انڈین گلوکاروں سدھو موسے والا اور کے کے کی موت پر ردِعمل: ’انڈیا اور پاکستان دونوں ممالک کے لوگ سدھو اور کے کے کے لیے غمگین ہیں‘

،تصویر کا ذریعہSocial Media
- مصنف, نیاز فاروقی
- عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی
یہ کہاوت کہ موسیقی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ہمسایہ ممالک انڈیا اور پاکستان کے درمیان سب سے درست ثابت ہوتی ہے، اور اس کا واضح ثبوت گلوکار سدھو موسے والا اور کے کے کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر رد عمل میں نظر آ رہا ہے۔ پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین بھی ان دونوں کی اموات پر تعزیت کا اظہار کر رہے ہیں۔
سدھو موسے والا کو 29 مئی کو انڈیا کی ریاست پنجاب میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اور منگل کی شام معروف گلوکار کرشنا کمار کنتھ (کے کے) کی کولکتہ میں موت ہو گئی۔
کے کے ایک ایونٹ میں گانے کے بعد ہوٹل میں بے ہوش ہو گئے تھے، جہاں سے انھیں ہسپتال لے جایا گیا لیکن ڈاکٹروں نے انھیں مردہ قرار دے دیا۔ موت کی وجہ دل کا دورہ بتایا جا رہا ہے لیکن سرکاری طور پر ابھی تک اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
خطے کی مشترکہ ثقافتی تاریخ پر لکھتے ہوئے انڈین صحافی ادے رانا نے لکھا کہ ’گذشتہ چند دن انڈیا اور پاکستان کی موسیقی کی مشترکہ تاریخ کی یاد دہانی کراتے ہیں۔ دونوں ممالک کے لوگ سدھو اور کے کے،دونوں کے لیے غمگین ہیں۔’

،تصویر کا ذریعہ@CforChatha
دونوں ممالک کی بات کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارف صبا اعتزاز نے انھیں جواب دیا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ’ہماری تاریخ مشترکہ ہے۔‘
بدھ کی صبح انڈیا میں ٹوئٹر پر کے کے ٹرینڈ ہو رہا تھا اور پاکستان میں بھی اقس خبر پر ردعمل سامنے آ رہا ہے اور مداح ان کی موت کی خبر پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
اگرچہ گذشتہ نسل کے انڈیا اور پاکستان کے متعدد معروف گلوکارہ دونوں ممالک میں مقبول رہے ہیں، لیکن سدھو اور کے کے لیے بھی مداحوں نے محبت کا پرزور اظہار کیا ہے۔
کے کے کی اچانک موت پر ملک نعمان نواب نے اظہار افسوس کرتے ہوئے لکھا کہ ’یا اللہ، یہ ایک دور کا خاتمہ ہے۔ جس نے ہمارے بچپن کو خوبصورت بنایا وہ نہیں رہے۔ ہم آپ کو کبھی نہیں بھولیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید لکھا کہ ’پاکستان سے آپ کے لیے محبت اور احترام۔‘
الوینہ ملک نے لکھا کہ 'کے کے کو سرحد کے دونوں طرف لوگ پیار کرتے تھے۔ پاکستان میں بھی بڑے پیمانے پر ان کے مداح تھے۔ یہ ایک اداس رات ہوگی۔'
کے کے 1968 میں دہلی میں پیدا ہوئے اور اپنے کیریئر کا آغاز ایڈورٹائزنگ جِنگلز گا کر کیا۔ انھوں نے فلمی موسیقی میں مواقع ملنے سے پہلے تقریباً 3500 جِنگلرز گائے۔ اس کے بعد انھوں نے تامل، تیلگو اور کنڑ سمیت متعدد انڈین زبانوں میں گایا۔ لیکن ہندی میوزک انڈسٹری میں ان کی آواز سرحد کے دونوں طرف مقبول ہوئی۔
اسی طرح سدھو کی موت پر بھی ایسے ہی تعزیت کا اظہار کیا گیا جس میں بعض لوگوں نے بظاہر ایک ایسے وعدے کو یاد کیا کہ گلوکار جلد ہی پاکستان کا دورہ کرنا چاہتے تھے۔
حمزہ اظہر سلام نے لکھا کہ 'سدھو موسے والا نے اس سال پاکستان آنے کا وعدہ کیا تھا، پہلا کنسرٹ لاہور اور دوسرا اسلام آباد میں'۔
انھوں نے مزید لکھا کہ 'فن تمام حدوں کو عبور کرتا ہے اور آج پاکستانی سدھو موسے والا کی موت پر اپنے ہندوستانی بھائیوں اور بہنوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں'۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
ایک اور صارف مارمے نے لکھا کہ 'میں کل ہی [ان کے بارے میں] اپنے دوستوں کو بتا رہی تھی کہ اگر سدھو موسٰے والا پاکستان آئے تو میں ان کے کنسرٹ میں جاؤں گی چاہے کچھ بھی ہو اور آج وہ نہیں رہے'۔
موسے والا پنجابی زبان میں گاتے تھے لیکن ان کے گانوں کا ٹائٹل ہمیشہ انگریزی میں ہوتا تھا۔ ان کے آخری گانے کا نام تھا 'لاسٹ رائیڈ'، جس میں انھوں نے بظاہر امریکی ریپر ٹوپاک کو خراج تحسین پیش کیا تھا جنھیں خود 1996 میں 25 سال کی عمر میں ان کی کار میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
صارف بھٹناگر نے گلوکار کی پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر اوکاڑہ میں چسپاں ایک تصویر شیئر کی۔
سید ارشد علی نے لکھا کہ 'انھیں سدھو کی یاد آئے گی۔ پاکستان میں آپ کے مداح کی طرف سے پیار'۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان فی الحال رشتے خراب ہیں لیکن مداحوں کے ردعمل اور تعزیت اس بات کا اشاہ کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے مشترکہ ثقافت اکثر سیاسی پہلوؤں پر حاوی ہو جاتی ہے۔
صارف ذوالقرنین نے دونوں گلوکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ 'ہم نے ایک کے بعد ایک، دو جواہرات کھوئے۔ کے کے نے اپنے گانوں سے ہمارے ماضی کو یادگار بنایا، خاص طور پر [وہ دور] جب ہم نے خواب دیکھنا شروع کیا تھا۔ یہ واقعی ہمارا ذاتی نقصان ہے'۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
دیدار کریم نے کے کے کا مقبول گانا 'بیتے لمحے' کا ایک کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ 'کے کے کے سب سے خوبصورت گانوں میں سے ایک ہے۔ لیجنڈ! یہ آواز پاکستان اور ہندوستان میں آنے والی دہائیوں تک بلند رہے گی'۔
گانے کے الفاظ ہیں:
آج بھی جب وہ پل مجھ کو یاد آتے ہیں، دل سے سارے غموں کو بھلا جاتے ہیں۔
درد میں بھی یہ لب مسکرا جاتے ہیں، بیتے لمحے ہمیں جب بھی یاد آتے ہیں ۔۔۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4













