بالی وڈ ڈائری: شاہد کپور کا کامیاب فلم کا فارمولا، کشمیر فائلز کے بعد اب دلی فائلز کا اعلان

،تصویر کا ذریعہSUJIT JAISWAL
- مصنف, نصرت جہاں
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
زندگی کی خوبصورتی یہی ہے کہ وہ وقت کے ساتھ بدلتی اور نئے روپ لیتی رہتی ہے اور اگر آپ زندگی یا وقت کے ساتھ خود کو یا اپنی سوچ کو نہ بدلیں تو نقصان آپ کا ہی ہے۔
یہ کہنا ہے اداکار شاہد کپور کا جو اپنی نئی فلم 'جرسی' کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ شاہد نے 23 سال میں اپنے فلمی کریئئر کے آغاز سے لے کر اب تک ہر طرح کے اور رنگ کے کردار ادا کیے ہیں۔ چاہے وہ فلم ’ویواہ‘ کا شرمیلا پریم ہو یا فلم حیدر کا انٹینس کردار ہو۔ شاہد نے ہر کردار کو پوری شدت سے نبھایا ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کرداروں کو دہرانے میں یقین نہیں رکھتے کیونکہ اپنے ہی کام کو دیکھ کر اسے دوبارہ کاپی کرنے کا رجحان عام ہے لیکن یہ کامیابی کا نہیں بلکہ ناکامی کا فارمولا ہے کیونکہ ایک ہی چیز بار بار جادو نہیں جگا سکتی آپ کو ہر بار کچھ نیا کرنے کی خواہش ہونی چاہیے۔
شاہد کا کہنا تھا کہ ان کی فلم کبیر سنگھ بہت کامیاب رہی لیکن وہ اب ایسا کردار نہیں دہرانا چاہتے بلکہ کچھ نیا کرنا چاہتے ہیں۔ شاہد کپور کا اشارہ کہیں سیکوئلز بنانے کی جانب تو نہیں حالانکہ ابھی تک تو یہ فارمولا کامیاب ہی لگ رہا ہے چاہپے 'دبنگ' ہو یا 'کک 'یا پھر 'ٹائیگر' سیریز۔
یہ اور بات ہے کہ ایسی فلموں کی اپنی آڈینس یا مداح ہوتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSUJIT JAISWAL
شاہد کا کہنا تھا اب ان کی عمر 40 سال ہے اور وہ جانتے ہیں کہ آج کی نوجوان نسل کیا چاہتی ہے۔
’آج کی نوجوان نسل جن میں میری 27 سالہ بیگم میرا راجپوت 26 سالہ بھائی ایشان کھٹر بھی شامل ہیں۔ انھیں اچھی کہانی اور اس کا اچھا ٹریٹمنٹ چاہیے کیونکہ یہ نو فِلٹر والی جنریشن ہے جسے اچھا کونٹینٹ چاہیے ،فلم کو مارکیٹ دیکھ کر بنانا کہ اس وقت کونسی کہانی یا کس طرح کی فلم چلے گی یہ ٹرینڈ عجیب ہے۔‘
کشمیر فائلز کے بعد اب دہلی فائلز بنانے کا اعلان
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہKashmir Files
بازار میں کیا بک سکتا ہے یہ دیکھ کر فلم بنانے والوں کی تعداد اب بڑھتی جا رہی ہے جن میں سے ایک فلسماز وویک اگنی ہوتری بھی ہیں۔
انڈیا کی حکمران جماعت بی جے پی کی حمایت اور تعریف کی ہوا پر سوار کشمیر فائلز کی کامیابی کے بعد اب فلسماز وویک اگنی ہوتری نے 'دلی فائلز' بنانے کا اعلان کیا ہے۔ ٹوئٹر پر اپنے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے وویک نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جو 'کشمیر فائلز ' کا حصہ تھے۔
کم بجٹ سے بننے والی اس فلم نے جہاں دو سو کروڑ کا کاروبار کیا تھا اور حکمران جماعت نے کھل کر اس فلم کی حمایت کی تھی وہیں اس فلم پر شدید تنقید بھی کی گئی تھی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
یہ فلم انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی مسلح شورش سے متاثر ہو کر 1990 کے دوران وادی چھوڑنے والے کشمیری پنڈتوں کی کہانی بیان کرتی ہے تاہم اس فلم پر مسلمانوں کے ساتھ ساتھ بعض کشمیری پنڈتوں کو بھی اعتراضات تھے۔
کچھ کا خیال تھا کہ فلم نے جن واقعات کا ذکر کیا ہے وہ رونما تو ہوئے ہیں لیکن اُن کی عکاسی نہایت مبالغے اور اشتعال کے ساتھ کی گئی ہے۔
خیال تھا کہ فلم سبھی کشمیری مسلمانوں کو دہشت گرد کے طور پیش کرتی ہے۔ غالباً اب وویک جی 2020 میں شمال مشرقی دلی میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات پر طبع آزمائی کی کوشش کرنے والے ہیں، یعنی شورشوں اور فسادات کی بھینٹ چڑھنے والے معصوم لوگوں کی مالی، اعصابی اور جسمانی تکلیفوں کو کیش کرنے کا ایک اور موقع ہے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہProdip Guha
کے جی ایف چیپٹر ٹو کی ریکارڈ توڑ کامیابی
ویسے اس وقت بازار میں ایک اور رجحان ہے اور وہ ہے بڑی اور عالیشان فلمیں بنانے کا ٹرینڈ جن میں سے ایک 'کے جی ایف، چیپٹر ٹو' ہے کننڑ زبان میں بنائی جانے والی اس تاریخی فلم کی اپنی پہلی قسط کی کامیابی کے بعد اس کی دوسری قسط اس ہفتے ریلیز ہوئی ہے اور حال یہ ہے کہ دنیا بھر کے ایک ہزار سنیما ہالوں میں ریلیز کے باوجود خاص طور پر جنوبی انڈیا کے سنیما مالکان کو نہ صرف اضافی سیٹیں لگانی پڑ رہی ہیں بلکہ اضافی شوز بھی کیے جا رہے ہیں۔
جنوبی انڈیا کے سپر سٹار یش کے ساتھ فلم میں سنجے دت اور روینا ٹنڈن اہم کرداروں میں ہیں اور اس فلم کو کئی زبانوں میں ڈب کیا گیا ہے
فلم کی کہانی کولار گولڈ فیلڈز یعنی سونے کی کانوں کے ارد گرد بُنی گئی ہے جو انڈیا کی ریاست کرناٹک کو کولار ضلع میں واقع سونے کی کانوں کا علاقہ ہے۔ اس فلم کے چیپٹر تھری کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے اسے کہتے ہیں جو بِکتا ہے وہی دکھتا ہے۔









