ہمایوں سعید: نیٹ فلکس کے شو ’دی کراؤن‘ میں پاکستانی اداکار کو ڈاکٹر حسنات خان کا کردار ملنے کی اطلاعات، سوشل میڈیا پر ردعمل

ہمایوں سعید

،تصویر کا ذریعہInstagram/HumayunSaeed

،تصویر کا کیپشنپاکستانی فلم سٹار ہمایوں سعید کو 2021 میں ملکی اعزاز پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا تھا

’ہمایوں سعید پاکستان میں مقیم پہلے اداکار بن گئے ہیں جو ایک نیٹ فلکس اوریجنل شو میں نظر آئیں گے۔ ہور کوئی ہمایوں سعید لائق خدمت؟‘

اداکار واسع چوہدری نے ٹوئٹر پر اعلان کیا ہے کہ پاکستانی فلم سٹار ہمایوں سعید برطانوی شاہی خاندان پر مبنی نیٹ فلکس سیریز ’دی کراؤن‘ میں لیڈی ڈیانا کے قریبی دوست اور پاکستانی نژاد برطانوی سرجن ڈاکٹر حسنات خان کا کردار ادا کریں گے۔

نیٹ فلکس یا ہمایوں سعید کی جانب سے تاحال ان اطلاعات کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے تاہم پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر اتوار سے مبارکباد کے پیغاموں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ واسع کے علاوہ اداکارہ ماہرہ خان اور فلمساز حسن زیدی بھی ٹوئٹر پر اس حوالے سے پیغامات دے چکے ہیں۔

برطانوی شاہی خاندان سے متعلق تاریخی واقعات پر مبنی سیریز ’دی کراؤن‘ کا پانچواں سیزن سنہ 2022 میں متوقع ہے جس میں پرنسز آف ویلز شہزادی ڈیانا کا کردار آسٹریلوی اداکارہ الیزابتھ ڈیبیکی نبھا رہی ہیں۔ اب تک اسے ’بہترین ڈرامے‘ کے لیے ایمی اور گولڈن گلوب ایوارڈز سے نوازا جاچکا ہے۔

اس شو میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم اور ان کے دورِ حکومت کو تشکیل دینے والے سیاسی اور ذاتی واقعات کو ڈرامائی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ خیال ہے کہ شو کے نئے سیزن میں 1990 اور 2000 کی دہائیوں کے دوران شاہی خاندان کے افراد کی زندگی دکھائی جائے گی۔

سنہ 1997 میں شہزادی ڈیانا کی کار حادثے میں موت کے بعد ڈاکٹر حسنات خان نے تسلیم کیا تھا کہ ان کی شہزادی ڈیانا سے شادی کے معاملے پر بات چیت ہوتی رہی تھی۔

ماہرہ خان، ہمایوں سعید، حسنات خان

،تصویر کا ذریعہTWITTER

’ہمایوں سعید سے بہتر ڈاکٹر حسنات کا کردار کوئی نہیں نبھا سکتا‘

پاکستان میں اکثر یہ بحث ہوتی رہی ہے کہ نیٹ فلکس اور ایمازون پرائم جیسے او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پاکستانی فنکاروں کے ساتھ ڈرامے اور فلمیں نہیں بناتے۔ اور موجودہ شوز یا فلموں کو کم ہی یہاں جگہ ملتی ہے۔

لیکن اب ہمایوں سعید کے حوالے سے ان اطلاعات نے پاکستانیوں کو خوش کیا ہے اور یہ خوشی سوشل میڈیا پر کی جانے والی پوسٹوں سے ظاہر ہوتی ہے۔

اداکارہ ماہرہ خان نے لکھا کہ ’آخر کار یہ بات سامنے آ ہی گئی۔ مجھے بہت فخر ہے اور میں پُرجوش ہوں۔ اس شو کی اور اس سٹار کی کیا ہی بات ہے۔‘

واسع چوہدری

،تصویر کا ذریعہTWITTER

سینیٹر فیصل جاوید خان نے ٹوئٹر پر جاری کردہ پیغام میں ہمایوں سعید کو ’نیٹ فلکس اوریجنل سیریز دی کراؤن میں کاسٹ ہونے والے پہلے پاکستانی اداکار‘ بننے پر مبارکبار پیش کی اور ان کے لیے نیک تمنائیں ظاہر کی ہیں۔

فلمساز اور صحافی حسن زیدی نے کہا کہ ہمایوں سعید ’اس سرجن ڈاکٹر حسنات خان کا کردار ادا کریں گے، جو لیڈی ڈیانا کی مبینہ 'سچی محبت' تھے جسے وہ بظاہر ’مسٹر ونڈرفل‘ کہتی تھیں۔۔۔ سیریز کے پبلیسسٹ پہلے ہی تصدیق کر چکے ہیں کہ کاسٹ لیک ہو گئی ہے۔‘

