سدھو موسے والا: ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جسم پر گولیوں کے 25 نشان

سدھو موسے والا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پنجابی گلوکار اور ریپر سدھو موسے والا کی پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق اُن کے جسم پر گولیوں کے 25 نشانات پائے گئے ہیں۔

اس سے قبل مانسا کے ایس ایس پی گورو تورا نے سدھو موسے والا کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے جسم پر چار مقامات پر گولیوں کے نشانات پائے گئے ہیں۔ سدھو موسے والا کو اتوار کی شام نامعلوم افراد نے گولیوں سے نشانہ بنایا تھا۔

سول سرجن ڈاکٹر رنجیت سنگھ نے بی بی سی کے نمائندے اروند چھابڑا کو بتایا کہ ’فائرنگ کے واقعے کے بعد سدھو موسے والا سمیت تین لوگوں کو ہسپتال لایا گیا تھا۔ سدھو ہسپتال لائے جانے سے قبل ہلاک ہو چکے تھے۔ باقی زخمیوں کو پٹیالہ میں راجیندر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ سدھو کو سینے اور ٹانگ میں گولیاں ماری گئی ہیں۔'

انگریزی اخبار 'دی ہندوستان ٹائمز' نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گولی لگنے سے سدھو موسے والا کی دائیں کہنی ٹوٹ چکی ہے۔

ایک اہلکار نے اخبار کو بتایا ہے کہ پنجابی گلوکار کو سب سے زیادہ گولیاں سینے اور پیٹ میں لگیں ہیں جبکہ دو گولیاں دائیں ٹانگ میں لگی ہیں۔

ذرائع کے مطابق جائے واردات سے تین مختلف ہتھیاروں کی گولیوں کے 30 خالی شیل ملے ہیں۔ حملے کے مقام سے ملنے والے یہ شیل نائن ایم ایم، سیون پوائنٹ سکس ٹو ایم ایم اور پوائنٹ تھری زیرو ایم ایم کے ہیں۔

موسے والا کی میت کو ہسپتال کے مردہ خانے میں ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنموسے والا کی میت کو ہسپتال کے مردہ خانے میں ہے

سدھو موسے والا کی لاش اس وقت مانسا کے سول ہسپتال کے مردہ خانے میں رکھی گئی ہے۔ مانسا کے ڈپٹی کمشنر جسپریت سنگھ کا کہنا ہے کہ ان کی آخری رسومات منگل کی صبح ادا کی جائیں گی۔

اس کے ساتھ ہی پنجاب کی بھگونت مان حکومت نے قتل کی عدالتی تحقیقات کی ذمہ داری پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے ایک موجودہ جج کو سونپی ہے۔

تاہم کانگریس نے مطالبہ کیا کہ سی بی آئی یا این آئی اے اس واقعہ کی تحقیقات کرے۔ سدھو موسے والا نے گذشتہ سال دسمبر میں کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی اور مانسا سے اسمبلی انتخابات میں قسمت آزمائی کی تھی جس میں وہ عام آدمی پارٹی کے امیدوار سے ہار گئے تھے۔

بی جے پی سے تعلق رکھنے والے سابق رکن اسمبلی مجیندر سنگھ سرسا نے لکھا: ’ہم حکومت پنجاب کو پنجاب کے حالات کے بارے میں متنبہ کر رہے ہیں۔ میں بھگونت مان کے خلاف وزیر اعلی کی اپنی ڈیوٹی نہ نبھانے کے لیے ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں کہ اس میں سدھو موسے والا کی جان گئی ہے۔ بھگونت مان کے ساتھ اروند کیجری وال کے خلاف بھی تعزیرات ہند کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ چلانا چاہیے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

اس سے قبل انھوں نے پنجاب کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کل ہی عام آدمی پارٹی کی حکومت نے سماجی سیلبریٹیز کی سکیورٹی ہٹالی لی تھی اور آج ہی معروف گلوکار اور کانگریس پارٹی کے رکن کو نامعلوم افراد نے قتل کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

اتراکھنڈ پولیس کی سپیشل ٹاسک فورس اور پنجاب پولیس کی ٹیم نے دہرادون کے شملہ بائی پاس روڈ سے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا ہے۔

اس قتل میں مشتبہ کردار کے لیے گینگسٹر لارنس بشنوئی کا نام زیر بحث ہے۔ بشنوئی نے دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں عرضی داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں خدشہ ہے کہ پنجاب پولیس ان کا انکاؤنٹر کر سکتی ہے۔ تاہم عدالت نے ان کی درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

سدھو موسے والا

،تصویر کا ذریعہAni

سدھو موسے والا کی مقبولیت میں سنہ 2018 میں اس وقت اضافہ ہوا جب گن کلچر سے متعلق ان کے کئی گانے سامنے آئے۔ سدھو موسے والا کی والدہ چرنجیت کور موسا گاؤں کی سرپنچ ہیں۔ سرپنچ کے انتخابات کے دوران سدھو موسے والا نے اپنی والدہ کی کامیابی کے لیے بھرپور مہم چلائی۔

سدھو موسے والا نے سردار چیتن سنگھ سروہتکاری ودیا مندر مانسا سے 12ویں جماعت تک نان میڈیکل کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے گریجویشن کیا اور بعد میں کینیڈا میں ایک سالہ ڈپلومہ بھی کیا۔