لتا منگیشکر: سروں کی ملکہ کی نور جہاں سے واہگہ پر ملاقات، جس پر دونوں طرف کے فوجی بھی روئے

،تصویر کا ذریعہProdip Guha
- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی
انڈیا کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ نہ تو کھلے عام روتے تھے اور نہ ہی کسی کا رونا پسند کرتے تھے لیکن 27 جنوری 1963 کو جب لتا نے نغمہ نگار پردیپ کا لکھا نغمہ ’اے میرے وطن کے لوگو‘ گایا تو نہرو اپنے آنسو نہیں روک پائے۔
گانے کے بعد لتا سٹیج کے پیچھے بیٹھی کافی پی رہی تھیں تبھی ہدایتکار محبوب خان لتا کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ پنڈت جی تمھیں بُلا رہے ہیں۔
محبوب نے لتا کو نہرو کے پاس لے جا کر کہا ’یہ رہیں ہماری لتا، آپ کو ان کا گانا کیسا لگا؟‘
اُنھوں نے کہا ’بہت اچھا۔ اس لڑکی نے میری آنکھیں نم کر دیں‘، یہ کہہ کر اُنھوں نے لتا کو گلے لگا لیا۔
اس کے بعد اس گانے کا ٹیپ ریڈیو چینل وودھ بھارتی کو پہنچایا گیا اور میوزک کمپنی ایچ ایم وی اس کا ریکارڈ بنا کر اسے بازار میں لے آئی۔
دیکھتے ہی دیکھتے یہ گانا ملک بھر میں مقبول ہو گیا۔
سنہ 1964 میں جب نہرو ممبئی آئے تو لتا نے تقریب میں ان کے سامنے فلم ’آرزو‘ کا یہ گانا گایا ’اجی روٹھ کر اب کہاں جائیے گا‘، تب نہرو نے ان کے پاس ایک چٹ بھجوا کر ایک بار پھر ’اے میرے وطن کے لوگو‘ گانے کی فرمائش کی تھی اور لتا نے ان کی یہ فرمائش پوری کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہLATA MANGESHKAR IN HER OWN VOICE
سنہ 1949 میں انداز ریلیز ہونے کے بعد میوزک چارٹ کے پہلے پانچ نمبر پر لتا کے ہی گانے ہوا کرتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لتا جب 80 سال کی ہوئیں تو اُنھوں نے خود تسلیم کیا کہ راج کپور اور نرگس کی فلم ’برسات‘ کے بعد ان کا کریئر بلندیوں کو چھونے لگا تھا۔
بڑے غلام علی خان صاحب کا تبصرہ
دراصل سنہ 1948 میں فلم محل ریلیز ہوئی تو گیتا رائے کو چھوڑ کر لتا منگیشکر کے مقابلے کی تمام گلوکارائیں شمشاد بیگم، زہرہ بائی، پارل گھوش اور امیر بائی ایک ایک کر کے ان کے راستے سے ہٹتی چلی گئیں۔
سنہ 1950 میں جب اُنھوں نے ’آئے گا آنے والا‘ گایا تو آل انڈیا ریڈیو پر فلمی گانے بجانے کی اجازت نہیں تھی۔ انڈیا کے لوگوں نے پہلی بار ریڈیو گوا پر لتا کی آواز سنی تھی۔
گوا اس وقت پرتگال کے قبضے میں تھا۔ سنہ 1961 میں جا کر گوا پرتگال کے قبضے سے آزاد ہوا تھا۔