ہمایوں سعید کو مخاطب کرتے ہوئے صحافی عمیر علوی نے کہا کہ ’ڈاکٹر حسنات کا کردار ادا کرنے کے لیے آپ سے بہتر کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

ہمایوں سعید

،تصویر کا ذریعہTwitter

واسع چوہدری نے لکھا کہ ہمایوں سعید پاکستان کی سب سے زیادہ ہِٹ ہونے والوں فلم ’جوانی پھر نہیں آنی‘ اور سب سے زیادہ ریٹنگ والے ڈرامے ’میرے پاس تم ہو‘ کے ہیرو رہ چکے ہیں۔

اس سے قبل مقامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں ہوئی تھیں کہ ڈاکٹر حسنات کا کردار فواد خان نبھائیں گے۔

ڈاکٹر حسنات خان کون ہیں؟

پاکستان میں پیدا ہونے والے برطانوی ہارٹ سرجن ڈاکٹر حسنات لندن کے کئی ہسپتالوں میں کام کر چکے ہیں۔ ان کی ڈیانا سے پہلی ملاقات لندن کے رائل برمپٹن ہسپتال میں ہوئی تھی۔

ڈیانا کی موت پر تحقیقات کے دوران انھوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پرنس آف ویلز شہزادہ چارلس سے علیحدگی کے بعد ڈیانا اور ان کی شادی کے معاملے پر بات چیت ہوتی رہی تھی۔

ڈاکٹر حسنات خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سنہ 2008 میں ڈاکٹر حسنات نے شہزادی ڈیانا کی موت کی انکوئری کرنے والی تحقیقاتی جیوری کو تحریری بیان کے ذریعے بتایا کہ انھوں نے شہزادی ڈیانا کو نہیں چھوڑا تھا بلکہ شہزادی ڈیانا نے ان سے تعلق ختم کر لیا تھا کیونکہ وہ شادی کر کے پاکستان میں مستقل بسنا نہیں چاہتی تھیں۔

ڈاکٹر حسنات خان، جن کے شہزادی ڈیانا سے کئی برسوں تک تعلقات رہے، نے جیوری کو سنائے گئے بیان میں کہا تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ شہزادی ڈیانا کے ساتھ شادی کے بعد پریس ان کو برطانیہ میں چین سے نہیں رہنے دے گا اور اگر دونوں کی اولاد ہوئی تو وہ بچوں کو لے کر کہیں نہیں نکل سکیں گے۔

انھوں نے کہا تھا کہ اس وقت شہزادی ڈیانا پاکستان گئیں اور کرکٹر عمران خان (جو اب ملک کے وزیر اعظم ہیں) کی برطانوی بیوی جمائما خان سے مشورہ کیا جس کے بعد انھوں نے یہ تاثر لیا کہ شہزادی کے لیے پاکستان میں رہنا ممکن نہیں ہے۔

شہزادی ڈیانا کی کئی سہیلیوں نے جیوری کو بتایا تھا کہ شہزادی ڈیانا درحقیقت پاکستانی ڈاکٹر کے عشق میں مبتلا تھیں اور ڈوڈی الفائد کے ساتھ شہزادی کے تعلقات صرف ڈاکٹر حسنات کو اپنی طرف راغب کرنے کی ایک کوشش تھی۔

ڈاکٹر حسنات نے ہائی کورٹ کی تحقیقاتی جیوری کے سامنے براہ راست یا وڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے سے انکار کیا تھا اور جیوری کو ڈاکٹر حسنات کا وہ بیان پڑھ کر سنایا گیا جو انھوں نے شہزادی ڈیانا کی حادثے میں ہلاکت کے بعد لندن پولیس کو 2004 میں دیا تھا۔

ڈاکٹر حسنات نے کہا تھا کہ ان کا شہزادی ڈیانا سے نارمل جسمانی تعلق تھا اور ان کے پاس کوئی ایسی شہادت نہیں تھی جن کی بنا وہ کہہ سکتے کہ شہزادی ان کے ساتھ وفادار نہیں تھیں۔

اس بیان میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ شہزادی کے ساتھ کنزِنگٹن محل میں بھی رہے تھے اور ڈیانا کے بیٹوں ولیم اور ہیری سے مل چکے تھے۔

ڈاکٹر حسنات نے کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ شہزادی ڈیانا کی موت ایک المناک حادثے کا نتیجہ تھی۔ انھوں نے کہا تھا البتہ وہ یہ جان کر حیران ہوئے ہیں کہ حادثے کے وقت شہزادی ڈیانا نے سیٹ بیلٹ نہیں باندھ رکھی تھی حالانکہ وہ ہمیشہ اپنی حفاظت کا مناسب خیال کرتی تھیں لیکن شہزادی نے کبھی بھی اپنی حفاظت کو سر پر سوار نہیں کیا۔