کے لوگوں کے لیے انمول تھیں۔

وہ باہر کی دنیا کو دیکھنے کے شوقین تھے لیکن حکومت صرف ایسی فلمیں دکھا کر پیسہ کمانا چاہتی تھی جو چینی نظام حکومت کو چیلنج نہ کرتی ہوں۔

پابندی اور مفاہمت

سنہ 1997 میں ہالی وڈ کی تین فلمیں ریلیز ہوئیں۔ ان کی کہانیاں چین اور ہالی وڈ کے تعلقات میں ’بریک اپ‘ کا باعث بنیں۔ ان میں سے دو فلمیں ’سیون ائیرز ان تبت‘ اور ’کنڈن‘ تھیں۔ اس میں تبت کے روحانی پیشوا دلائی لاما کی بات کی گئی تھی۔

تیسری فلم ’ریڈ کارنر‘ تھی۔ اس میں چین کے قانونی نظام کی خامیاں دکھائی گئیں۔ ان میں سے کوئی بھی فلم چین میں دکھانے کے لیے نہیں بنائی گئی لیکن ان کی کہانیوں نے چینی انتظامیہ کو اتنا غصہ دلایا کہ انھوں نے یہ فلمیں بنانے والے تین سٹوڈیوز پر پابندی لگا دی۔ جیسے ہی تین بڑے بینرز سونی، ایم جی ایم اور ڈزنی کو اچانک باہر کا راستہ دکھایا گیا تو ہالی وڈ بیک فٹ پر آ گیا۔

یونیورسٹی آف سدرن کیلی فورنیا کے پروفیسر سٹینلے روزن کہتے ہیں کہ ’ان دنوں چین کی فلموں کی مارکیٹ ہالی وڈ کے لیے بڑی نہیں تھی لیکن چین نے شروع ہی سے اپنی دھونس جمائی، اس نے ہالی وڈ کے تمام سٹوڈیوز سے کہا کہ اگر آپ ایسی فلم بنائیں گے تو یہ چین میں نہیں دکھائی جائیں گی اور وہ صرف اس فلم پر پابندی نہیں لگائیں گے، بلکہ آپ کی تمام فلموں پر پابندی لگا دیں گے۔چین نے شروع سے ہی ہالی وڈ کو بتانے کی کوشش کی کہ باس کون ہے۔‘

اس وقت چین کی فلمی مارکیٹ چھوٹی تھی لیکن امریکی فلم سازوں نے یہاں کے امکانات کو اچھی طرح جانچ لیا تھا۔ اب کچھ سابق فوجیوں نے منظر میں انٹری لی۔

ڈزنی کے باس مائیکل آئزنر اور سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے چین کا اعتماد بحال کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس کے بعد چین کے شائقین کے لیے تینوں ہالی وڈ سٹوڈیوز کے دروازے دوبارہ کھول دیے گئے۔ لیکن چین میں حالات بدلنا شروع ہو گئے تھے۔

سٹینلے روزن بتاتے ہیں کہ ’اس وقت چینی اخبارات ہالی وڈ کی فلموں کا جائزہ لے رہے تھے۔ سیونگ پرائیویٹ ریان، ٹائٹینک، سٹار وارز جیسی فلمیں چین میں بہت کامیاب ہوئیں لیکن اخبارات لکھ رہے تھے کہ ہالی وڈ کی فلمیں دنیا کو ان کی سوچ کے لیے مددگار ثابت ہوں گی۔ اگر وہ روسی فلم بناتا ہے تو اس میں بہت سارے مصالحے ہوں گے، اگر وہ افریقہ پر فلم بناتا ہے تو اس میں بہت سارے لوگ ہوں گے۔‘

اس کے باوجود چین میں دکھائی جانے والی ہالی وڈ فلموں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ سنہ 2001 میں چین میں دکھائی جانے والی ہالی وڈ فلموں کی تعداد 10 سے بڑھ کر 20 ہو گئی۔ 2012 میں یہ تعداد بڑھ کر 34 ہو گئی۔ چین سے ہالی وڈ کی کمائی بھی 10 سے 25 فیصد تک بڑھ گئی لیکن کچھ عرصے بعد ایسا لگا کہ چینی فلم بینوں کی امریکی فلموں سے محبت کم ہوتی جا رہی ہے۔

سٹینلے کہتے ہیں کہ ’کسی حد تک یہ سچ ہے۔ اس کے پیچھے بہت سی وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ چینی لوگ اپنی فلمیں بنا رہے ہیں جن کے سپیشل ایفیکٹس ہیں۔ جو بڑے بجٹ والی ہیں۔ جن میں سٹارز ہیں۔ چین میں پہلے بڑی فلمیں نہیں تھیں۔ کوئی فلمی ستارے نہیں۔ ہانگ کانگ کے جیکی چین، آرنلڈ شوارزنیگر جیسے ستارے تھے۔ اب چین میں اس کے اپنے فلمی ستارے ہیں۔ دیگر ہالی وڈ فلموں میں بھی وہی دہرایا جاتا ہے اور چینی فلم بین اب پہلے کی طرح حیران نہیں ہیں۔‘