مشہور کلایسکی گلوکار پنڈت جسراج ایک دلچسپ قصہ سناتے ہیں۔ ’ایک بار میں بڑے غلام علی خان صاحب سے ملنے امرتسر گیا تھا۔ ہم باتیں ہی کر رہے تھے کے ٹرانسسٹر پر لتا کا گانا ’یہ زندگی اسی کی ہے جو کسی کا ہو گیا پیار ہی میں کھو گیا‘ سنائی دیا۔ خان صاحب بات کرتے کرتے ایک دم سے خاموش ہو گئے اور جب گانا ختم ہوا تو بولے کمبخت کبھی بے سُری ہی نہیں ہوتی۔ ان کے اس جملے میں ایک والد کا جیسا پیار بھی تھا اور ایک فنکار کا رشک بھی۔‘

،تصویر کا ذریعہNiyogi Books
لتا کے گانے کی شروعات پانچ سال کی عمر ہی ہوئی تھی۔ نسرین منی کبیر کی کتاب ’لتا ان ہر اون وائس‘ میں خود لتا بتاتی ہیں کہ ’میں اپنے والد دینا ناتھ منگیشکر کو گاتے دیکھتی تھی لیکن خود ان کے سامنے گانے کی ہمت نہیں کر پاتی تھی۔ ایک مرتبہ میرے والد اپنے ایک شاگرد کو موسیقی سکھا رہے تھے، اُنھیں کہیں جانا پڑ گیا تو اُنھوں نے کہا کہ تم ریاض کرو میں ابھی واپس آتا ہوں۔ میں بالکنی میں بیٹھی ان کے شاگرد کو سن رہی تھی میں اس کے پاس گئی اور اس سے کہا کہ تم یہ بندش غلط لگا رہے ہو پھر میں نے اسے گا کر سنایا اتنی دیر میں میرے والد آ گئے اور میں وہاں سے بھاگ گئی۔ اس وقت میں چار سے پانچ سال کی تھی اور میرے والد کو نہیں معلوم تھا کہ میں گاتی ہوں۔‘
یوں تو لتا منگیشکر نے کئی موسیقاروں کے ساتھ کام کیا لیکن غلام حیدر کے لیے ان کے دل میں خاص مقام تھا۔ اُنھوں نے سکھایا تھا کہ ’بیٹ‘ پر آنے والے بولوں پر تھوڑا زیادہ وزن دینا چاہیے اس سے گانا اٹھتا ہے جبکہ انل بسواس سے اُنھوں نے گاتے وقت سانسوں پر قابو پانا سیکھا تھا۔
ہریش بھیمانی اپنی کتاب ’لتا دیدی: عجیب داستاں ہے یہ‘ میں لکھتے ہیں ’انل اس بات پر زیادہ زور دیتے تھے کہ گاتے وقت سانس ایسی جگہ پر لینا چاہیے کہ سننے والے کو کھٹکے نہیں، اُنھوں نے بتایا تھا کہ دو لفظوں کے درمیان سانس لیتے وقت آہستہ سے چہرہ مائیکروفون سے دور لے جاؤ۔
تلفظ سدھارنے میں دلیپ کمار کا ہاتھ
لتا کی آواز کے سریلے پن کے ساتھ ساتھ اردو کے ان کے بہترین تلفظ نے بھی لوگوں کی توجہ حاصل کی اور اس کا سہرا ایک طرح سے دلیپ کمار کے سر جاتا ہے۔
ہریش بھیمانی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ’ایک دن انل بسواس اور لتا لوکل ٹرین سے گڑگاؤں جا رہے تھے۔ اتفاق سے اسی ٹرین میں باندرہ سٹیشن سے دلیپ کمار بھی چڑھے۔ اب انل بسواس نے اس نئی گلوکارہ کا تعارف دلیپ صاحب سے کروایا تو وہ بولے کہ مراٹھی لوگوں کے منھ سے دال بھات کی مہک آتی ہے وہ اردو کا بگھار کیا جانیں۔‘ اس بات کو لتا نے ایک چیلنج کے طور پر لیا۔‘
