آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان میں بدلتا انداز مزاح، ’ہم لطیفے بنا کر ہنستے ہیں، کامیڈی ہمارا سیلف ڈیفینس میکینزم ہے‘
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
’یہ پاکستان کا کلچر ہے ہمارے ساتھ جو برائیاں ہو رہی ہیں اس پر ہم لطیفے بنا کر ہنستے ہیں یہ ہمارا سیلف ڈیفینس میکینزم ہے۔‘
یہ کہنا ہے کہ علی گل پیر کا جو 12 برس سے ملک میں کامیڈی کے شعبے میں کام کر رہے ہیں۔
پاکستان میں بھی طنز و مزاح کی تاریخ پرانی ہے جس نے ادبی رسالوں اور کتابوں سے گزرتے ہوئے ریڈیو، ٹی وی، سٹیج اور ڈیجیٹل میڈیا تک کا سفر کیا ہے۔
ماضی میں ان مزاح نگاروں کے موضوع روز مرہ کے معاملات اور سیاست بھی رہے ہیں مگر کیا موجودہ کامیڈی کے موضوعات تبدیل ہوئے ہیں؟
اس حوالے سے علی گل پیر کا کہنا ہے کہ ’موضوعات تو تبدیل نہیں ہوئے۔ بجلی کا مسئلہ تھا، کرپشن تھی، مہنگائی تھی ان پر کامیڈی ہوتی تھی۔ اس وقت ففٹی ففٹی (پی ٹی وی پر خاکوں کا پروگرام) تھا اب بھی وہ ہی مسائل چل رہے ہیں صرف دو تین مسائل کا اضافہ ہو گیا ہے۔‘
ان کے مطابق ’ہمارے موضوعات کی معاشرے سے مشابہت ہے۔ اگر آپ کے گھر میں گیس نہیں آ رہی اور میں کوئی سیاست دان بن گیا، کوئی کریکٹر بن گیا اور اس پر کوئی مذاق کر دیا تو آپ اس پر ہنسیں گے۔‘
نطالیہ گل سٹینڈ اپ کامیڈین ہیں جس کے لیے وہ اپنا بی ڈی ایس کا پروفیشن بھی چھوڑ چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کامیڈین سماج کے مسائل کی کافی حد تک عکاسی کرتے ہیں۔
’میری حال ہی میں شادی ہوئی اور یہ ایک کووڈ شادی تھی اس پر میں نے ایک سٹینڈ اپ خاکہ بنایا جسے لوگ اپنی زندگی سے جوڑ سکتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’میں نے بتایا کہ شادی میں کسی نے شکایت نہیں کی کیونکہ بوٹیاں بہت زیادہ تھی اور لوگ صرف چودہ تھے۔ آپ سوچیں جب کسی شادی میں بوٹیاں کم ہو جائیں تو خاندان کافی ناراض ہو جاتا ہے۔ اس طرح کہانی بیان کرتے ہیں چاہے پھر آپ ایک جملہ بھی بولتے ہیں تو لوگ اس میں مشابہت پاتے ہیں۔‘
نطالیہ گل جیلانی کہتی ہیں کہ یہ کامیڈین پر منحصر ہے کہ وہ کس انداز میں بات کرنا چاہ رہے ہیں۔ ’سیاست یا سماج کے بارے میں۔ اگر مجھے سیاست کے بارے میں کم معلوم ہے تو میں اس کے بارے میں مزاح نہیں کروں گی لیکن مجھے کرکٹ کے بارے میں پتا ہے تو میں نے اس پر مزاح کیا ہے۔‘
20 گنا زیادہ ریسپانس
علی گل پیر کہتے ہیں کہ کامیڈی وہی ہے صرف میڈیم تبدیل ہو گیا ہے۔ ’پہلے ایک ہی سرکاری چینل ہوتا تھا جس میں ریاست سے منظور شدہ کامیڈی آتی تھی اس میں بھی شعیب منصور، انور مقصود اور معین اختر کی افزائش ہوئی اور وہ بڑے کامیاب بنے۔‘