ہو سکتا ہے کہ چین کے فلم بینوں کی ترجیحات بدل رہی ہوں لیکن ہالی وڈ کے لیے پریشانی کا معاملہ چینی فلم بین نہیں بلکہ وہاں کا سنسر بورڈ ہیں۔

چین کا انتخاب اہم ہے

نیویارک میں قائم تنظیم ’پین امریکہ‘ کے ریسرچ ڈائریکٹر جیمز ٹیگر کا کہنا ہے کہ ’جب میں اس معاملے پر تحقیق کر رہا تھا تو ایک شخص نے مجھے بتایا کہ آدھا معاملہ چین کی سینسر شپ سے متعلق ہے اور آدھا امریکی سرمایہ داری کی وجہ سے ہے۔‘

جیمز بتاتے ہیں کہ ہالی وڈ چین کے فلم بینوں تک پہنچنے کے لیے کس قسم کے معاہدے کر رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2020 میں چین کا باکس آفس دنیا میں سب سے بڑا بن گیا اور چین تک رسائی حاصل کرنا ہالی وڈ کی بڑی فلموں کی معاشی قسمت بنا یا توڑ سکتا ہے۔

جیمز کہتے ہیں کہ ’ان بڑی کمپنیوں کے لیے چین کے سینسر بورڈ کو ذہن میں رکھنے کے معاشی فائدے ہیں۔ ان دنوں ہم ہالی وڈ کے سٹوڈیوز کو خود سینسر کرتے دیکھ رہے ہیں۔ وہ اسے ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی بنائی ہوئی فلمیں چین میں دکھائی جا سکتی ہیں۔‘

جیمز کا کہنا ہے کہ یہ جاننا مشکل ہے کہ کیا ہالی وڈ چینی فلم بینوں کو ذہن میں رکھ کر کہانیاں بنا رہا ہے یا پھر ایسے مناظر جو تنازع پیدا کر سکتے ہیں بعد میں چینی سینسر کی بنیاد پر ہٹائے جا رہے ہیں۔

لیکن اس کی ایک چھوٹی سی جھلک سنہ 2014 میں سامنے آئی۔ جب سونی کمپنی کے نمائندوں کی ای میلز ہیک کر لی گئیں۔ اس کے ذریعے ’پکسلز‘ نامی سائنس فکشن کامیڈی فلم کے بارے میں گفتگو واضح ہوئی۔

اس فلم میں دکھایا گیا تھا کہ خلائی مخلوق تاج محل اور واشنگٹن کی کچھ اہم یادگاروں پر حملہ کرتے ہیں۔ دیوار چین بھی اس میں شامل تھی۔ سونی کے مالکان سوچ رہے تھے کہ کیا اس سے متعلق سینز کو ہٹا دیا جائے اور آخر کار انھیں ڈیلیٹ کر دیا گیا۔

جیمز کہتے ہیں کہ ’ایسے چیزیں ہمارے سامنے شاذ و نادر ہی آتی ہے۔ اس نے ہمیں دکھایا کہ یہ سٹوڈیو کے نمائندوں کے لیے کتنا عام ہے۔ وہ آپس میں بحث کریں گے کہ آیا فلم کو چینی مارکیٹ میں آنا چاہیے یا نہیں۔ کون سا حصہ تبدیل کرنا پڑے گا۔ میرا مطلب ہے یہ کہنا کہ سٹوڈیو کے نمائندے ایک دوسرے کو لکھ رہے ہیں کہ سینسر اس بارے میں سخت ہے یا اگر اس سین کو سینسر سے پاس کرنے میں کوئی مسئلہ ہو تو اسے کاٹ دیا جائے۔‘

تبدیلیاں بھی مختلف نوعیت کی تھیں۔ مثال کے طور پر، ہم جنس پرستوں یا ہم جنس پرست کرداروں کے مکالمے تبدیل کیے گئے تھے۔ جیمز کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ محسوس کر سکتے ہیں کہ اس میں بڑی بات کیا ہے۔

لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کا بہترین مرکز اپنی کہانیوں پر چین کی کمیونسٹ پارٹی کے پراپیگنڈہ سینٹر سے اجازت لیتا ہے۔ جیمز کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں فلم کی کہانی میں کئی سیاسی پیغامات بھی داخل کیے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

چین کا سینسر بورڈ اور ہالی وڈ کی مشکل

یونیورسٹی آف ورجینیا کے ایسوسی ایٹ پروفیسر آئن کوکس کہتے ہیں کہ ’بڑے بجٹ کے بلاک بسٹر کے لیے چین میں کامیاب ریلیز امریکی باکس آفس کی کمائی کو دگنا کر سکتی ہے۔‘