’اس کے بعد شفیع صاحب نے ان کے لیے ایک مولوی استاد کا بندوبست کیا جن کا نام محبوب تھا۔ لتا نے اُن سے اردو سیکھی۔‘

،تصویر کا ذریعہNiyogi Books
اس کے کچھ وقت بعد فلم ’لاہور‘ کی شوٹنگ چل رہی تھی جہاں جدن بائی اور ان کی بیٹی نرگس بھی موجود تھیں۔ لتا نے ’دیپک بغیر کیسے پروانے جل رہے ہیں‘ گانے کی ریکارڈنگ شروع کی۔ ریکارڈنگ کے بعد جدن بائی نے لتا کو بلا کر کہا ’ماشا اللہ کیا صفائی سے ’بغیر‘ کہا ہے، ہر کسی کا اتنا اچھا تلفظ نہیں ہوتا بیٹا۔‘
محبوب خان کو فون پر ’رسِک بلما‘ گا کر سنایا
لتا کی آواز کی ایک اور خاصیت تھی اور وہ تھی ان کی آواز کا دن بدن جوان ہوتے جانا۔
سنہ 1961 میں سائرہ بانو کے لیے اُنھوں نے ’کشمیر کی کلی ہوں میں‘ گایا تھا۔ اس وقت ان کا سر اور آواز جتنی جوان تھی اتنی ہی 12 برس بعد ان کے گانے ’بانہوں میں چلے آ، ہم سے صنم کیا پردہ‘ میں بھی لگی۔
ان کے بارے میں ایک کہانی مشہور ہے۔ سنہ 1958 میں محبوب خان امریکہ میں آسکر کی تقریب میں شرکت کے لیے لاس اینجلس گئے ہوئے تھے۔ اس تقریب کے دو دن بعد اُنھیں دل کا دورہ پڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیے
راجو بارتن لتا منگیشکر کی سوانح حیات میں لکھتے ہیں لتا نے اُنھیں ممبئی سے فون کیا، بات چیت کے دوران محبوب صاحب نے کہا کہ آپ کا گانا سننے کا بہت دل کر رہا ہے لیکن اس ملک میں ریکارڈ کہاں سے لاؤں۔ تب لتا نے ان سے پوچھا کون سا گیت سننا چاہتے ہیں، اور محبوب صاحب کی فرمائش پر لتا نے ’رسِک بلما‘ گایا۔
محبوب صاحب کے ٹھیک ہونے میں اس گانے کا کردار تھا یا نہیں یہ تو معلوم نہیں لیکن لتا کے لیے یہ گانا بہت خاص ہو گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAsha Bhosle instagram
لتا اور نور جہاں کی واہگہ سرحد پر ملاقات
لتا منگیشکر اور نور جہاں کے درمیان بہت گہری دوستی تھی ملک کی تقسیم کے بعد نور جہاں پاکستان چلی گئی تھیں۔
سنہ 1952 میں جب ایک بار لتا امرتسر گئیں تو ان کا دل چاہا کہ نور جہاں سے ملاقات کی جائے جو کہ صرف دو گھنٹے کی دوری پر لاہور میں رہتی تھیں۔ لتا نے نور جہاں کو فون کیا اور ایک گھنٹے تک بات ہوتی رہی بعد میں دونوں نے واہگہ سرحد پر ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا۔
مشہور موسیقار سی رامچندرن اپنی سوانح حیات میں لکھتے ہیں کہ ’میں نے اپنے تعلقات کا استعمال کر کے یہ ملاقات اس جگہ کروائی جسے فوج کی زبان میں ’نو مین لینڈ‘ کہا جاتا ہے۔