مرتضیٰ چوہدری جیو نیوز، آج ٹی وی پر سیاسی طنز و مزاح کے پروگرام کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے 15 سال ٹی وی کیا اور آجکل ڈیجیٹل ویڈیو کرتے ہیں لیکن یہ بھی ریگولر نہیں ہے تاہم اس کا جو ریسپانس ہے وہ 20 گنا زیادہ ملتا ہے۔
مرتضیٰ کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈیجیٹل تک رسائی ہر کسی کے پاس ہے۔ سمارٹ فونز آ گئے ہیں جبکہ اس کے برعکس ٹی وی کے لیے وقت نکالنا پڑتا ہے۔ وقفہ آتا ہے تو تسلسل ٹوٹ جاتا ہے اس لیے لوگ ڈیجیٹل پر زیادہ چیزیں دیکھ رہے ہیں۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اگر آپ ڈیجیٹل پر ٹی وی کی چیز ڈالتے ہیں تو اس کا ریسپانس اتنا نہیں آتا کیونکہ دونوں کے کام میں فرق ہے۔ اس میں آپ کو ایک ایسی ٹیگ لائن دینی ہے، ایک ایسی بات کرنی ہے کہ دیکھنے والا آپ کی طرف آ جائے پھر آپ نے اس کو گرفت میں رکھنا ہے۔ اس میں زیادہ ششکے بازی، گرافک بازی، آوازیں، ہیڈ لائن یہ سب کچھ دینا پڑتا ہے ٹی وی میں یہ معاملہ نہیں تو یہ مشکل ضرور ہے۔‘
سینسر نے ڈیجیٹل کو جنم دیا
مرتضی چوہدری کا کہنا ہے کہ ٹی وی پر رات کو پروگرام نشرر مکرر ہو تو کالیں آنا شروع ہو جاتی ہیں کہ آپ نے کیا بول دیا۔ وزیراعظم ہاؤس سے فون آ رہے ہیں تو اب ہمیں لگتا ہے کہ اب آپ کے پاس ایک ہی پلیٹ فارم ہے وہ ڈیجیٹل ہے۔
’ہم جیسے لوگ اس سینسر شپ سے گزر چکے ہیں۔ آج ہم اس وجہ سے ٹی وی نہیں کر پا رہے کیونکہ جس طرح کی سختی ہو رہی ہیں اس سے ایک صحافی بھی پریشان ہے، ایک طنز و مزاح والا بھی پریشان ہے۔ پچھلے دنوں وزیراعظم کی ایک تقریر سن رہا تھا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ آپ مائیک لے کر لوگوں کے پاس جاتے ہی کیوں ہیں؟ جب یہ بات ہوتو پھر آپ کے پاس ڈیجیٹل میڈیم ہی رہ جاتا ہے، سینسر نے ہی ڈیجیٹل کو جنم دیا ہے۔‘
خواتین سٹینڈ اپ کامیڈی کے میدان میں
برطانیہ میں جنم لینے اور امریکہ میں مقبولیت حاصل کرنے کے بعد سٹینڈ اپ کامیڈی نے برصغیر میں بھی قدم رکھا۔ انڈیا میں جب خواتین اس شعبے میں نظر آئیں تو پاکستان میں بھی اس کا رجحان بڑھا اور اس وقت ایک درجن سے زائد خواتین اس سے وابستہ ہیں جن مں نطالیہ گل بھی شامل ہیں۔
نطالیہ گل کہتی ہیں کہ یونان کے زمانے سے دیکھ لیں عورتوں کا صرف مذاق اڑایا جاتا تھا، اس وقت سے لے کر یہ لہر آئی ہے اور اب عورتیں کامیڈی کر رہی ہیں۔
’ہمیں دو قسم کے ریسپانس ملتے ہیں جب ہم ناظرین کے سامنے ہوتے ہیں اسی وقت ان کے قہقہوں سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ اس کے بعد سیلفی آ کر لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ چلیں جی فین تو بن گئے، اس کے علاوہ اگر آپ پوسٹ کریں تو لوگ اپنے کمنٹس میں بتاتے ہیں کہ انھیں پسند ہے کہ نہیں۔ اس میں ہر طرح کے تبصرے کے لیے ہمیں تیار رہنا پڑتا ہے۔‘