سنہ 2020 میں چین نے دنیا بھر میں ہالی وڈ فلموں کے سب سے زیادہ ناظرین کے لحاظ سے امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا۔

یہاں یہ یاد رکھنا ہو گا کہ ہالی وڈ کے گلیمر کے پیچھے ایسے لوگ ہیں جن پر مختلف طریقوں سے پیسہ کمانے کے لیے سرمایہ کاروں کا دباؤ ہے۔

آئن کوکس کہتے ہیں کہ ڈزنی جیسی کمپنی کے بارے میں بات کرتے ہوئے، آپ کو معلوم ہو گا کہ وہ اپنی فلموں کے ذریعے چینی مارکیٹ میں داخل ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کا مقصد صرف فلم سے کمانا نہیں۔ وہ ایسی انٹلیکچوئل پراپرٹی بھی بنانا چاہتے ہیں۔ جس میں طاقت ہو۔ جس کا استعمال سامان فروخت کرنے، تھیم پارکس بنانے، ویڈیو گیمز، کپڑے اور کھلونے اور دیگر مصنوعات کے لیے کیا جا سکتا ہے۔‘

تاہم چین کے سینسر بورڈ کے بارے میں کوئی بھی ضمانت کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتا۔

گذشتہ سال مارول کی سپر ہیرو فلم ’شانگ چی اینڈ دی لیجنڈ آف دی ٹین رنگز‘ ریلیز ہوئی تھی۔ فلم کو چین میں ریلیز نہیں ہونے دیا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ بتائی گئی کہ فلم کی مرکزی کاسٹ نے ماضی میں چینی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

سپائیڈر مین کی حالیہ فلم ’نو وے ہوم‘ پر پابندی کی اسی طرح کی ایک معمولی وجہ بتائی گئی۔ پریشانی کی وجہ یہ ہے کہ ہالی وڈ یہ اندازہ لگانے سے قاصر ہے کہ چین کس چیز پر اعتراض کر سکتا ہے۔

ایان کوکاس کہتے ہیں کہ یہ چیلنج کا ایک نیا رُخ ہے۔ ایسا نہیں کہ آگے کبھی کوئی سپر ہیرو فلم نہیں آئے گی۔ یہ ایک جاری کشمکش ہے جہاں سٹوڈیوز کو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ چین میں ان کی فلم کو کس طرح دیکھا جائے گا۔ ان لوگوں کے لیے جو بات چیت کرتے ہیں اور سٹوڈیو کو ہدایات دیتے ہیں، اس صورت میں سٹوڈیو کو یہ سوچنا ہو گا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا مستقبل میں کیا اثر پڑے گا؟‘

سنہ 1997 سے سیکھے گئے سبق بھی سامنے ہیں۔ اس کے بعد سٹوڈیو کو ایسی فلمیں بنانے کی سزا دی گئی جو چین میں ریلیز نہیں ہونی تھیں۔

ایان کوکاس کا کہنا ہے کہ ’یقینی طور پر اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں۔ میرے خیال میں ایک چیز جو سمجھنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آ سکتا ہے جب ہالی وڈ کے سٹوڈیوز بڑے بجٹ کی فلموں کے لیے چینی مارکیٹ پر انحصار کرنے کے بارے میں سوچیں گے۔‘

’ایک قابل اعتماد کاروباری فیصلہ لیکن ایسا لگتا ہے کہ تمام تر غیر یقینی صورتحال کے باوجود، وہ اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

اسی سوال پر واپس آتے ہوئے، چین نے ’سپائیڈر مین‘ پر پابندی کیوں لگائی؟

مختصراً اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے ذریعے امریکہ کی شبیہ ایک قابل فخر اور طاقتور ملک کی بنتی ہے جو چین کے لیے ناقابل برداشت تھا۔

دوسری بات یہ کہ چینی حکومت ملک کے نظریے کو فروغ دینے والی چینی فلموں کے لیے مزید جگہ چاہتی ہے۔ اب سوال یہ بھی ہے کہ اگر ہالی وڈ چین کے شائقین کے پیچھے بھاگتا رہے گا تو فلم کی کہانی پر کیا اثر پڑے گا؟

ہمارے تیسرے ماہر جیمز ٹیگر کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مصنف حراستی کیمپ کی کہانی سنانا چاہتا ہے تو اس کی اجازت شاذ و نادر ہی ملتی ہے کیونکہ چین میں ایسی کوئی فلم نہیں دکھائی جا سکتی کیونکہ وہ اس وقت مسلم اویغوروں کو حراستی کیمپوں میں رکھ رہے ہیں۔ یعنی ایسی فلم کبھی نہیں بنے گی۔