’جیسے ہی نورجہاں نے لتا کو دیکھا، وہ دوڑتی ہوئی آئیں اور لتا کو زور سے گلے لگا لیا۔ دونوں کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور ہم لوگ بھی جو یہ نظارہ دیکھ رہے تھے اپنے آنسو نہیں روک پائے، یہاں تک کہ دونوں طرف کے فوجی بھی رونے لگے۔‘
نور جہاں لتا کے لیے لاہور سے مٹھائی اور بریانی لائی تھیں، نور جہاں کے شوہر بھی ان کے ساتھ تھے اور لتا کے ساتھ ان کی بہنیں اوشا اور مینا بھی تھیں۔
محمد رفیع کے ساتھ ناراضگی
یوں تو لتا منگیشکر نے بہت سے گلوکاروں کے ساتھ گایا لیکن محمد رفیع کے ساتھ ان کے گانوں کو لوگوں نے بہت پسند کیا۔
رفیع کے بارے میں بات کرتے ہوئے لتا نے ایک دلچسپ قصہ سنایا تھا ’ایک بار میں اور رفیع صاحب سٹیج پر گا رہے تھے، گانے کی لائن تھی ایسے ہنس ہنس کے نہ دیکھا کرو تم سب کی طرف، لوگ ایسی ہی اداؤں پر فدا ہوتے ہیں‘، رفیع صاحب نے پڑھا ’لوگ ایسے ہی فداؤں پر ادا ہوتے ہیں‘ یہ سن کر لوگ قہقہے لگا کر ہنسنے لگے۔ رفیع صاحب بھی ہنسنے لگے اور میری بھی ہنسی چھوٹ گئی، نتیجہ یہ ہوا کہ ہم اس گانے کو پورا ہی نہیں کر پائے اور منتظمین کو پردہ گرانا پڑا۔‘

،تصویر کا ذریعہNiyogi Books
یہ بھی پڑھیے
مگر بعد میں لتا منگیشکر نے بتایا تھا کہ کس طرح ان کے اور محمد رفیع کے درمیان اس زمانے میں گلوکاروں کو ملنے والی رائلٹی کے بارے میں تلخ کلامی ہو گئی تھی اور لتا نے یہ کہہ دیا تھا کہ وہ محمد رفیع کے ساتھ نہیں گائیں گی۔
لتا اور محمد رفیع کے درمیان چار سال تک ناراضگی رہی اور پھر موسیقار سچن دیو برمن نے دونوں کی صلح کروائی۔
موسیقار سچن دیو برمن کا لتا کو پان دینا
سچن دیو برمن بھی لتا کو بہت پسند کرتے تھے۔ وہ جب بھی ان کے گانے سے خوش ہوتے تو ان کی کمر تھپتھپاتے اور اُنھیں پان پیش کرتے۔ سچن پان کے بہت شوقین تھے اور ان کے ساتھ ان کا پان دان بھی رہتا تھا لیکن وہ کسی کو بھی اپنا پان نہیں دیتے تھے اور اگر وہ کسی کو پان دیں تو سمجھ لیا جاتا کہ وہ اس انسان سے بہت خوش ہیں۔ لیکن ایک بار سچن دیو برمن اور لتا کی لڑائی ہو گئی۔
ہوا یوں کہ فلم ’مس انڈیا‘ میں لتا نے ایک گانا گایا۔ برمن نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لتا یہ گانا سافٹ موڈ میں گائیں۔ لتا نے کہا کہ ابھی وہ مصروف ہیں کچھ دن بعد گا دیں گی۔ کچھ دن بعد برمن نے کسی کو ریکارڈنگ کی تاریخ کے لیے لتا کے پاس بھیجا۔

،تصویر کا ذریعہFB @LATA MANGESHKAR
اس شخص نے واپس آکر ایس ڈی برمن سے یہ کہہ دیا کہ لتا نے گانے سے انکار کر دیا ہے جبکہ لتا نے کہا تھا کہ وہ بعد میں گائیں گی کیونکہ ابھی مصروف ہیں۔ برمن ناراض ہو گئے اور اُنھوں نے کہا کہ اب وہ لتا کے ساتھ کبھی کام نہیں کریں گے۔