نطالیہ گل نے چند سال قبل سندھی سماج پر ایک سٹینڈ اپ کیا تھا جس پر انھیں شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا تھا اور کچھ دن وہ اس شعبے سے دور رہیں لیکن والد کی ہمت افزائی کے بعد دوبارہ میدان میں اتریں۔
نطالیہ کے مطابق ’جو لوگ ٹکٹ لے کر شو میں آتے ہیں انھیں تو پتا ہوتا ہے کہ سٹینڈ اپ کامیڈی کیا ہے۔ وہ کھلے دماغ سے آتے ہیں کہ انھیں صرف ہنسنا ہے۔ یہ ناظرین ہمارے لیے آسان ہوتے ہیں لیکن جب ہم اس مواد کو آن لائن پوسٹ کرتے ہیں اور عوام دیکھتی ہے تو کافی مرتبہ ان کے لیے یہ ہضم کرنا دشوار ہو جاتا ہے کیونکہ کئی لوگوں کو نہیں معلوم کہ یہ ایک شو ہے، ایک فارمیٹ ہے۔ کسی کی دل آزاری کرنے کی ہماری کوئی نیت و ارادہ نہیں ہوتا۔‘
سٹینڈ اپ کامیڈی میں بدکلامی
نطالیہ گل کہتی ہیں کہ ان کا مقصد ہوتا ہے کہ لوگوں کو ہنسائیں۔ ’ہم احتیاط کرتے ہیں کہ محکوموں کا مذاق نہ اڑائیں، خواجہ سراؤں کا مذاق نہیں کرنا۔ اس سے قبل ان کا مذاق اڑایا جاتا تھا جیسے جگت بازی میں تو چہرے کی بناوٹ پر مزاح کیا جاتا ہے۔ کالے منھ والے، چٹے منھ والے جیسے فقرے کسے جاتے تھے، اب ہم کسی کو موٹا تک نہیں کہہ سکتے۔‘
ان کے مطابق ’اگر آپ تھیٹر میں جائیں تو بیگم والے لطیفے جاری ہیں لیکن ہماری کمیونٹی کسی کو ٹارگٹ نہیں کرتی۔ اخلاقیات ہے لیکن گالیوں پر پابندی نہیں۔ میں اپنے اوپن مائیک میں اجازت دیتی ہوں لیکن جیسے بڑے فورم آرٹس کونسل وغیرہ وہاں گالی کا کوئی لفظ استعمال نہیں کر سکتے۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ ایک آرٹ ہے اور وہ آرٹ تبھی کہلائے گا جب اس پر تنقید ہو اور لوگوں کی رائے سامنے آئے۔‘
یہ بھی پڑھیے
مرتضیٰ چوہدری کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا دو دھاری تلوار ہے۔
’ٹی وی میں ایک ایڈیٹر ہوتا تھا، مواد ایڈٹ کرنے والا ہوتا تھا، سینسر پالیسی ہوتی تھی، ہر کسی کی ایک مہارت ہوتی تھی اور ایک چیز فلٹر ہو کر بہتری کی طرف جاتی تھی۔ اب بڑا مشکل کام ہے۔ آپ نے ایک چیز سوچی اور کسی سٹوڈیو یا سیٹ اپ میں ریکارڈ کی۔ کوئی سینسر یا ایڈٹ کرنے والا نہیں ہے۔ آپ نے کچھ ایسی باتیں بھی کر دیں جو نہیں ہونی چاہیے تھیں یہاں آپ سیلف سینسر شپ سے بھی آگے بڑھ گئے۔ اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔
’اب ہم جیسا کوئی بندہ ڈیجیٹل پر کوئی کلپ ڈال رہا ہے تو اس کو 20 مرتبہ سوچنا پڑتا ہے کہ کیا مجھے یہ ڈالنا چاہیے جو ٹی وی پر ہم نہیں سوچتے تھے کیونکہ ہمیں پتا تھا کہ یہ سوچنا ہمارا کام نہیں ہے۔‘
معیاری کام کی کمی
اقبال لطیف پاکستان ٹیلیویژن میں پروڈیوسر رہے ہیں جہاں انھوں نے ففٹی، ففٹی سمیت کئی مزاحیہ ڈرامے کیے اور اس کے بعد اے آر وائی پر مزاحیہ خاکوں کا پروگرام لوز ٹاک کیا جس میں انور مقصود کے سکرپٹ پر معین اختر پرفارم کرتے تھے۔
اقبال لطیف کہتے ہیں کہ ’جو نوجوان لکھ رہے ہیں ان کا پھکڑ پن کی طرف جانے کا رجحان زیادہ ہے۔ لوگ اپنے بچوں اور فیملی کے ساتھ بیٹھ کر ذو معنی جملوں کو برداشت نہیں کر پاتے۔ ہم جب لکھواتے تھے تو لکھاری کے سکرپٹ کا ماہرانہ جائزہ لیا جاتا تھا۔ آج کے دور میں چند ہی ہوں گے جو معیاری ہوں گے۔ ہنسانا ہر کوئی چاہتا ہے لیکن اچھے جملے لکھ کر اچھا رجحان دے کر جو لکھتا ہے اس کی بہت کمی ہے۔‘
موجودہ کامیڈین پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب دیکھنے کو کچھ نہ ہو اور جو بھی دکھایا جا رہا ہے وہ دیکھنے پر مجبور ہوں تو اس کو پسند بھی کیا جاتا ہے۔
’پاکستان میں ٹی وی کی تاریخ کے مطابق ٹی وی سرکاری ہو یا نجی پہلے کے ٹی وی میں فرق یہ تھا ہم کاروباری نقطہ نگاہ سے نہیں معیار کے اعتبار سے کام کرتے تھے۔ اب جو سودا بکتا ہے ہم وہی بیچنا چاہتے ہیں اس چکر میں ہم کافی چیزیں غیر معیاری کر جاتے ہیں۔‘
دوپہر کو ڈیلیوری بوائے شام کو کامیڈین
کراچی میں آرٹس کونسل سے لے کر مختلف آڈیٹوریمز اور لاہور میں الحمرا میں روایتی مزاحیہ سٹیج پروگرام ہوتے ہیں جبکہ آج کل کچھ کیفے سٹینڈ اپ کامیڈینز کو مدعو کرتے ہیں اور انھیں نجی دعوتوں میں بھی بلایا جاتا ہے۔
علی گل پیر کہتے ہیں کہ کراچی میں اس وقت 80 سے زیادہ سٹینڈ اپ کامیڈین ہیں جو شوقیہ طور پر کام کرتے ہیں۔ ’یہ ایسا کام نہیں جس سے آپ کے اخراجات چل سکیں۔ میں کچھ ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو ڈیلیوری بوائے کی ملازمت کرتے ہیں اور شام کو سٹینڈ اپ کامیڈی کرتے ہیں۔‘
’آپ سٹینڈ اپ کامیڈی کرتے ہیں۔ شو میں سو لوگ آتے ہیں، پانچ سو سے ہزار روپے ٹکٹ ہوتا ہے۔ وہ بھی اگر بڑے کامیڈین ہیں تو ایک لاکھ روپے کما لیے۔ وینیو کے ساتھ ففٹی ففٹی کا شیئر ہوتا ہے یعنی آپ کے پاس پچاس ہزار آئے۔ یہ تو وہ معروف کامیڈین ہیں جنھیں لوگ دیکھنے کے لیے ہزار روپے دیں گے۔ جو اوپن مائک پر پرفارم کر رہے ہیں وہ تو فری میں کرتے ہیں۔‘
مرتضیٰ چوہدری کا کہنا ہے کہ چینل پر تنخواہ ہوتی تھی آپ کا ایک فلو تھا، اگر پاکستان میں اگر کوئی دعویٰ کرے تو بڑی بات ہے کہ پیسے بنا رہا ہے۔
’آپ طنز تو کرتے ہی حکومت وقت کے خلاف ہیں یا جو طاقت ہوتی ہے اس کے خلاف لیکن ان طاقتوروں نے آج کل اپنے ڈیجیٹل میڈیا والے رکھے ہوئے ہیں۔ ہم جیسے لوگ اس جگہ نہیں۔ اس سے ظاہر ہے پیسہ نہیں بنے گا جو چینلز کے ذریعے بنتا تھا۔ حکومت نے جو پینل پر لوگ رکھے ہوئے ہیں اس میں آپ نہیں ہوتے، اس میں وہ ہوتے ہیں جو پروپیگنڈہ کر رہے ہوتے ہیں یا ایک سوچ بنا رہے ہوتے ہیں ان میں آپ کی جگہ نہیں ہوتی۔‘