کئی سال بعد دونوں کی غلط فہمی دور ہوئی اور پھر لتا نے فلم ’بندنی‘ کے لیے ’مورا گورا انگ لئی لے‘ گایا۔
کرکٹ کا شوق
لتا کرکٹ کی بہت شوقین تھیں۔ اُنھوں نے پہلی بار 1946 میں ممبئی کے سٹیڈیم میں انڈیا اور آسٹریلیا کے درمیان میچ دیکھا تھا۔ اُنھیں انگلینڈ کے اوول میدان میں انگلینڈ اور پاکستان کے میچ میں بھی دیکھا گیا تھا۔
لتا منگیشکر کے پاس گاڑیوں کی اچھی کلیکشن تھی۔ اُنھوں نے اپنی پہلی کار سلیٹی رنگ کی ہلمین خریدی تھی جس کے لیے اُنھوں نے اس زمانے میں 8000 روپے خرچ کیے تھے۔ اس دور میں اُنھیں ہر گانے کے لیے 200 سے 500 روپے ملا کرتے تھے۔
سنہ 1964 میں فلم ’سنگم‘ سے ہر گانے کے لیے اُنھیں دو ہزار روپے ملنے لگے تھے۔ اس کے بعد اُنھوں نے ہلمین بیچ کر شیورولے خریدی تھی۔

،تصویر کا ذریعہHindustan Times
لتا نے جب یش چوپڑا کی فلم ویر زارا کے لیے گانے گائے تو ان سے یہ کہہ کر پیسے لینے سے انکار کر دیا کہ وہ ان کے بھائی کی طرح ہیں لیکن جب فلم ریلیز ہوئی تو چوپڑا نے ایک مرسڈیز اُنھیں بطور تحفہ بھجوائی تھی۔
زندگی کے آخری دنوں تک لتا اسی کار میں سواری کرتی تھیں۔
ہیرے اور جاسوسی رسالے بہت پسند تھے
لتا کو ہیروں کا شوق تھا اور 1948 میں 700 روپے میں اُنھوں نے اپنے لیے ہیرے کی انگوٹھی بنوائی تھی جو وہ ہمیشہ پہنا کرتی تھیں۔ وہ سونے کی پائل پہنا کرتی تھیں۔
لتا کو جاسوسی رسالے پڑھنے کا بھی شوق تھا۔ ان کے پاس شرلاک ہومز کی کتابوں کا ذخیرہ تھا۔ مٹھائیوں میں لتا کو جلیبی پسند تھی اس کے علاوہ اُنھیں اندور کے دہی بڑے، گلاب جامن، گوا کری اور سمندری جھینگے بھی پسند تھے۔
ان کے ہاتھ کا مٹن پسندہ جس نے بھی کھایا وہ کبھی بھول نہیں پایا۔ وہ سموسے بہت پسند کرتی تھیں لیکن قیمے کے۔ اُنھیں لیموں کا اچار اور جوار کی روٹی بھی پسند تھی۔

،تصویر کا ذریعہPress Trust of India
سنہ 2001 میں بھارت رتن
آج انڈیا میں لتا منگیشکر کو پرستش کی حد تک پیار کیا جاتا ہے اور بہت سے لوگ ان کی آواز کو بھگوان کا سب سے بڑا تحفہ مانتے ہیں۔ سنہ 1989 میں لتا کو انڈین فلم انڈسٹری کا سب سے بڑا اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ اور سب سے بڑا شہری اعزاز بھارت رتن 2001 میں دیا گیا۔
لتا کو سب سے بڑا خراجِ تحسین مجروح سلطان پوری نے اپنی نظم میں پیش کیا تھا جس کا عنوان تھا ’لتا منگیشکر‘
جہاں رنگ نہ خوشبو ہے کوئی
تیرے ہونٹوں سے مہک جاتے ہیں افکار میرے
میرے لفظوں کو جو چھو جاتی ہے آواز تیری
سرحدیں توڑ کر اڑ جاتے ہیں اشعار میرے









